Al-Risala · March 1986

Alcoholic beverages will not be provided

Al-Risala, March 1986, pp. 33–45

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے بشر کار کے لیے شراب نہیں مہیا کی جائے گی۔ 1500ء تک امریکہ ایک بالکل نا قابل ذکر علاقہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس وقت تک امریکیوں کے پاس پہیہ دار گاڑیاں بھی نہیں تھیں۔ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ء میں کرسٹوفر کولمبس کی کشتی اتفاقاً امریکہ کے ساحل کولمبس ایک اسپینی باشندہ تھا اور ایک عرب ملاح کے ساتھ اٹلانٹک میں سفر کر رہا تھا کہ وہ امریکہ کی سرزمین میں پہونچ گیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یورپی باشندے امریکہ آنا شروع ہوئے ۱۵۴۵ء میں اسپینیوں نے شمالی امریکہ میں پہلا قلعہ بنایا۔ اس وقت جو لوگ یورپ سے امریکہ آئے ان ان کو قدیم امریکی باشندوں نے آسمانی لوگ (Men from the sky) کا نام دیا۔ ۱۶۰۷ء میں برطانی لوگ اٹلانٹک کو پار کر کے امریکہ پہونچے۔ انھوں نے ورجینیا میں اپنی پہلی آبادی قائم کی۔ اس وقت امریکہ کی زمین اتنی کم قیمت رکھتی تھی کہ منہٹن کے باشندوں نے صرف 24 ڈالر میں منہٹن کا پورا جزیرہ ڈچ کمپنی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ فرانسیسیوں نے یہاں کے باشندوں کو عیسائی بنانے کی مہم شروع کی۔ ابتد اء امریکہ مختلف یورپی قوموں کی شکار گاہ رہا۔ جس میں برطانی قوم کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اگست ۱۷۷۶ء کی جنگ کے بعد برطانیہ نے نیو یارک پر قبضہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد مزید علاقے اس کے قبضہ میں آتے رہے ۔ آزادی کے بعد ۱۷۸۹ء میں امریکہ کا پہلا دستور بنا۔ ۱۷۹۰ء میں پہلی بار امریکہ کی مردم شماری ہوئی اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کل آبادی تقریباً چار ملین تھی ۔ امریکہ قدرتی ذخیروں سے مالا مال ہے۔ چنانچہ اس کی دریافت کے بعد مختلف ملکوں کے لوگ کثرت سے آکر امریکہ میں بسنے لگے۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۰ء تک اس کی آبادی ۱۰۶ ملین تک پہونچ گئی۔ ان میں آٹھ ملین صرف انگریز تھے۔

یہ امریکہ کے لیے ایک ایڈوانٹیج بن گیا۔ کیوں کہ اس طرح سے جو افراد آئے وہ سب حوصلہ مند اور اعلیٰ صلاحیت کے لوگ تھے۔ چنانچہ امریکہ نے تیزی سے ترقی شروع کی۔ ۱۹۱۴ء کی جنگ عظیم میں امریکہ نے عالمی صنعتی طاقت کی حیثیت حاصل کر لی۔ اور دوسری جنگ عظیم نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنا دیا ۔

امریکہ میں مذہب کے اعتبار سے آبادی کی تقسیم حسب ذیل ہے ۔ رومن کیتھولک ، ۲۳ فی صد۔ یہودی فیصد آرتھوڈاکس ایسٹرن چرچ ۳ فی صد۔ بقیہ ایک فیصد۔ آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا سب سے بڑا شہر نیو یارک ہے۔

امریکہ کا اصل دین تجارت ہے۔ صدر کالوین کولج (Calvin Coolidge) نے کہا تھا کہ امریکہ کا کام تجارت کرنا ہے :

(The business of America is business)

