کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
Al-Risala, April 1986, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت کے بارہ میں نفسیات اور حیا تیات کا علم بتاتا ہے کہ وہ " صنف نازک " ہے۔ مرد کے مقابلہ میں کمزور اور نازک ہوتی ہے۔ اس کے مزاج میں انفعالیت ہے۔ چنانچہ کسی واقعہ سے وہ بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر آدمی جانتا ہے خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ ہر باپ جانتا ہے کہ بیٹے سے سختی کی جا سکتی ہے مگر بیٹی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا کیوں کہ وہ شدت کا تحمل نہیں کر سکتی ۔ چنانچہ خود کشی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ خودکشی کرتی ہیں ، وہ ایک معمولی واقعہ سے متاثر ہو کر خود کشی کر سکتی ہیں یا ذہنی اختلال کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں ۔
یہی وہ معلوم حقیقت ہے جس کو حدیث میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
سینے میں پسلی کی ہڈیاں کسی قدر خم دار ہوتی ہیں۔ ان کا خم دار رہنا ہی مصلحت کے مطابق ہے۔ کوئی ڈاکٹر ایسا نہیں کرتا کہ آپریشن کے ذریعہ ان پسلیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔ اسی معلوم واقعہ کی مثال دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ ان کی فطرت کے مطابق پیش آؤ۔ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھو کہ عورتیں فطری طور پر نازک اور جذباتی ہوتی ہیں۔ اللہ نے مخصوص مصالح کے تحت انھیں بالارادہ ایسا ہی بنایا ہے اس لیے تم ان کے ساتھ ہمیشہ نرم برتاؤ کرو۔ کوئی بات بتانا ہو تو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بتاؤ اگر تم ان کے ساتھ سختی کرو گے تو ان کی شخصیت اس کا تحمل نہ کر سکے گی ۔ ان کا دل اسی طرح ٹوٹ جائے گا جس طرح پسلی سیدھا کرنے میں ٹوٹ جاتی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار سفر میں تھے۔ کچھ خواتین اونٹ پر بیٹھی ہوئی چل رہی تھیں ساربان نے اونٹ کو زیادہ تیز چلانا چاہا ۔ اونٹ جب تیز چلتا ہے تو مسافر کا جسم کافی ہلنے لگتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساربان کو منع کیا اور فرمایا : رفقا بالقوارير ( شیشہ کے برتنوں کے ساتھ نرمی کرو)۔