احادیث
Al-Risala, April 1986, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
اب ایک سوال ان احادیث کا ہے جو اس سلسلہ میں نقل کی جاتی ہیں اور جن میں صراحۃ ضلَع (پیسلی) کا لفظ آیا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں آدم و حوا کی تخلیق کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ بلکہ وہ عام عورتوں کے بارہ میں ہیں ۔ یعنی ان احادیث میں ہر ہر عورت کی تخلیقی نوعیت کا ذکر ہے نہ کہ مخصوص طور پر حضرت حوا کی تخلیقی نوعیت کا ذکر ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :
استوصوا بالنساء خیرا فانھا خلقت من عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیوں کہ وہ ضلع (التفسیر المظہری)
پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ۔
اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ عورت واقعہ پسلی سے پیدا کی گئی ہے ۔ کیوں کہ پورے فقرہ کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں ۔ حدیث کا مدعا عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کرنا ہے۔ لیے اس کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس اصل مدعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو ۔ " عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں " کا فقرہ یہاں مجازی معنوں میں ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا معاملہ پسلی جیسا معاملہ ہے ۔ وہ پسلی کی مانند ہیں۔ چنانچہ دوسری روایت میں خود حدیث میں یہ صراحت موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : المرأة كالضلع ان اقمتها علیہ وسلم نے فرمایا ۔ عورت پسلی کی مانند ہے۔ كسرْتَھا ( بخاری ، كتاب النکاح - مسلم ، کتاب تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو
بخاری و مسلم کی اس روایت میں واضح طور پر کا لضلع کا لفظ ہے ۔ یعنی یہ کہ عورت پسلی کی مانند ہے نہ یہ کہ وہ خود پسلی سے بنائی گئی ہے ۔ پسلی کی مانند ہونے کا مطلب کیا ہے ، یہ بھی صراحتہ حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے ۔
" عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے " اور " عورت پسلی کی مانند ہے " دونوں میں کوئی فرق یہ صرف ادبی اسلوب کا فرق ہے نہ کہ حقیقت کا فرق ۔ ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب تشبیہ میں شدت پیدا کرنا مقصود ہو تو " مثل " کا لفظ حذف کر دیتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص کی بہادری بتانے کے لیے کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیر کی طرح ہے ۔ اور جب اس بات کو زیادہ زور دے کر کہنا ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ " وہ شیر ہے "۔ جیسے میر انیس نے کربلا کے میدان کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے :