Al-Risala · March 1986

The Concept of Morality in Islam

Al-Risala, March 1986, pp. 27–33

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مقالہ انشاء اللہ الرسالہ (انگریزی) میں شائع کر دیا جائے گا۔ کا نفرنس کی طرف سے جو دعوت نامہ موصول ہوا اس میں درج تھا کہ آپ اپنے بچوں میں سے کسی کو لانا چاہیں تو اپنے ساتھ لا سکتے ہیں چنانچہ میرے لڑکے ثانی اثنین بھی میرے ساتھ اس سفر میں شریک تھے۔

اس کا نفرنس کا نام اس کے ذمہ داروں نے (Assembly of the World's Religions)

یعنی عالمی مذاہب کی اسمبلی رکھا تھا۔ ہندوستان سے اس "اسمبلی" میں کئی درجن افراد شریک ہوئے جو ہندوازم ، جین ازم ، بدھزم ، سکھ ازم وغیرہ مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ہندوستان سے شریک ہونے والے دوسرے مسلمان ڈاکٹر سید اوصاف علی ڈائرکٹر اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد نئی دہلی ، تھے۔ وہ اسمبلی کی پلاننگ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ اس اعتبار سے غالباً یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی کہ اس میں دنیا بھر کے تمام چھوٹے بڑے مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے ۔ ۱۳ نومبر1985 کو ہم دہلی ایئر پورٹ میں داخل ہوئے اور اگلے دن ۱۴ نومبر کو آگے کے لیے ایئر پورٹ پر اتنا زیادہ وقت کیسے لگا۔ اس کا سبب ہوائی جہاز کا وقت تھا۔ ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت رات کو بارہ بج کر ۴۵ منٹ پر تھا۔ انگریزی کیلنڈر کے مطابق ۱۲ بجے رات کو ایک تاریخ ختم ہوتی ہے اور ۱۲ بجے رات کے فوراً بعد اگلی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ پر اگرچہ ہم صرف تھوڑی دیر رہے۔ مگر اسی تھوڑی دیر میں کیلنڈر کی ایک پوری تاریخ بدل چکی تھی ۔ زندگی ایک عجیب سفر ہے۔ اس میں کبھی ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک پہونچنے کے لیے لیے’’24گھنٹے‘‘ لگ جاتے ہیں۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تاریخ سے دوسری تاریخ تک کا سفر صرف چند لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔

ہندوستان سے امریکہ کا سفر بہت لمبا سفر ہے۔ ہوائی جہاز سے تقریباً ۲۰ گھنٹے۔ مزید یہ کہ ہوائی حادثات کی تاریخ میں ۱۹۸۵ سب سے زیادہ برا سال رہا ہے۔ اس سال اگست ۱۹۸۵ تک کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۲ ہوائی حادثات ہوئے ۔ ان میں مجموعی طور ۱۷۹۸ مسافر ہلاک ہوئے۔ پچھلے ۲۰ سال کے اندر ہوائی حادثات میں مرنے والوں کا اوسط سالانہ ۹۰۰ تھا۔ اس لحاظ سے ۱۹۸۵ کا اوسط تقریباً تین گنا زیادہ ہے ۔ ۲۳ جون ۱۹۸۵ کو اٹلانٹک کے اوپر ایئر انڈیا کا حادثہ خاص اسی راستہ میں ہوا تھا جس میں ۳۲۹ آدمی ہلاک ہو گئے۔ اگر چہ عام حادثات میں لوگوں کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ مگر ہیگ پروٹوکول کے مطابق ہوائی حادثہ میں ہلاک ہونے والے ہر مسافر کے پس ماندگان کو ۲۰ ہزار ڈالر دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ان حالات میں جب میں دہلی میں ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۰۴ پر بیٹھا تو ایسا محسوس ہوا گویا میں ایک پر خطر سفر پر روانہ ہو رہا ہوں۔ دل میں تھوڑی دیر کے لیے دہشت کا احساس ہوا۔

جان شیڈ (John Shedd) کا قول یاد آیا کہ جہاز بندرگاہ پر محفوظ ہوتا ہے مگر جہاز اس لیے نہیں کہ وہ بندر گاہ پر کھڑا رہے:

