You are doing a wonderful work
Al-Risala, April 1986, pp. 25–35
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک امریکی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ نیو یارک کے ایک یہودی خاندان پیدا اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کا موجودہ نام (Ya-sin Andy Gold) یاسین اینڈی گولڈ ہے۔ وہ پانچ سال سے باقاعدہ مسلمان ہیں اور اب نیو میکسیکو میں رہتے ہیں۔ کو انگریزی الرسالہ دیا گیا تھا۔ اس کو انھوں نے رات کو پڑھ لیا۔ اگلے دن ملاقات ہوئی تو انھوں نے انگریزی الرسالہ کے بارہ میں غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ ان کا تاثر ان کے اپنے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے :
I have read two issues of Al-Risala (English) and am very grateful for having been introduced with this publication. The work comes I believe from a place of deep understanding and is written in a way that is particularly appropriate for westerners. Not only is the language itself clear, but the thoughts are phrased in such a way as to be understood by those of us with a western conceptual frame- work. The articles are very much to the point, the meanings avail- able on a number of levels. Ya-Sin Andy Gold, Lama Foundation, P.O. Box 240, San Cristobal, New Mexico 87564, U.S.A. میں نے الرسالہ انگریزی کے دو شمارے پڑھے۔ میں بہت خوش ہوں کہ مجھے ایسی مطبوعات سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔ میرا یقین ہے کہ یہ مضامین بہت گہری معرفت سے نکلے ہیں اور وہ اس طرح لکھے گیے ہیں جو خاص طور پر اہل مغرب کے لیے بہت موزوں ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی زبان بہت صاف ہے بلکہ خیالات اس طرح تحریر کیے گیے ہیں کہ ہمارے جیسے لوگوں کے لیے قابل فہم ہیں جن کا ذہنی سانچہ مغرب میں بنا ہے۔ مضامین میں بالکل دو ٹوک انداز میں ہیں۔ معانی میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے۔
یہ ان بہت سے تاثرات میں سے صرف چند ہیں جو اس موقع پر مسلمانوں اور غیر مسلموں
کی طرف سے سامنے آئے ۔
اس موقع پر ہر مذہب کو عبادت کے لیے ہال دیے گیے تھے ۔ چنانچہ ایک ہال ”مسجد“ کے لیے بھی تھا۔ کانفرنس میں مختلف ملکوں کے تقریباً ۸۰ مسلمان شریک تھے۔ ان کی ایک قابلِ لحاظ تعداد نماز کے وقت مسجد میں جمع ہوجاتی۔ ان حضرات نے اپنے اپنے حلقہ میں ہونے والے مباحثہ کی رپورٹ دیتے ہوئے ایک بات مشترک طور پر کہی۔ وہ یہ کہ دوسرے مذاہب پر گفتگو کے وقت لوگ سنجیدہ رہتے ہیں۔ مگر جہاں اسلام کا ذکر آیا وہ جارحانہ انداز اختیار کرلیتے ہیں۔ خود ہمارے حلقہ بحث میں بھی یہ صورت پیش آئی۔ تاہم میرا خیال ہے کہ اس کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ خود مسلمانوں پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کا تعارف زیادہ تر سیاسی انداز سے اگر اسلام کا تعارف فطری انداز میں کرایا جائے تو اس قسم کا رد عمل اپنے آپ ختم
ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پروفیسر نے اسلام کو ”ایک کامل ریاستی نظام“ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد غیر مسلم حاضرین نے فوراً پاکستان، ایران، عراق اور دوسرے ملکوں کی مثالیں دے کر کہنا شروع کیا کہ وہاں ایسا اور ایسا ہورہا ہے تو کیا اسلام کا ریاستی نظام یہی پھر جب منفی ذہن پیدا ہوا تو اس کے بعد دوسرے غیر متعلق اعتراضات بھی شروع ہوگئے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اسلام کو آخرت کے انداز میں پیش کیا جائے نہ کہ سیاست اور حکومت کے انداز میں، جیسا کہ وہ فی الواقع ہے۔
آدمی ہمیشہ نظریہ کی تصدیق (Verification) چاہتا ہے۔ جب آپ اسلام کا تعارف سیاسی نظام کے انداز میں کرائیں تو قدرتی طور پر وہ اس کی تصدیق کے لیے موجودہ مسلم ملکوں کو اور جب ان ملکوں میں وہ کوئی بہتر نظام نہیں پاتا تو وہ اس کی صداقت کے بارہ میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ اسلام کا تعارف فطرت کے انداز میں کرائیں تو آدمی اس کی تصدیق کے لیے انسانی فطرت کو دیکھتا ہے اور یہاں وہ فوراً اس کی تصدیق پالیتا ہے۔ انسانی فطرت کا خالق خدا ہے اور اس نے اس کو سراسر حق کی بنیاد پر بنایا ہے۔ فطرت کے انداز میں پیش کیا ہوا اسلام خود آدمی کے اپنے دل کی سطح پر بلا تاخیر اپنی تصدیق پارہا ہے۔
سیاسی نظام کے انداز میں پیش کیا ہوا اسلام کہیں بھی اپنی تصدیق نہیں پاتا۔ مسلم شرکاء اور دوسرے مذاہب کے شرکا ءنے بطور خود بھی کچھ اجتماعات کیے۔ نے عام شرکاء کو دعوت دی کہ وہ مسجد میں آئیں اور اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کے مطابق ۱۹ نومبر کو "مسجد" میں ایک اجتماع ہوا۔ بعض مسلمانوں نے ابتداء ً مختصر تقریر کی۔ اس کے بعد سوال و مگر محسوس ہوا کہ اس طرح کے اجتماع کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پیشگی طور پر ذہن بنایا جا چکا ہو۔ مثلاً یہاں اجتماع ہوا تو مسلمانوں نے آپس کے اختلافی مسائل پر بحث شروع کر دی۔ اس کا اثر اچھا نہیں پڑا اور کئی غیر مسلم شرکار درمیان میں اٹھ کر چلے گئے۔ آپس کے اختلاف پر گفتگو کا مقام آپس کی ملاقاتیں ہیں نہ کہ مشترک اجتماعات۔
ایک بات یہودی نمائندوں کے سلسلہ میں ہے۔ اکثر بنیادی مسائل میں مسلم نقطہ نظر اور یہودی نقطہ نظر تقریباً ایک رہتا تھا (مثلاً یہ کہ اخلاق اصولی طور پر ایک خدائی حکم ہے)، اس کی وجہ یہ تھی کہ تمام تحریف کے باوجود آج بھی بائبل اور قرآن میں بہت سے امور میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ بات ہے کہ یہودی ہی وہ قوم ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ قوم بن جائے تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اس کے بعد قوم برتر حیثیت حاصل کر لیتی ہے اور مذہب اس کا تابع بن کر رہ جاتا ہے۔
عیسائی پادری (Paulos Mar Gregorios) نے ۱۹ نومبر کو (Christian heritage)
عیسائی ورثہ پر تقریر کی۔ انھوں نے بتایا کہ "اسمبلی کے نمائندے ان کے استقبال کے لیے آدھ گھنٹہ تاخیر سے ایئر پورٹ پہونچے ۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں نے ایرپورٹ پر کسی کو نہیں دیکھا تو میں پبلک ٹیلی فون پر گیا کہ اسمبلی کے ذمہ داروں سے ربط قائم کروں اور اپنا بیگ اور سامان باہر چھوڑ دیا۔ ٹیلی فون کر کے واپس آیا تو میں اپنا سامان کھو چکا تھا۔ اس بیگ میں موصوف کی تیار شدہ تقریر بھی شامل تھی۔ انھوں نے عام اجتماع میں اپنی تقریر کے آغاز میں کہی۔
