Al-Risala · April 1986

خدا کی سنت

Al-Risala, April 1986, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے حق کو قبول نہیں اس نے اس کے مقابلے میں سرکشی دکھائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سمندر میں غرق کر دیا گیا ۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے کتنے ہی باغ اور چشمے اور کھیتیاں اور آرام دہ مکانات اور عیش کے سامان جن میں وہ خوش رہتے تھے چھوڑ دیئے ۔ اللہ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے ۔ اور ان چیزوں کا وارث اللہ نے دوسروں (بنی اسرائیل) کو بنا دیا۔ پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ انھیں مہلت مل سکی۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی یعنی فرعون سے ۔ بے شک وہ سرکش اور حد سے نکل جانے والا تھا۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا والوں پر ترجیح دی۔ اللہ نے ایسا اپنے علم کی بنا پر کیا اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا۔ (الدخان ۲۵- ۳۴)

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا اتفاقی طور پر نہیں ہوتا۔ نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے دوسری قوم کے اوپر غالب آگئی۔ یہ تمام تر خدا کے علم کے تحت ہوتا ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلے کی بنا پر ایک کے لیے مغلوبیت کا اور دوسرے کے لیے غلبہ کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور یہ فیصلہ اس استحقاق کی بنا پر ہوتا ہے جو کسی قوم نے علم الہی کے مطابق اپنے لیے ثابت کیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جب ایک قوم غالب اور دوسری قوم مغلوب ہو جائے تو دونوں کو چاہیے کہ اس واقعہ کو وہ خدا کی طرف منسوب کریں نہ کہ کسی اور کی طرف۔ اگر یہ ذہن ہو تو دونوں صحیح راستہ پر قائم رہیں گے ۔ غالب قوم اپنے غلبہ پر خدا کا شکر ادا کرے گی نہ کہ وہ غلبہ کو اپنا کارنامہ سمجھ کر فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے ۔

دوسری طرف مغلوب قوم اگر مغلوب ہونے کے بعد غالب قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم شروع کر دے تو یہ اس کے لیے سراسر ایک غلط فعل ہوگا۔ کیوں کہ غالب قوم خدا کے علم اور فیصلے سے غالب ہوئی ہے نہ کہ محض اپنی سازشوں یا جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اس نے غلبہ پایا ہے۔ ایسی حالت میں مغلوب

قوم کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ان اندرونی خامیوں کو دور کرے جس کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ثابت ہوئی ہے۔ وہ خدا کی طرف متوجہ ہو نہ کہ مفروضہ ظالموں کی طرف۔ جب اصل کرنے والا خدا ہے تو دوسروں کے خلاف ہنگامہ کرنے سے کیا فائدہ ۔

یہ بات سادہ معنوں میں محض توجیہہ کی بات نہیں ہے بلکہ یہ وہ بات ہے جس پر قوموں کا مستقبل بنتا یہی وہ بات ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے ۔

یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ صحیح ذہن سے صحیح منصوبہ بندی وجود میں آتی ہے ۔ اور اگر ذہن غلط ہو تو منصوبہ بندی بھی غلط ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی جدید تاریخ اس کی نہایت واضح اور عبرت ناک مثال پیش کرتی ہے ۔

جدید دور میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے مغلوب ہو گئے ۔ کہیں براہ راست طور پر مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا اور کہیں بالواسطہ طور پر ۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں اکثر ملکوں میں غیر مسلم اقوام کا یہ براہ راست غلبہ بظاہر ختم ہو گیا ہے ۔ تاہم ان کا بالواسطہ غلبہ بدستور مزید شدت کے ساتھ باقی ہے ۔

اس صورت حال کے پیش آنے کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا۔ ساری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے جواب میں ایک ہی کام کیا ہے ۔ اور وہ ہے غیر مسلم اقوام کے خلاف چیخ پکار ، یا ان سے ٹکراؤ۔ تاہم ایک صدی سے بھی زیادہ مدت کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی لفظی چیخ پکار، فضا میں گم ہو گئی اور ان کی ٹکراؤ کی سیاست آخر کار صرف مزید بربادی پر ختم ہوئی ۔ مسلمانوں کو ان کی پرشور کوششوں کا اتنا بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا جتنا انھوں نے اپنے بچے ہوئے اثاثہ میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا تھا ۔

اس کی واحد وجہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔ یعنی غلط ذہن کی وجہ سے غلط منصوبہ بندی مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں غیر مسلم اقوام کے غلبہ کو صرف اس نظر سے دیکھا کہ یہ کچھ ظالم لوگ ہیں جو اپنی سازشوں اور جارحانہ کارروائیوں کے ذریعہ مسلمانوں کے اوپر غالب آگئے ہیں ۔ انھوں نے اس واقعہ کو خود غالب قوموں کا معاملہ سمجھا نہ کہ خدا کا معاملہ ، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا تھا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری توجہ غالب اقوام کے خلاف جھوٹی چیخ پکار اور جھوٹی لڑائیوں میں صرف ہو گئی ۔