یہ جہاز بوئنگ ۷۴۷ تھا ۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا جہاز ہوتا ہے ۔ اس کے اندر آپ ایک سرے پر کھڑے ہوں تو آپ دوسرے سرے کے مسافر کو پہچان نہیں سکتے۔ ایسے ایک جہاز کی قیمت تقریباً پچاس کروڑ روپے ہوتی ہے۔ اس قسم کے جہاز زیادہ تر امریکہ میں بنائے جاتے ہیں۔ کی صنعت میں امریکہ آج سب سے آگے ہے۔ کسی جہاز پر خواہ ایئر انڈیا لکھا ہو یا ایئر پاکستان، سعودی ایئر لکھا ہو یا ایئرانی ایر بہر حال وہ امریکی کار خانہ کا بنا ہوا ہوگا۔

ہماری پہلی منزل بمبئی تھی ۔ جاتے ہوئے یہ جہاز دہلی ، بمبئی ۔ نیو یارک کے راستے سے جاتا ہے اور واپسی میں نیو یارک لندن ۔ دہلی واپس آتا ہے ۔ ہمارا یہ سفر ایک لحاظ سے " بمبئی " سے " بمبئی " کے لیے تھا ۔ ہندوستان میں جو حیثیت بمبئی کی ہے ۔ امریکہ کے اعتبار سے وہی حیثیت وہاں نیویارک کی ہے ۔ نیویارک گویا زیادہ بڑا بمبئی ہے ۔ چند سو سال پہلے نیویارک اور بمبئی دونوں یکساں طور پر سمندر کے کنارے کی دو معمولی بستیاں تھیں۔ مگر آج دونوں میں ترقی کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ بمبئی اگر ایک ملک کا اقتصادی مرکز ہے تو نیویارک ساری دنیا کا اقتصادی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمی ایک ساتھ سفر شروع کرتے ہیں ۔ مگر بعد کے حالات ایک کو آگے کر دیتے ہیں اور دوسرے کو پیچھے ۔

۴ نومبر کی صبح کو ہوائی جہاز دبئی کے ہوائی اڈے پر اترا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ بہت منظم اور سب سے پہلے ہم کو مسجد کی تلاش ہوئی۔ اوپر کی منزل پر پہونچے تو وہاں ایک کنارے چھوٹی سی خوبصورت مسجد موجود تھی ۔ اسی کے ساتھ نہایت صاف ستھرا حمام بھی تھا۔ ہم نے وضو کر کے سکون کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی۔

مسجد سے باہر نکلے تو خیال آیا کہ دبئی اور شارجہ میں کچھ لوگوں کو ٹیلیفون کیا جائے ۔ مقامی ٹیلیفون کرنے کی کوئی قیمت نہیں۔ مقامی کال یہاں فری ہے۔ چنانچہ ہم نے دبئی کے ایک صاحب (شیخ علی الہاشمی) کا نمبر ملایا۔ نمبر فوراً مل گیا اور بغیر کسی اختلال کے گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد ایک

ٹیلی فون شارجہ (شکیل احمد چیف انجینئر) کو کرنا تھا۔ شارجہ ٹیلی فون کرنے کے لیے مشین میں ایک درہم ڈالنا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس یہاں کا درہم موجود نہ تھا۔ شرطہ کے ایک عرب نوجوان محمد یوسف عبداللہ نے ہماری مشکل کو محسوس کیا۔ انھوں نے فوراً اپنی جیب سے ایک درہم نکالا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ لیجیے ۔ قاعدہ ہے کہ تین منٹ کے بعد ٹیلی فون پر روشن حروف میں لکھا اٹھتا ہے کہ مزید رقم ڈالیے ہم بات کر رہے تھے تو استاذ محمد یوسف عبداللہ دوسرا درہم ہاتھ میں لیے ہوئے کھڑے تھے کہ جیسے ہی نشان ظاہر ہو فوراً دوسرا درہم مقررہ سوراخ میں ڈال دیں۔ مگر ابھی نشان ظاہر نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے احتیاطاً دوسرا درہم بطور خود ڈال دیا۔

یہ دبئی کا حال تھا۔ دوسری طرف دہلی کا حال یہ ہے کہ ہم نے دہلی ایئرپورٹ سے گھر پر ٹیلی فون کرنا چاہا۔ دہلی میں مقامی ٹیلی فون کے لیے پچاس پیسے کا سکہ ڈالنا ہوتا ہے، ہمارے پاس روپیہ تھا، پچاس پیسے کا سکہ نہیں تھا۔ ایئرپورٹ کے کئی لوگوں اور دکانداروں سے کہا کہ وہ روپیہ لے کر پچاس پیسے کے دو سکے دیدیں مگر کسی نے کوئی دل چسپی نہ لی۔ بمشکل پچاس پیسہ کا سکہ حاصل کیا تو اب ٹیلی فون کے نظام کا حال یہ تھا کہ بار بار کوشش کرنے کے باوجود سلسلہ قائم نہیں ہوا اور بات نہ ہوسکی۔ ہے یہ فرق جو ایک ہی دنیا کے دو حصوں میں پایا جا رہا ہے۔

