Al-Risala · April 1986

جدید تحقیقات

Al-Risala, April 1986, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں خالص علمی طور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان بنیادی پیدائشی فرق پائے جاتے ہیں ، انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (۱۹۸۲) میں خواتین کی حالت (Status of women) پر ایک مفصل مقالہ ہے ۔ اس مقالہ کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے : Scientific studies of male-female differences (مرد اور عورت کے فرق کا علمی مطالعہ) مقالہ کے اس حصہ میں مقالہ نگار نے دکھایا ہے کہ جدید تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان عین پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے اس کے بعد وہ لکھتے ہیں :

With respect to personality traits, men are characterized by gre- ater aggressiveness, dominance, and achievement motivation, women by greater dependency, a stronger social orientation, and the tendency to be more easily discouraged by failure than men ( 19/907 ).

اوصاف شخصیت کے اعتبار سے ، آدمیوں کے اندر جارحیت اور غلبہ کی خصوصیت زیادہ پائی گئی ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں عورتیں سہارا چاہتی ہیں ۔ ان کے اندر معاشرہ پسندی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور ناکامی کی صورت میں مردوں کے مقابلہ میں وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہو جاتی ہیں ۔

اس سلسلہ میں موجودہ زمانہ میں بے شمار تجربات کیے گئے ہیں ۔ مثلاً امریکہ میں ایک تجربہ یہ کیا گیا کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا انتخاب کیا گیا ۔ دونوں کم عمر تھے ۔ اور ابھی بولنے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے ۔ تاہم ان کی جسمانی صحت یکساں تھی ۔ ان کو دو الگ الگ کٹہرے میں رکھ کر نکلنے کا دروازہ بند کر دیا گیا ۔ اس کے بعد لڑکی رونے چلانے لگی ، جب کہ لڑکے نے ادھر اُدھر ہاتھ مار کر اندازہ کرنا شروع کیا کہ کیا کسی طرف سے وہ نکلنے کا راستہ پا سکتا ہے ۔

اسی طرح ایک تجربہ میں پایا گیا کہ بارہ ماہ کی لڑکیاں کسی اجنبی کمرہ میں ہوں اور انھیں خوف زدہ کیا جائے تو وہ اپنی ماؤں کی طرف بھاگتی ہیں جب کہ اسی عمر کے لڑکے کچھ کرنے کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہے تو وہ اس وقت پینے سے رک جاتی ہے جب کہ کوئی شخص کمرے میں آتا ہوا نظر آئے ۔ اس کے برعکس ایک لڑکا کسی آنے والے پر کوئی دھیان نہیں دیتا وہ اپنا کام بدستور جاری رکھتا ہے ۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ عورت اور مرد کے تمام فرق ان کے جین کے اندر پائے جاتے ہیں نہ کہ سماجی حالات میں ۔ عورتوں کے اندر انفعالیت کا سبب ان کے مخصوص ہارمون ہیں ۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں یہ فرق پیدائش کے بالکل آغاز سے موجود رہتا ہے ۔ ٹائم میگزین ، نیویارک ، ( ۲۰ مارچ1972) )

اسلام دین فطرت ہے ۔ اس کے تمام احکام فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری تقاضوں کو قانونی صورت دینے ہی کا دوسرا نام شریعت ہے ۔ عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بھی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہیں ۔ نفسیات اور حیاتیات اور عضویات میں موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ مرد کے مقابلہ میں عورتیں فطری طور پر منفعل مزاج ہوتی مخصوص معاشرتی مصالح کی بنا پر خالق نے ان کو نسبتاً نازک پیدا کیا ہے ۔

یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کی رعایت اسلامی تعلیمات میں رکھی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو تا کہ وہ بے حوصلہ نہ ہوں ، تا کہ وہ دل شکنی سے محفوظ رہیں اور زندگی میں اپنے مخصوص فرائض کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں ۔ عورتیں لوہے کی مانند نہیں ہیں کہ ان پر ٹھونک پیٹ کا کوئی اثر نہ پڑے، وہ پسلی کی مانند ہیں۔ وہ فطرہ جیسی ہیں ویسی ہی انھیں رہنے دو۔ اگر تم ان کے ساتھ لوہے جیسا برتاؤ کرو گے تو تم ان کی شخصیت کو توڑ دو گے۔ سورہ نساء کی آیت (خلق منها زوجها) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے (حوا) کو بھی بنایا تا کہ دونوں میں موافقت رہے۔ ہوتا کہ دونوں دو الگ الگ جنس ہوتے ، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا۔ پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں مل کر مشترکہ جدوجہد سے تمدن کی تعمیر کریں ۔

حدیث (ضلع) میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں۔ اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : انی لاقوم في الصلوة اريد ان اطول فيها میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، یہ چاہتا فاسمع بكاء الصبي فاتجوز في صلاتي ہوں کہ اس کو لمبا کروں ، پھر میں بچہ کے رونے کی كراهية ان اشق على أمه آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، اس بخاری ، کتاب الصلوة ) اندیشہ کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا۔

Printed page