یہ واقعہ نیویارک ہوائی اڈہ پر ہوا۔ اسی طرح اور واقعات معلوم ہوئے جس سے اندازہ ہوا کہ امریکہ اب اخلاقی تنزل کی طرف جانا شروع ہو گیا ہے۔ ایک انجینئر پندرہ سال سے امریکہ میں انھوں نے بتایا کہ ۷۹ میں جو مکان ۲۰ ہزار ڈالر میں بہ آسانی مل جاتا تھا۔ اس کو حاصل
کرنے کے لیے اب ڈیڑھ لاکھ ڈالر دینا پڑتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پچھلے دس برسوں میں بہت تیزی سے امریکہ میں افراط زر (Inflation) ہوا ہے۔ ہر چیز کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ مگر اسی نسبت سے لوگوں کی آمدنیاں نہیں بڑھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شروع میں جب امریکہ آیا تو ہر طرف خوش حالی نظر آتی تھی۔ اب وہ خوش حالی نظر نہیں آتی۔ اس مہنگائی سے اخلاقی تنزلی آنا شروع ہو گیا ہے۔ چوری، رشوت، مکان کی پکڑی، اس طرح کی چیزیں پہلے عام امریکی زندگی میں مطلق مگر اب اس طرح کی مثالیں اگر چہ بہت کم، سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ امریکہ میں افراط زر (مہنگائی)، ویت نام کی جنگ کے زمانہ میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد امریکہ کے خلائی پروگرام (خلائی ہتھیاروں کے تجربات) نے اس کو بہت بڑھا دیا۔ بے پناہ مہنگے ہوتے ہیں۔ حتی کہ امریکہ بھی اپنی ساری دولت کے باوجود ان کا تحمل نہیں کر سکتا۔ کی قیمت اس کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خلائی پروگرام کی مہنگائی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ ایک اسپیس اسٹیشن بنا رہا ہے جو ۱۹۹۰ میں مکمل ہو گا۔ اسٹیشن پر امریکی حکومت کو گیارہ بلین ڈالر خرچ کرنے ہوں گے۔ یہ اسٹیشن زمین سے ۲۳ ہزار میل اوپر قائم ہوگا۔ اسٹار وار اس پروگرام میں صرف ریسرچ پر ۲۶ بلین ڈالر خرچ ہوں گے ۔ ایک یہودی نوجوان (Shlomo Biderman) اسرائیل سے آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہودی مذہب میں سب سے زیادہ زور توحید پر ہے اور سب سے زیادہ غلط چیز بت پرستی ہے۔ حتی کہ یہودی کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ جو شخص بت پرستی کے خلاف ہو وہ یہودی ہے : One who is against idolatory is a Jew یہ بات صحیح ہے کہ یہودی قوم میں پتھر کے بتوں کو پوجنے کا رواج نہیں۔ مگر یہود نے نسل کو جو مقام دیا ہے وہ خود ایک قسم کی بت پرستی ہے۔ وہ پتھر کے بت نہ پوجنے پر فخر کرتے ہیں۔ اسی وقت وہ قوم کے بت کو پوج رہے ہیں۔ یہی تضاد مختلف شکلوں میں خود مسلمانوں میں بھی پایا حقیقت یہ ہے کہ بتوں اور قبروں کو نہ پوجنے والے بھی غیر اللہ کے پرستار ہوتے ہیں۔ کسی کو اس واقعہ کی خبر نہیں۔
مسٹرا یرک(Erik (Erik Hoogearspel) نیدر لینڈ سے آئے تھے۔ وہ عیسائی خاندان میں پیدا