مگر ہندوستان کے بنیا اور امریکہ کے بنیا میں یہ فرق ہے کہ ہندوستان کا بنیا صرف بنیا ہے اور امریکہ کا بنیا سائنٹفک بنیا ۔ اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی تجارت اس کے جدید ترین ہتھیار ہیں۔ ۱۹۴۸ میں امریکہ نے ۸۰۰ ملین ڈالر کا ہتھیار ایشیائی ملکوں کے ہاتھ فروخت کیا۔ امریکہ کی دلچسپی زیادہ تر بھاری صنعتوں میں ہے ۔ مگر جاپان کے تجربہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ " چھوٹی" صنعتیں بھی " بھاری صنعتوں کو شکست دے سکتی ہیں۔ مثلاً امریکہ بڑی بڑی قیمتی کاروں کے بنانے میں اجارہ داری حاصل کیے ہوئے تھا۔ جاپان نے چھوٹی کم خرچ کاریں بنانی شروع کیں۔ جاپان کو اس معاملے میں اتنی زبر دست کامیابی حاصل ہوئی کہ آج امریکہ کی سڑکیں جاپانی کاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ کوئی قوم خواہ کتنی ہی ترقی کر جائے اس کے اندر کوئی گوشہ خالی رہتا ہے۔ خالی گوشہ سے داخل ہو کر آپ اس کے اوپر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ہر برٹ ہوور (Herbert Hoover) نے ۱۹۲۸ میں کہا تھا کہ بہت جلد ہم خدا کی مدد سے امریکہ سے غریبی کا خاتمہ کر دیں گے۔ مگر اس کے بعد ۱۹۲۹ اور ۱۹۳۲ کے درمیان زبر دست تجارتی بحران (Depression) آیا۔ اس میں پانچ ہزار بنک بند ہو گئے۔ کار خانوں کا مال بکنا موقوف ہو گیا۔ امریکہ کی ایک تہائی آبادی کا یہ حال ہوا کہ وہ بے روزگاری کا شکار ہو کر رہ گئی۔ یہ اقتصادی بحران قوت خریداری نہ ہونے سے پیدا ہوا تھا کہ سامان خریداری نہ ہونے کی وجہ سے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ وہ عجیب و غریب صورت حال پیدا ہوئی جو اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہیں آئی تھی : People went hungry while fruit, vegetables and grain were in abundance. Houses were unheated while coal piled up in

لوگ بھوکے تھے۔ جب کہ پھل اور سبزی اور غلہ افراط کے ساتھ پایا جا رہا تھا۔ مکانات ٹھنڈے پڑے ہوئے تھے جب کہ پہاڑوں میں کوئلہ کا ڈھیر موجود تھا۔

آج بظاہر امریکہ میں خوش حالی ہے۔ مگر یہ خوش حالی سراسر مصنوعی ہے۔ امریکہ کی آبادی کا پچاس فی صد سے زیادہ حصہ بینکوں کا مقروض ہے۔ یہاں ہر آدمی کے پاس بینک کا کریڈٹ کارڈ اس سے وہ کوئی بھی چیز ادھار لے سکتا ہے ــــ کار، ٹیلی وژن مکان وغیرہ وغیرہ۔ اس سہولت کی وجہ سے ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنا معیار زندگی بڑھائے۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی حقیقی آمدنی سے آگے بڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔ وہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ قرض پر گھر بناتا ہے جو اکثر لکڑی کے ہوتے ہیں۔ وہ گھر کے اندر ہر قسم کے تعیش کے سامان جمع کرتا ہے۔ یہ تمام قرضے سودی قرضے نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا بیشتر حصہ بینکوں کا مقروض ہے۔ وہ ساری عمر ان کے سود ادا کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتا ہے۔

خود امریکی حکومت کا حال اس سے مختلف نہیں۔ ڈالر کی برتری قائم رکھنے کے لیے امریکی حکومت ڈالر پر بہت بڑھی ہوئی شرح سود دیتی ہے تاکہ لوگ اس کے بینکوں میں اپنا ڈالر جمع کریں۔ زیادہ سود کا لالچ دے کر امریکہ دنیا بھر کا ڈالر اپنے یہاں جمع کر لیتا ہے۔ اس طرح امریکی اقتصادیات میں زبردست کثرت نظر آتی ہے مگر یہ کثرت سراسر مصنوعی ہے۔ اگر دنیا بھر کے لوگ امریکی بینکوں سے اپنا ڈالر واپس لے لیں تو امریکہ اچانک دیوالیہ ہو جائے گا۔

15 نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ ہوٹل کے ایک مخصوص کمرہ میں اجتماع کے مسلم شرکار اکٹھا ہوئے اور جمعہ کی نماز ادا کی۔ ڈاکٹر عصفوری (Dr. Z. Asfoury) نے نماز پڑھائی۔ وہ مصری ہیں اور لندن میں رہتے ہیں۔ انھوں نے فرش پر کھڑے ہو کر صرف ایک خطبہ دیا۔ درمیان میں بیٹھے نہیں۔ عربی زبان کی اہمیت پر زور رہتا۔ انھوں نے کہا کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک زبان (عربی زبان) اختیار کر لینا چاہیے ۔ ایک خطبہ کے بعد انھوں نے نماز پڑھائی تو اس میں پہلی رکعت میں قل ھو اللہ کی تلاوت کی اور دوسری رکعت میں الم نشرح کی۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کی ۔ ہندوستان میں کوئی شخص اس طرح نماز پڑھائے تو تمام نمازی کہہ اٹھیں گے کہ نماز نہیں ہوئی، اس کو دہراؤ۔ مگر یہاں کوئی شخص کچھ نہ بولا۔ نماز ادا کرنے کے بعد کچھ لوگ سنتوں میں مشغول ہوگئے،