ہوائی کمپنیاں فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے خصوصی رعایتیں دیتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ رعایتیں بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً امریکہ کی ہوائی کمپنی (PAN AM) نے امریکی ہوائی اڈہ پر اترنے والے مسافروں کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ مخصوص قریبی مقامات پر انھیں ہیلی کا پٹر سے پہو نچاتی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

ایئر انڈیا کی ان فلائٹ میگزین (نمسکار نومبر۔ دسمبر ۱۹۸۵ میں ایک صفحہ پر ایئر انڈیا کے فرسٹ کلاس کا باتصویر اشتہار نظر سے گزرا۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ ایئر انڈیا اپنے فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے کیا خاص خاص سہولتیں مہیا کرتی ہے۔ ان میں سے ایک چیز اس کے الفاظ میں یہ تھی : A selection of the finest wines and liquor (p. 52)

یعنی بہترین اقسام کی منتخب شرابوں کی فراہمی۔ آزادی سے پہلے ہندوستان کے مجاہدین آزادی شراب کی دکانوں پر پکٹنگ کرتے تھے۔ حتیٰ کہ عربی مدارس کے مسلم طلبہ کی جماعت دہلی آتی تھی کہ یہاں شراب کی

دکانوں پر پکٹنگ کرے۔ یہ لوگ شراب کے خلاف مذہبی اور اخلاقی دلائل استعمال کرتے تھے۔ یہ ہے کہ اس عمل کا کوئی بھی تعلق شراب کے مذہبی مسئلہ سے نہ تھا۔ اس کا مقصد صرف انگریزی حکومت کو لوگوں کی نظر میں برا دکھانا اور اس کے خلاف عوامی نفرت پیدا کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی حکومت کے خاتمہ کے بعد اگر چہ ملک میں شراب کا رواج پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے مگر اب کوئی اس کے خلاف پکٹنگ کرنے والا نہیں۔ اس طرح کے سیاسی ذہن کے تحت جو تحریک چلائی جائے وہ صرف سماج کی برائیوں میں اضافہ پر ختم ہوتی ہے۔ خواہ اس کو کتنے ہی خوبصورت عنوان کے تحت شروع کیا گیا ہو۔ دبئی سے سات گھنٹہ مسلسل پرواز کرنے کے بعد ہمارا جہاز لندن پہنچا۔ یہ سفر بہت زیادہ اکتا دینے والا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر ایک ہزار سال پہلے کوئی شخص کہتا کہ وہ عرب سے انگلستان تک کا سفر سات گھنٹہ میں کرا دے گا تو لوگ اس کو عجوبہ سمجھتے اور جب وہ واقعہ لوگوں کو سواری میں بٹھا کر سات گھنٹہ میں عرب سے انگلستان پہنچا دیتا تو لوگوں کو یہ مدت اتنی کم معلوم ہوتی کہ وہ کہتے کہ ابھی ہم سواری پر بیٹھے تھے اور ابھی اتر گے۔ مگر آج تیز رفتار سواری کے دور میں سات گھنٹہ بہت زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ انسان اکثر اضافی اصطلاحوں میں سوچتا ہے۔ مگر اکثر وہ غلطی سے سمجھ لیتا ہے کہ وہ حقیقی اصطلاحوں میں سوچ رہا ہے۔