اس کے بعد ذاتی مطالعے سے بدھسٹ ہو گئے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بدھ لوگ خدا کو نہیں مانتے کیا آپ بھی خدا کو نہیں مانتے ۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ میں خدا کو نہیں مانتا ۔ میں نے کہا کیوں ۔ کہا اس لیے کہ خدا کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ میں نے کہا کہ اگر خدا کے وجود کا عقلی ثبوت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقۃً بھی خدا کا وجود نہیں ۔ اس کی وجہ ہماری کمیاں (Limitations) ہیں۔ اپنی کمیوں کی وجہ سے کسی بھی چیز کو عقلی طور پر ثابت نہیں کر سکتے ۔ پھر جس طرح دوسری چیزیں قرینہ کی بنیاد پر مانی جاتی ہے اسی طرح خدا کو بھی قرائن کی بنیاد پر ماننے میں کیا رکاوٹ ہے ۔ جب میں نے دیکھا کہ منطقی دلیل سے وہ قائل نہیں ہو رہے ہیں تو میں نے کہا کہ میں اپنے بارہ میں کہہ سکتا ہوں کہ خدا میری ذاتی دریافت ہے ۔ میں اپنی دریافت (Realization) کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ مجھے خدا کے بارہ میں کوئی شک نہیں ۔ جب میں نے اس طرح یقین کی زبان میں کہا تو میں نے دیکھا کہ وہ نرم ہو گئے ۔ اس کے بعد ان کا زور کلام ٹھنڈا پڑ گیا ۔ شاید بیشتر انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ استدلال سے زیادہ یقین سے متاثر ہوتے ہیں ۔
نیوجرسی اور نیو یارک میں کافی مسلمان آباد ہیں ۔ ان میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی انھوں نے زور دیا کہ آپ کانفرنس سے فراغت کے بعد مزید کم از کم ایک مہینہ ہمارے پاس ٹھہریئے یہاں ہم مختلف مقامات پر لوگوں کو جمع کریں گے جن کے سامنے آپ اپنا دینی پیغام رکھ سکیں ۔ میرے لیے ٹھہرنے کا موقع نہیں تھا اس لیے ان لوگوں سے معذرت کر دی ۔ تاہم جناب مرز افرید بیگ صاحب (نیو کلیر انجینئر) کے اصرار پر مجھے ایک دن مزید ٹھہرنا پڑا ۔ مرزا فرید بیگ نہایت صالح اور ذہین نوجوان ہیں ۔ دینی امور کے سختی سے پابند ہیں ۔ چہرے پر نمایاں داڑھی بھی موجود
۲۰ نومبر ۱۹۸۵ کی شام کو ہم نے ہوٹل چھوڑ دیا اور مرزا فرید بیگ صاحب کے ساتھ لینڈنگ (نیو جرسی) کے لیے روانہ ہوئے ۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم فرید بیگ صاحب کے مکان پر پہونچے۔ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی گاڑی گیرج کے سامنے پہونچی گیرج کا دروازہ اوپر اٹھنا شروع ہو گیا ۔ یہاں تک کہ پورا دروازہ اٹھ گیا اور گاڑی اندر داخل ہو گئی ۔ دروازہ کا یہ کھلنا ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ ہوا ۔ یہ دروازہ شٹر کی مانند بنایا جاتا ہے تاکہ وہ لپٹا جاسکے۔
دروازہ سے ملا ہوا ایک خاص قسم کا موٹر ہوتا ہے۔ یہ موٹر وائرلیس لہروں کے ذریعہ کنٹرول ہوتا ہے مرزا فرید بیگ کے ہاتھ میں سگریٹ لائٹر کی مانند ایک چیز تھی۔ انھوں نے اس کو میرے ہاتھ میں دیا۔ اس سے کوئی تار وغیرہ وابستہ نہ تھا۔ میں نے اس کا بٹن دبایا تو دروازہ اپنے آپ شٹر کی مانند اوپر اٹھنا شروع ہو گیا یہاں تک کہ پورا دروازہ اوپر چلا گیا۔ پھر میں نے دوبارہ بٹن دبایا تو دروازہ نیچے آنے لگا۔ یہاں کہ وہ پوری طرح بند ہو گیا۔