اور کچھ لوگ خاموشی سے باہر چلے گئے۔

۱۵ نومبر کی شام کو ”اسمبلی“ کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ جدید طرز کے وسیع ہال میں ۸۵ ملکوں کے آٹھ سو سے زیادہ افراد موجود تھے جو روئے زمین کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے مذاہب کی نمائندگی کرتے تھے: یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ۱۸۹۳ء میں (World's Parliament of Religions) عالمی مذاہب کا نفرنس شکاگو میں ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان سے سوامی دیویکا نند بحری سفر کرکے بڑی دشواریوں کے ساتھ شکاگو پہنچے تھے۔ وہ اس کانفرنس میں مدعو نہ تھے۔ محض ذاتی شوق سے وہاں گئے تھے۔ چنانچہ ان کو بڑی مشکل سے اس میں داخل ہونے اور تقریر کرنے کی اجازت ملی۔ نے اپنی تقریر کا آغاز اس لفظ سے کیا تھا کہ امریکہ کے بہنوں اور بھائیو : Sisters and brothers of America پونے سال پہلے سوامی دیویکا نند کا یہ اندازِ واقعہ کے مطابق تھا۔ کیوں کہ ۱۸۹۳ء کی کانفرنس میں زیادہ تر امریکہ کے لوگ شامل تھے۔ مگر موجودہ کانفرنس کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ ” امریکی بہنوں اور بھائیوں “ کی کانفرنس نہ تھی بلکہ وہ پورے کُرہ ارض کے تمام مذاہب کے نمائندوں کی کانفرنس تھی۔ چنانچہ اس کے صدر نے جب ”اسمبلی“ کا افتتاح کیا تو اس نے اپنی تقریر ان الفاظ سے شروع کی :

Sisters and brothers, from south and north, from east and west اس کانفرنس میں اول سے آخر تک صرف ایک زبان استعمال ہوئی اور وہ انگریزی تھی۔ کے عقائد، ان کے حلیے اور ان کے لباس ایک، دوسرے سے مختلف تھے۔ مگر سب ایک ہی زبان (انگریزی) بولتے تھے۔ اگر چہ لوگوں کے لہجہ میں کافی فرق تھا۔ مثلاً کوئی entity کو انٹا ئٹی کوئی your کو یووار۔ کوئی values کو فیلوز۔ کوئی modern کو ماڈرُن۔ those کو زوزو وغیرہ۔

انگریزی کا یہ استعمال انگریزی تہذیب کے غلبہ کی وجہ سے تھا۔ اولاً برطانیہ عظمیٰ نے انگریزی کو عالمی زبان بنایا۔ بیسویں صدی میں جب برطانیہ عظمیٰ نے عالمی طاقت کی حیثیت کھو دی تو امریکہ اس کی جگہ زیادہ بڑے پیمانہ پر عالمی طاقت بن چکا تھا۔ انگریزی زبان کا یہ عمومی استعمال ہر بناتے واقعہ