اس کے برعکس اگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا ذہن قرآن کی روشنی میں بنا ہوتا تو وہ سمجھتے کہ

کے اندر یہ ہوتا ہے، تو وہ لوگوں کی طرف دوڑنے کے بجائے خدا کی طرف دوڑتے ہیں ۔ وہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے اپنی اندرونی اصلاح پر سارا زور لگا دیتے حقیقت یہ ہے کہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ہونے کی وجہ سے مسلمان مغلوب کیے گئے تھے۔ کی نظر میں استحقاق ثابت کر کے ہی وہ دوبارہ غالب حیثیت حاصل کر سکتے تھے۔ مگر مسلمان ہر وقت اس راز کو سمجھ نہ سکے ۔ ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں پست اور بے قیمت ہو کر رہ جائیں۔ اگر آپ نے الرسالہ کو صرف ایک بار پڑھا تو آپ نے الرسالہ کو نہیں پڑھا۔

اگر آپ الرسالہ کو پسند کرتے ہیں مگر آپ اس کو پھیلانے کی کوشش نہیں کرتے تو ابھی آپ الرسالہ کو پسند کرنے والے نہیں بنے ۔

الرسالہ کو بار بار پڑھیے ، الرسالہ کو دوسروں میں پھیلائیے ۔ اس کے بعد ہی آپ وہ حق ادا کر سکتے ہیں جو الرسالہ جیسے جریدہ کا آپ کے اوپر عاید ہوتا ہے ۔

سفرنامه امریکہ (دوسری قسط)

نیویارک کی ایک سڑک سے ہم رات کے وقت گزر رہے تھے۔ وہاں ایک روشن اشتہار نظر آیا۔ یہ جاپانی کار ٹویوٹا کا اشتہار تھا۔ یہ اشتہار انتہائی کامیاب اور انتہائی خوبصورت انداز میں بنایا گیا تھا۔ نیویارک کی سڑکوں پر امریکی کاروں (بیوک ، فورڈ وغیرہ) کے اشتہار بھی نظر آئے مگر وہ جاپانی اشتہار کے مقابلہ میں بہت پھیکے تھے۔ امریکی اشتہار محض اوسط درجہ کے اشتہار تھے جب کہ جاپانی اشتہار آرٹ کا بہترین نمونہ تھا۔

اسی طرح اقوام متحدہ میں ہم نے دیکھا کہ وہاں آنے والے زائرین کی رہنمائی کے لیے بہت سی خاتون گائیڈ مقرر ہیں۔ ہماری جماعت کے لیے جو گائیڈ متعین کی گئی وہ ایک جاپانی لڑکی تھی۔ قدر سرگرم تھی اور اس قدر کامیابی کے ساتھ شستہ انگریزی میں تمام چیزوں کا تعارف کرا رہی تھی کہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ انسان ہے یا کوئی مشین۔ جاپانی لوگوں کی یہ عام خصوصیت ہے کہ وہ جس کام کو کرتے ہیں اس کو اعلیٰ ترین معیار پر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے انھیں کوئی چیز موجودہ دنیا میں کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی ۔ قدرتی عطیات میں وہ سب سے کم ہوں ، خواہ بموں کی بارش سے انھیں کھنڈر بنا دیا گیا ہو۔ ہوٹل کی ایک منزل پر ایک خوبصورت بورڈ لگا ہوا تھا جس پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا : Assembly of the World's Religions یہاں نہایت سلیقہ کے ساتھ مختلف مذہبی کتابوں کی نمائش کی گئی تھی۔ اس میں اسلامی مرکز کی اردو ، عربی ، اور انگریزی مطبوعات بھی رکھی گئی تھیں ۔ بعض غیر مسلم صاحبان نے اس نمائش میں اسلامی مرکز کی کتابیں دیکھیں تو اس کے بعد وہ ہم سے ملے اور کتابوں کو حاصل کرنے کی خواہش

افریقہ ، امریکہ ، یورپ سے آئے ہوئے مسلمانوں کو انگریزی الرسالہ دکھایا گیا۔ اس کو بہت پسند کیا۔ یہ لوگ ان علاقوں میں جو دعوتی کام کر رہے ہیں اس کے لیے انھیں موزوں لٹریچر نہیں ملتا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ ہمارے دعوتی کام میں زبردست مددگار ثابت ہوگا۔ ایک صاحب کینیا سے آئے تھے جو وہاں کی یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں اور

دعوتی کام بھی کرتے ہیں۔ ان کا نام (Badru Dungu Kateregga) ہے۔ انھوں نے انگریزی الرسالہ لیا اور بیٹھے بیٹھے اس کے چند مضامین اسی وقت پڑھ ڈالے اس کے بعد ان کی زبان سے بے اختیار نکلا :

Printed page