لندن ایئر پورٹ پر ایک گھنٹہ گزرا۔ یہاں کا ہوائی اڈہ بہت بڑا ہے۔ ہوائی اڈہ پر اندراجات انگریزی کے بعد عربی زبان میں نظر آئے۔ ہوائی اڈہ پر ایسا معلوم ہوا گویا یہاں انگریزی کے بعد دوسری زبان عربی ہے۔ یہاں ٹیلی فون کا نظام نہایت معیاری ہے۔ آپ ایئرپورٹ پر لگی ہوئی مشین میں رقم ڈال کر ملک کے کسی بھی حصہ میں براہ راست ٹیلی فون کر سکتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایک صاحب نے اسی طرح برمنگھم سے بات کی۔ لندن اور دہلی کے درمیان ڈائرکٹ ڈائلنگ ہے۔ چنانچہ ہم نے ایئر پورٹ پر ٹیلی فون کر کے دہلی سے بات کی۔ صرف ایک بار ڈائل کرنے میں لائن مل گئی۔ آواز اتنی صاف تھی گویا کہ بالکل قریب سے بات ہو رہی ہو، اس کے مقابلہ میں دہلی میں ٹیلی فون کا حال یہ ہے کہ ایک مرتبہ انگریزی اخبار میں لطیفہ شائع ہوا تھا۔ ایک شخص نے دہلی فون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا " دہلی کے نصف باشندے کنکشن کا انتظار کر رہے ہیں اور بقیہ نصف ڈائل ٹون کا" :

لندن سے جہاز روانہ ہوا تو اعلان ہوا کہ لندن سے نیو یارک تک کی دوری سات گھنٹہ میں پوری کی جائے سات گھنٹہ کا لفظ حوصلہ شکن تھا۔ کیوں کہ دبئی سے لندن تک کے سات گھنٹے بہت اکتا دینے والے ثابت ہوتے تھے۔ مگر حیرت انگیز طور پر یہ سفر بہت آسانی سے طے ہوگیا۔ ہم نیو یارک پہنچنے والے ہیں " کا اعلان سنائی دیا تو ایسا محسوس ہوا گویا سات گھنٹے صرف سات منٹ میں پورے ہو گئے۔ اسی کی وجہ یہ تھی کہ دبئی سے لندن تک کا وقت زیادہ تر جاگنے میں گزرا تھا۔ مگر جہاز جب لندن سے چلا تو ہمیں نیند آگئی اور تقریباً پورا سفر نیند کی حالت میں طے ہوا۔ یہاں تک کہ نیند اس وقت کھلی جب جہاز کے اناؤنسر نے اعلان کیا کہ " اپنی پیٹی باندھ لیں " نیند بھی کیسی عجیب نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے راحت و سکون کے لیے بنائی ہے ۔

نیو یارک کے جے ایف کے ائیر پورٹ میں داخل ہوئے تو وہاں دیوار پر ہر زبان میں " ویلکم " لکھا ہوا تھا۔ سواگتم خوش آمدید اور مرحبا کے الفاظ بھی لکھے ہوئے نظر آئے۔ اس طرح گویا نیو یارک کا ائیر پورٹ بزبان حال اعلان کر رہا تھا کہ آپ ایک انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر پہو نچ گئے ہیں ۔ ائیر پورٹ پر " اسمبلی آف دی ورلڈ ریلینجز " کے نمائندے بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوا بینرز لیے ہوئے موجود تھے۔ ان کی رہنمائی میں نیو یارک سے نیو جرسی کا سفر شروع ہوا۔ نیو جر سی اور نیو یارک کے درمیان تقریباً پچاس میل کا فاصلہ ہے۔ نیو جرسی اگر چہ ایک الگ علاقہ ہے تا ہم وہ " عظیم تر نیو یارک " کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔

نیو جرسی میں ایک بہت بڑا ہوٹل ہے جو آٹھ سو ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ یہ ریزورٹ (Resort) کے انداز میں پہاڑیوں اور سر سبز درختوں کے ماحول میں بنایا گیا ہے ۔ بڑی بڑی کا نفر نسیں اکثر اسی ہوٹل میں ہوتی ہیں۔ موجودہ کانفرنس کے لیے دنیا بھر سے ہر مذہب کے نمائندے بلائے گئے تھے۔ مجموعی تعداد تقریباً سات سو تھی ۔ کانفرنس کے دوران ایک ہفتہ کے لیے پورا ہوٹل ریزرو کر لیا گیا میرا قیام یہاں کمرہ نمبر ۴۲۲ میں تھا۔ ہوٹل کا نام و پتہ یہ ہے :

Americana Great Gorge Resort Route 517, Mc Afee, New Jersey 07428 U.S.A. کانفرنس کے منتظمین نے شرکاء کے لیے ہر قسم کا بہترین انتظام کیا تھا۔ مگر چوں کہ یہ ایک مذہبی

کانفرنس تھی، کانفرنس کی گائیڈ بک میں یہ الفاظ بھی لکھے ہوئے تھے:

Printed page