مسٹانہ کہ بر بنائے تعصب ۔ اگر ہم اس کو تعصب سمجھیں تو اس کے خلاف احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرتے رہیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کو ایک واقعہ سمجھیں تو انگریزی زبان کی یہ توسیع ہم کو ایک نعمت معلوم ہوگی۔ اس سے ہمارے اندر عمل کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ کسی ایک زبان کے ذریعہ دنیا بھر کے تمام انسانوں کو خطاب کیا جا سکے ۔ پوری کا نفرنس میں غالباً صرف ایک شخص تھا جو انگریزی زبان سے واقف نہ تھا۔ یہ افریقہ کے قبائلی مذہب کا پیشوا تھا۔ وہ اپنے مخصوص لباس میں آیا تھا۔ وہ اپنے کندھے پر برابر ایک خاص طرح کا کوڑا رکھے رہتا تھا۔ وہ اپنی مقامی زبان میں بولتا تھا اور ایک شخص اس کی گفتگو کا ترجمہ انگریزی زبان میں کرتا تھا۔ اس کے لیے ترجمان کا یہ استثنائی انتظام غالباً اس لیے کیا گیا تھا کہ مذاہب کی فہرست نامکمل نہ رہ جائے ۔ اس کا نفرنس کی منصوبہ بندی دو سال پہلے سے ہو رہی تھی۔ چنانچہ اس کی ایک ایک بات پہلے سے طے شدہ تھی۔ اجتماع کے بارہ میں چھوٹی بڑی تمام تفصیلات کا غذ پر مرتب کر کے مدعو حضرات کو بھیج دی گئی تھیں۔ ہر شخص کو پیشگی طور پر معلوم تھا کہ کس روز اس کو نیو یارک پہنچنا ہے۔ کس روز وہاں سے روانہ ہونا ہے اور اس درمیان میں اس کو کن کن کار روائیوں میں حصہ لینا ہے۔ اس سلسلہ میں منتظمین کی طرف سے اتنے خطوط اور کاغذات موصول ہوئے کہ ان کا ایک پورا فائل بن گیا۔ راقم الحروف کو اس کا دعوت نامہ چھ ماہ پہلے مل چکا تھا۔ میں نے بہت سی مسلم کانفرنسوں میں شرکت کی ہے مگر اتنا نظم اور اتنی مکمل منصوبہ بندی مجھے کسی مسلم کانفرنس میں نظر نہ آئی۔

اگر چہ شرکا، خاص طور پر مشرقی ممالک کے شرکا ر نظم کی پوری پابندی کا ثبوت نہ دے سکے ۔ مثال کے طور پر جن لوگوں سے مقالہ تیار کرنے کی فرمائش کی گئی تھی ان سے کہا گیا تھا کہ مقالہ کو جدید الیکٹرانک ٹائپ رائٹر پر دونوں طرف برابر سطروں(Both (Both side aligned) میں ٹائپ کر کے بھیجیں۔ چنانچہ راقم الحروف نے اپنا مقالہ عین اسی قاعدہ کے مطابق ٹائپ کراکر پیش کیا۔ مگر وہاں میں نے دیکھا کہ بہت کم لوگوں نے اس کی پابندی کی تھی۔ زیادہ تر مقالے عام طرز کے ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کر آئے گیے تھے جو ایک طرف برابر ہوتے ہیں اور دوسری طرف غیر برابر ۔

کی باتیں سنتے تھے۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ کہیں مناظرہ کی فضا پیدا نہیں ہو رہی تھی اور نہ کہیں متعصبانہ سلوک کا منظر دکھائی دیتا تھا۔ یہاں میں نے اسلام کے سوا دوسرے مذاہب کے لوگوں سے باتیں کیں۔ مگر کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ کبھی کوئی ناخوش گوار صورت حال سامنے نہیں آئی۔ یہ بالکل ایک نئی چیز ہے۔ یہ صرف دورِ جدید میں ممکن ہوا ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ سنجیدہ ذہن کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوں، اور کسی اشتعال کے بغیر ایک دوسرے کی باتیں سنیں۔ قدیم زمانہ میں اس طرح کی مذہبی یک جائی ممکن نہ تھی۔ اس صورت حال نے ہمارے لیے دین کے تعارف کا بالکل نیا امکان کھول دیا ہے، ایک ایسا امکان جو اس سے پہلے کبھی پایا نہ جاتا تھا۔

۱۵ نومبر کی شام کو صرف افتتاح کا پروگرام تھا۔ اس کے بعد پروگرام کی ترتیب یہ تھی کہ ہر روز بڑے ہال میں ایک عام اجتماع ہوتا جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات اس کے بعد حلقہ وار اجتماعات ہوتے۔ تمام لوگ بارہ موضوعات کے تحت بارہ حلقوں میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔ ہر حلقہ روزانہ اپنے اپنے موضوع پر بحث کرتا اور کسی متفقہ رائے تک بہو پچنے کی کوشش کرتا۔ میرا تعلق (Theme Group -12-A) سے تھا۔

اس اجتماع میں دنیا کے تمام مذاہب کے نمائندوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ افریقہ کے قبائلی مذہب کے نمائندے بھی تھے جو بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کے پیشوا اپنے عجیب و غریب عقائد کے تحت اپنے چہرہ کو گرم لوہے سے اس طرح داغتے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے ان کے چہرے پر اس کا نشان پڑ جاتا ہے۔ دوسری طرف اس میں ایسے مذاہب کے نمائندے بھی تھے جن کے پیشوا انتہائی جدید طرز پر رہتے ہیں۔ وہ رولس رائس کاروں پر سفر کرتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے ذاتی ہوائی جہاز ہیں۔ اس کانفرنس میں بت پرست بھی تھے اور خدا پرست بھی۔ ان میں روح کو پوجنے والے بھی تھے اور ایسے لوگ بھی تھے جو خدا جیسی کسی چیز کو سرے سے نہیں مانتے۔ چنانچہ اس اجتماع میں ایک طرف خدا اور مذہب کی باتیں سننے میں آتی تھیں اور دوسری طرف خدا اور مذہب کے خلاف باتیں بھی۔ ان میں سے چند جملے یہ ہیں:

Assembly of the World's Religions 'ADL AS A MAJOR OBJECTIVE OF ETHICS, MORALITY AND LAW IN ISLAM SOCIAL CHANGE AND MORAL QUESTIONS IS JEWISH ETHICS POSSIBLE? TRADITIONAL VALUES IN THE RELIGION OF MOSSI TRIBE "THE MOAAGA FAMILY"

WON BUDDHIST VIEW ON EQUALITY ETHICS AS A MEANS TOWARDS SELF-REALIZATION MORALITY, ETHICS AND VALUES COMPASSION AND BODHICITTA IN TIBETAN BUDDHISM THE ETHICAL FOUNDATION OF INTERRELIGIOUS OSUN AND YORUBA TRADITIONAL VALUES THE CONCEPT OF MORALITY IN ISLAM RELIGION AND MORALITY WITH SPECIAL REFERENCE "VALUES" IN RELIGION AND MORALITY MORAL REFLEXION AS HERMENEUTICAL: FROM THE TELEOLOGICAL TO THE HISTORICAL THE IMPORTANCE OF LEADERSHIP IN NURTURING THE GOOD SOCIETY: THE ISLAMIC PRESCRIPTION BUDDHIST ETHICS FOR WORLD PEACE MORALITY, MORALS AND ETHICS Dr. Anis Ahmad Dr. Gianni Ambrosio Dr. Elizabeth Amoah Dr. Shlomo Biderman Father Laurent Bilgho Dr. Pal - Khn Chon Dr. Abdullah Ciptoprawiro Mr. John Dickson Dasho Rigzin Dorji Venerable Sonam Gyaltsen Dr. Erik Hoogcarspel Chief Ogundiya Iroko Maulana Wahiduddin Khan Mr. Zillur Rahman Mollah Professor Adrian T. Peperzak Dr. Ramon C. Reyes Dr. Abdulaziz A. Sachedinā Mr. Nimal Samarasundera Bandit Chintaman Sewkannan Ch ETHICS OF THE BHAGAVAD-GITA FOR THE MODERN WORLD RELIGION AND BIOETHICS Professor Fernando Tola Reverend Levi Chris Williams

The God of the theologians is dead. I am a Buddhist, there is no God for me. Life is nothing but a chemical process. There is no other God than Truth. Religious people are God-centered people. I have no belief in God, but I do profess faith in the spirit of Man. Man, ethically, is an end in himself. The main aim of religion is peace and happiness. اسلامی نقطۂ نظر سے اگر اس کانفرنس کا خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ بیشتر مذاہب کے نمائندوں نے یہ کہا کہ مذہب کا مقصد شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کے نمائندوں نے تقریباً متفقہ طور پر اسلام کی امتیازی صفت یہ بیان کی کہ اسلام صرف فرد کا دین نہیں، وہ پورے اجتماعی نظام میں مکمل انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ مجھے اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ میرے نزدیک اسلام کا اصل نشانہ فرد ہے کہ نہ اجتماع - اجتماعی تغیر اس کا بالواسطہ جزو ہے نہ کہ براہ راست ۔ تاہم میں نے اس سے اعراض کیا کہ کانفرنس میں دیگر مذاہب کے نمائندوں کے سامنے مسلمانوں سے اختلافی بحث کرنے لگوں۔ البتہ الگ سے ان کے سامنے اپنا نقطۂ نظر رکھنے کی کوشش کی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی مذکورہ تعبیر درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر ہی خود اسلام کا مقصد بھی ہے جس طرح وہ دوسرے مذاہب کا مقصد بتایا جاتا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان جو فرق ہے وہ کامل اور ناقص کا نہیں بلکہ مستند اور غیر مستند کا ہے۔ اسلام دین خداوندی کا محفوظ اور مستند ایڈیشن ہے جب کہ دوسرے مذاہب دین خداوندی کا بگڑا ہوا ایڈیشن۔ اصل مقصد کے اعتبار سے اسلام اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہیں۔ مگر مقصد کے حصول کے لیے آج صرف اسلام ہی قابل اعتبار ماخذ ہے نہ کہ دوسرے مذاہب۔ دوسرے مذاہب اپنی اعتبار یت کھو چکے ہیں۔ تحریف و تغیر کی وجہ سے دوسرے مذاہب میں اصل حقیقت بگڑ کر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔ ہندوازم انسانی شخصیت کی تعمیر معرفت خویش (Self realization) میں بتاتا ہے جب کہ اسلام کے نزدیک انسانی شخصیت کی تعمیر کا راز معرفت خدا (God realization) میں عیسائیت کے نزدیک انسانی شخصیت کی تکمیل اس میں ہے کہ آدمی رسول کو ابن اللہ کی حیثیت سے پائے جب کہ اسلام کے نزدیک انسانی شخصیت کی تکمیل اس میں ہے کہ آدمی رسول کو خدا کے پیغام رساں کی حیثیت سے پاسکے۔ بدھزم اخلاقی احساس پیدا کرنے کا سرچشمہ موجودہ دنیا