اس کو آج کل کی زبان میں ریموٹ کنٹرول سسٹم کہتے ہیں اور اس قسم کا ریموٹ کنٹرول امریکی زندگی میں عام ہو چکا ہے۔ آپ اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا مشینی ڈبے لے کر اس کے ذریعہ سے ٹیلی وزن کھول اور بند کر سکتے ہیں۔ ٹیلی فون کو ہاتھ سے چھوئے بغیر ربط قائم کر سکتے ہیں۔ روشنی کو دور سے جلا یا بجھا سکتے ہیں۔ 20 نومبر کو ہوٹل چھوڑتے وقت ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ کانفرنس کے ذمہ داروں نے ہمارے ہر قسم کے خرچ کی ذمہ داری لی تھی۔ مگر ٹیلی فون کے خرچ کی ذمہ داری خود ہمارے اوپر تھی۔ ہوٹل سے دہلی میں اور خود امریکہ میں کچھ ٹیلی فون کرنے پڑے۔ روانگی کے وقت جب ہوٹل کے دفتر سے حساب مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ آپ کا حساب ادا شدہ ہے۔ ان سے بار بار کہا گیا کہ ہم نے تو ادا نہیں کیا پھر وہ کیسے ادا ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، ہمارا کمپیوٹر یہی بتاتا ہے کہ آپ کا حساب ادا ہو گیا ہے۔ ہمارے اصرار پر انھوں نے کمپیوٹر کا بٹن دبایا اور ایک کاغذ چھپ کر سامنے آگیا جس میں ہمارے نام کے ساتھ تقريباً چودہ ڈالر کا بل تھا اور وہ پورا ادا شدہ تھا۔ ہم نے کہا کہ ہم نے یہ رقم ادا نہیں کی ہے اس لیے آپ کمپیوٹر کے اس حساب کے باوجود ہم سے یہ رقم لے لیں مگر وہ لینے پر راضی نہیں ہوئے ۔ ایسا کیوں کہ ہوا، یہ ایک معمہ تھا جس کا کوئی جواب نہ ہمارے پاس تھا اور نہ ہوٹل والوں کے پاس۔ کمپیوٹر کا یہ کاغذ ہمارے پاس موجود ہے۔ مرزا فرید بیگ صاحب کے ساتھ ایک دن گزار کر ہم ۲۱ نومبر ۱۹۸۵ء کی شام کو ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں بوٹن (Boonton) کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی۔ بہت خوبصورت اور دو منزلہ ہے۔ ایئر پورٹ پہنچنے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ پاس کتابوں کا ایک بنڈل تھا۔ اس کو پلاسٹک کی رسی سے باندھا گیا تھا۔ ہم کینڈٰی ایئر پورٹ
میں داخل ہوئے تو چیکنگ کے ذمہ داروں نے اس کو کاٹنے کے لیے قینچی نکالی۔ میں بہت گھبرایا کہ اگر انھوں نے رسی کاٹ ڈالی تو یہاں ایئرپورٹ پر دوسری رسی باندھنے کے لیے کہاں ملے گی ۔ ہم نے ان کو منع کیا مگر وہ نہیں مانے انھوں نے کہا، آپ گھبرائیے نہیں۔ ہم اس کو کاٹنے کے بعد دوبارہ ٹیپ کردیں گے ۔ چنانچہ انھوں نے رسی کاٹ کر پھینک دی اور اس کو دیکھنے کے بعد دوبارہ اوپر سے کافی مقدار میں ٹیپ لگا کر پہلے سے زیادہ بہتر پیک کر دیا۔
مجھے یاد آیا کہ اسی قسم کا واقعہ یکم مارچ ۱۹۸۴ کو میرے ساتھ ایک مسلم ملک کے ایئرپورٹ پر پیش آیا تھا۔ وہاں بھی ہمارے پاس کتابوں کا ایک بڑا پیکٹ تھا۔ چیکنگ کے عملے نے اس کی رسیاں کاٹنے کے لیے قینچی نکالی ۔ ہم نے بہت کہا کہ اس میں صرف دینی کتابیں ہیں اور کچھ نہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ آپ نے رسیاں کاٹ دیں تو اس کو دوبارہ باندھنا ہمارے لیے سخت مشکل ہوگا۔ مگر انھوں نے کچھ نہیں سنا اور ساری رسیاں کاٹ ڈالیں۔ اس کے بعد انھوں نے نہ پیکٹ میں دوبارہ ٹیپ لگایا اور نہ کسی دوسرے طریقے سے ہماری مدد کی ۔ بڑی مشکل سے ہم نے رسیوں کو جوڑ جوڑ کر پیکٹ کو دوبارہ کتنا فرق ہے ایک قوم اور دوسری قوم میں ۔
امریکہ میں ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں کے بہت سے لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے یہاں کی شہریت بھی لے لی ہے ۔ تاہم ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یہاں کے سماج میں پوری طرح ضم ہو گئے ہوں ۔
یہ لوگ بڑے عجیب عجیب مسائل سے دوچار ہیں۔ مثلاً اپنے ملکوں میں وہ عادی ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں اپنے بچوں کی نگرانی کریں، حتیٰ کہ وہ انھیں تنبیہ کر سکیں ۔ مگر یہاں وہ اس سلسلہ میں اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں۔ یہاں کا ایک باپ اپنے بچے کو تنبیہ نہیں کر سکتا۔ اگر وہ تنبیہ کرے تو بچے کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے باپ کے خلاف پولیس کو بلا سکے۔ یہاں پولیس کا ایک خاص دستہ مقرر ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ بچوں کو ستائے جانے سے بچائے ۔ اس کو یہاں کی زبان میں ”چائلڈ ابیوز“ کہتے ہیں۔ اس کا ایک مخصوص ٹیلی فون نمبر ہے۔ کوئی بچہ اس نمبر پر رنگ کرکے فوراً اس کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتا ایسے واقعات معلوم ہوئے کہ باپ نے بگڑ کر بچے کو مارنا چاہا تو بچے نے فوراً کہا : Don't touch me. I will call Child Abuse.
یعنی مجھ کو چھوڑو امت ورنہ بچوں کی پولیس کو ٹیلی فون کر دوں گا۔
اس سفر میں آمد و رفت کو ملا کر دس دن گزرے ۔ میرا یہ سفر گویا ساری دنیا کی طرف سفر تھا۔ سفر میں میں نے تقریبا دنیا کی ہر قوم کو دیکھا اور تقریبا ہر عقیدہ کے لوگوں کا تجربہ کیا۔ میرا آخری تاثر یہ تھا کہ موجودہ دنیا میں ہر چیز ہے مگر وہی ایک چیز نہیں جس کو انسانی فطرت سب سے زیادہ چاہتی ہے یعنی خدا کا سچا مذہب۔ مذہب کے جو ایڈیشن مذہب کے نمائندوں کے پاس ہیں اور جن کو وہ لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ سب کے سب بگڑے ہوئے مذہب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انسانی فطرت سے مطابقت نہیں کر پاتے۔
انسان ایک خدا چاہتا ہے اور مشترک نہ مذاہب اس کو کئی خداؤں کی عبادت کی طرف بلا رہے انسان سادہ مذہب چاہتا ہے اور عیسائیت اس کو فلسفیانہ موشگافیوں والا مذہب دے رہی انسان اصولی مذہب چاہتا ہے اور یہودیت کے پاس انسان کو دینے کے لیے صرف نسلی مذہب انسان ایک بر تر خدا کی تلاش میں ہے اور ہندو ازم اس کو یقین دلا رہا ہے کہ تم خود اپنی ذات میں خدا ہو۔ انسان روحانی سطح پر خدا کو پانا چاہتا ہے اور مادی مذاہب اس کو سیاست اور حکومت کی سطح پر مذہب کا نسخہ پیش کر رہے ہیں ۔
یہاں مسلمان جدید انسان کو رہنمائی دے سکتے تھے۔ کیوں کہ ان کے پاس سچا خدائی مذہب بالکل محفوظ حالت میں موجود ہے۔ مگر یہاں بھی یہ مشکل ہے کہ اصل اسلام تو صرف کتاب میں ہے ۔ مسلمان عملاً جس مذہب کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ ان کی اپنی تعبیرات ہیں جو انھوں نے اصل خدائی دین میں تصرف کر کے بنائی ہیں۔ اصل اسلام تو بلا شبہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے مگر جس تعبیری اسلام کی مسلمان آج نمائندگی کر رہے ہیں وہ انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ لیے خود اسلام اور انسانی فطرت کے درمیان بھی عملاً وہی عدم مطابقت پیدا ہو گئی ہے۔ مذاہب اور انسانی فطرت کے درمیان پائی جاتی ہے ۔