میں تلاش کرتا ہے جب کر اسلام کے نزدیک انسان کے اندر اخلاقی احساس پیدا کرنے کا ذریعہ آخرت کی جواب دہی کا یقین ہے۔ بعض مذاہب کے نزدیک انسانی شخصیت اس طرح بنتی ہے کہ وہ تمام مذاہب کو سچا سمجھے جب کہ اسلام کے نزدیک سچائی صرف ایک ہے اسی ایک سچائی کو دریافت کرکے وہ اپنی ذات کو ارتقاء کی طرف لے جا سکتا ہے۔ بعض مذاہب یہ سمجھتے ہیں کہ فرد موت وحیات کے لمبے مراحل سے گزر کہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، جب کہ اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے اور یہاں کے عمل کی بنیاد پر آدمی موت کے بعد اپنا اچھا یا بُرا انجام پاتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں تحریف کی وجہ سے خدا کی بات کچھ سے کچھ ہو گئی۔ جب کہ اسلام میں خدا کی بات اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں محفوظ ہے۔ انسان پورے اعتماد کے ساتھ اسلام کو اختیار کر سکتا ہے جب کہ دوسرے مذاہب کو اختیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی کتاب کے صحیح اور مستند ایڈیشن کی موجودگی میں اس کے ایسے نسخوں کو اپنے علم کا مآخذ بنایا جائے جس میں زمانہ کی دستبرد سے بے شمار غلطیاں ہو گئی ہوں۔

۱۸ نومبر کو ہم لوگ قافلہ کی صورت میں نیو جرسی سے نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔ آج کا دن نیویارک کے اہم مقامات کو دیکھنے کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ ایک شخص جس نے نیویارک نہ دیکھا ہو اس کے ذہن میں نیویارک کی عظمت کا افسانوی تصور ہوتا ہے ــــ تاریخ کی سب سے اونچی عمارتوں کا شہر، جدید صنعتی تمدن کا سب سے بڑا مرکز، و غیرہ۔ مگر جب ہم نے نیویارک پہنچ کر اس کو دیکھا تو اس کی عظمت کا طلسم ٹوٹ گیا وہ اس سے کم نظر آیا جتنا وہ خیالی طور پر محسوس ہوتا تھا۔ نیویارک صرف نیویارک تھا۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

نیویارک میں ہم نے اقوام متحدہ (United Nations) کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھا جان ڈی راکفلر نے نیویارک میں سمندر کے کنارے سترہ ایکڑ کی قیمتی زمین اقوام متحدہ کے لیے وقف کر دی ۔ اس پر اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کی عمارتیں بنائی گئیں۔ سترہ ایکڑ کا یہ علاقہ ایک آزاد علاقہ یہ صرف اس کے سکریٹری جنزل کے حکم کے تابع ہے۔

اقوام متحدہ کی بلند و بالا عمارتوں میں گھومتے ہوئے ہم اس کے ایک ہال میں پہنچے۔ اس وقت ٹرسٹسی کونسل کا اجلاس ہورہا تھا۔ وسیع ہال میں نیچے اور اوپر کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔

اور دفتری کارکنوں کے سوا تقریب سب کی سب خالی تھیں ، اسٹیج پر ایک مقرر تقریر کر رہا تھا جس کی ہلکی آواز خالی ہال میں گونج رہی تھی۔ وہاں سننے والے اتنے کم تھے کہ بے شمار کرسیوں کے درمیان ان تلاش کرنا پڑتا تھا کہ کچھ سننے والے بھی ہیں یا نہیں۔ اس کے اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ہال میں پہونچے جو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے خاص ہے ۔ آج یہاں نمیبیا کے مسئلہ پر اجلاس ہو رہا تھا۔ اسٹیج پر بیٹھا ہوا انگریزی میں تقریر کر رہا تھا جس کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔ امریکی وزیر خارجہ جارج شلز بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ مگر یہاں بھی یہ حال تھا کہ جنرل اسمبلی کے 160ممبر ممالک کی تعداد کے بقدر بھی سامعین موجود نہ تھے۔ سننے والے اتنے کم تھے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمام کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی وسیع عمارتوں کے باہر ایک بہت بڑا اسٹیچو لگا ہوا ہے ۔ یہ ایک طاقت ور آدمی ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار ہے اور دوسرے ہاتھ میں ہتھوڑا۔ وہ پوری طاقت سے بھاری ہتھوڑے کو تلوار پر مار رہا ہے ۔ آرٹ کا یہ نمونہ سوویت روس نے ۱۹۵۹ء میں اقوام متحدہ کو بطور عطیہ دیا تھا ۔ اس پر انگریزی میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں :

We shall beat our swords into plowshares ہم اپنی تلواروں کو توڑ کر ان کے ہل بنائیں گے ۔

24جون1945 کو پچاس ملکوں نے مل کر اقوام متحدہ کو قائم کیا تھا۔ اب اس کے ممبر ملکوں کی تعداد 160ہو چکی ہے ۔ ابتدائی عہد نامہ کے مطابق اس کا مقصد یہ تھا کہ دوسری جنگِ عظیم سے برباد شدہ دنیا کو از سر نو تعمیر کیا جائے ۔ دنیا کو امن ، تحفظ ، ترقی اور باہمی احترام کا ماحول دیا جائے۔ اور قوموں کا ایک عالمی نظام (International order) قائم کیا جائے۔ مگر اقوام متحدہ پر چالیس سال گزر گئے اور اب تک وہ کچھ بھی نہ کر سکا ۔ اس مدت میں قوموں کے درمیان پیدا ہونے والے سیکڑوں مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ کو بھی اس نے حل نہیں کیا ۔ آج اقوام متحدہ قوموں کی امیدوں کا مزار ہے نہ کہ قوموں کی امیدوں کی تکمیل کا قلعہ ۔ اقوام متحدہ کی رونق اب صرف ان لوگوں کے ذریعہ ہے جو اس کو دیکھنے کے لیے ہر روز بڑی تعداد میں آتے ہیں اور جن کی اکثریت اسکول کے بچوں پر مشتمل اگر یہ دیکھنے والے لوگ نہ آئیں تو شاید اقوام متحدہ کے ادارہ میں قبرستان کا سناٹا

نظر آئے ۔ تصویر میں تلوار کو توڑ کر ہلی بنانا کتنا آسان ہے اور عملی واقعہ میں تلوار کو توڑ کر بل بنانا کتنا مشکل ۔

نیویارک کی غیر معمولی وسعت کے لحاظ سے اس کی اندرونی سڑکیں تنگ نظر آئیں ۔ طرف انتہائی اونچی عمارتوں کی قطار کے درمیان اس کی سڑکیں گلیوں کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔ اپنی انتہائی اونچی عمارتوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ عمارتیں ضرورت کی پیداوار ہیں۔ لوگوں کے لیے افقی اضافہ (Horizontal growth) کا موقع نہ تھا اس لیے انھوں نے (Vertical growth) عمودی اضافہ کا عمارتی طریقہ اختیار کر لیا ۔ تاہم یہ طریقہ اس لیے ممکن ہو سکا کہ نیویارک کی زمین بیشتر چٹانی ہے ۔ دہلی کی جامع مسجد ایک چٹان پر بنائی گئی ہے ۔ یہی معاملہ نیویارک کا ہے۔ زمین کی سطح اگر چٹانی نہ ہوتی تو یہاں اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کرنا ممکن نہ ہوتا ۔ نیویارک کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ۱۰۲ منزلیں ہیں ۔ اس کی تعمیر میں ۶۰ ہزار ٹن لوہا استعمال ہوا ہے ۔ اس میں ۷۳۰ سیڑھیاں ہیں ۔ تاہم لفٹ کے ذریعہ آدمی صرف تین منٹ میں ۱۰۲ منزل پر بہو پہنچ جاتا ہے۔ البتہ اس کے لیے اسے تین لفٹ بدلنی پڑتی ہے ۔ ایک زمانہ میں امپائر اسٹیٹ بلڈنگ دنیا کی سب سے اونچی بلڈنگ سمجھی جاتی تھی ۔ مگر اب اس سے بھی زیادہ اونچی بلڈنگیں تیار ہو گئی ہیں۔ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت107منزلہ ہے ۔ شکاگو کے سیرس ٹاور (Sears Tower) کی ۱۱۰ منزلیں ہیں ۔

نیویارک کی اونچی بلڈنگوں کے بارے میں بہت سے لطیفے مشہور ہیں ۔ مثلاً ایک لطیفہ ہے ہے کہ ایک آدمی ایک اونچی بلڈنگ میں آیا۔ اس کو اوپر جانا تھا ۔ جب وہ بلڈنگ کی لفٹ کے پاس پہونچا تو وہاں یہ نوٹس لگا ہوا تھا :

Complaints department on the 45th floor. Lift out of order: please use the stairs. شکایت کا شعبہ ۴۵ ویں منزل پر ہے۔ لفٹ کام نہیں کر رہی ہے ۔ براہ کرم سیڑھیاں استعمال

۱۸ نومبر کی شام کو اسمبلی کی ایک نشست نیویارک شہر میں ہوئی ۔ یہ نشست میٹرو پولیٹن

باپٹسٹ چرچ میں تھی۔ یہاں اچاریہ سوشیل منی کمار اور ڈاکٹر جوزف پیک وغیرہ کی تقریریں ہوئیں۔ تقریر کے دوران زبردست تالیاں بجتی رہیں۔ کارروائی کے آخر میں "قرآت " کا پروگرام تھا۔ انگریزی انجیل کا ایک حصہ نہایت تجوید کے ساتھ پڑھا گیا۔ انجیل کی یہ قرآت جس شخص نے کی اس کا تعارف ساری دنیا میں انجیل کے بہترین قاری (Best Gospel singer of the world) کی حیثیت سے کرایا گیا۔ پہلے ایک شخص نے قرآت کی۔ اس کے بعد چار آدمیوں نے مل کر انجیل کا ایک حصہ کورس کی شکل میں پڑھا۔

اسمبلی کے اجتماع (امریکا نا ہوٹل) میں ہر مذہب کے نمائندے روزانہ اپنے مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ 19 نومبر کو منی سوشیل کمار نے جین مذہب کی مقدس کتاب کی تلاوت اسی طرح بدھ ازم ، ہندو ازم، سکھ ازم، یہودیت، زرتشت وغیرہ کی مقدس کتابیں پڑھی ان قرآتوں کو سن کر میرے ذہن نے ان کا مقابلہ قرآن کی قرآت سے کیا۔ اس مقابلہ میں قرآن کی قرآت اتنی اعلیٰ اور جاذب نظر آئی کہ دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ کتابوں کے الفاظ انسانی الفاظ ہیں اور قرآن کے الفاظ خدائی الفاظ۔ اس کی وجہ سے قرآن کے الفاظ میں ایک عجیب عظمت اور جاذبیت پیدا ہوگئی ہے جو کسی دوسری مذہبی کتاب میں موجود حقیقت یہ ہے کہ قرآن ساؤنڈ آرٹ (Sound art) کا ایک نادر نمونہ ہے۔ دنیا کی کوئی بھی کتاب اس معاملہ میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ موجودہ زمانہ میں ایک مؤثر دعوتی طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے ٹیپ تیار کیے جائیں جن میں مختلف مذہبی کتابوں کی قرآت ریکارڈ کی گئی ہو۔ ہر مذہب کی کتاب کی قرآت اسی مذہب کے قاری کے ذریعے کرائی جائے۔ اور پھر اس میں قرآن کی قرآت ایک اچھے قاری سے کرا کر شامل کی جائے۔ یہ کام اگر ویڈیو کیسٹ پر کرایا جائے تو اور بھی اچھا ہے تاکہ سننے والے یہ بھی دیکھیں کہ جس مذہبی کتاب کی قرآت ہے اس کو اسی مذہب کا ایک ماہر آدمی پڑھ رہا اگر اس طرح کے ویڈیو کیسٹ یا ریکار ڈ تیار کرائے جائیں اور ان کو جگہ جگہ سنایا جائے تو صرف زبان اور آواز کا تقابل لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کافی ہوگا کہ کون سی کتاب انسانی کتاب ہے اور کون سی کتاب خالص خدائی کتاب۔

Printed page