آج سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کو کسی ملاوٹ کے بغیر اس کے حقیقی روپ میں انسان کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ اس کے بعد ساری انسانیت خدا کی رحمتوں کے سایہ میں آجائے گی۔ وما ذالك على الله بعزيز -
16 نومبر ۱۹۸۵ کو سورج نہیں دکھائی دیا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کمرہ کے ایک طرف لگے ہوائے شیشہ سے باہر دیکھا تو ہر چیز سفید ہو رہی تھی۔ سڑکوں اور پارکوں میں ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بے حد سفید قسم کے روئی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اوپر سے گر رہے ہیں اور سڑکوں اور پارکوں پر ان کا صاف و شفاف فرش بچھا ہوا ہے درخت بھی ان سے ڈھکے ہوئے نظر آتے تھے معلوم ہو کہ برف گر رہی ہے۔ تاہم یہ وہ برف نہ تھی جس کے لیے ہمارے یہاں برف یا اولہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہ اسنو (Snow) تھی۔ بچوں کے ہندوستان جیسے ملکوں میں اسنو نہیں گرتی اس لیے اردو زبان میں اس کے لیے کوئی لفظ بھی موجود نہیں۔ اس قسم کی اسنو میں نے پہلی بار روم میں اکتوبر ۱۹۷۶ میں دیکھی تھی اور دوسری بار ۱۶ نومبر ۱۹۸۵ کو نیو جرسی میں دیکھی۔
یہ اسنو سرد ملکوں کے لیے ایک عجیب نعمت ہے۔ یہاں کے کسان اسنو کے موسم سے کچھ پہلے زمین میں بیج بو دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا انکھو انکل آتا ہے۔ آنکھوا نکلنے کے بعد جب اسنو گرتی ہے تو ان کے اوپر اس کی تہ جم جاتی ہے۔ اسنو چوں کہ روئی کی طرح بالکل نرم ہوتی ہے اس لیے وہ آنکھوا کو نقصان نہیں پہنچاتی اس کے بعد اسنو دھیرے دھیرے پگھلنا شروع ہوتی ہے اور فصل کو آہستہ آہستہ پانی پہنچاتی ہے۔ عجیب قسم کی قدرتی آب پاشی ہے جو سرد ملکوں کے کسانوں کے لیے من و سلویٰ کی نعمت سے کم نہیں۔ ایک ہندوستانی بزرگ امریکہ گئے۔ وہاں ایک روز انھوں نے ایک امریکی سے پوچھا: کیا آپ کے یہاں ملاوٹ کا دودھ (Adulterated Milk) بھی ملتا ہے۔ یہ سن کر امریکی کچھ دیر چپ رہا۔ رہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ کچھ دیر کے بعد وہ بولا : ہاں ، ہمارے یہاں بعض اسٹور ملاوٹ کا دودھ بھی تیار وہ قدرتی دودھ میں بعض وٹامن کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ اس کی غذائیت کو بڑھا سکیں۔ مذکورہ عمل کو انگریزی میں (Adulteration) نہیں کہا جاتا۔ اس کو (Enrichment) کہتے مگر امریکی ذہن چوں کہ اس تصور سے خالی تھا کہ دودھ میں پانی ملا دیا جائے اس لیے اس نے اڈلٹریشن کے لفظ کو (Enrichment) کے معنی میں لیا۔ کتنا فرق ہے ہندوستان کے تاجر اور امریکہ کے تاجر میں۔ ڈاکٹر خورشید احمد صاحب سے ، نومبر کو تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو اپنے مشن کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے افراد تیار کرنا چاہیے ۔ اس سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے سیرت سے متعلق ایک بات کہی جو انھیں کے اپنے الفاظ میں یہ تھی :
" حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کارنامہ عظیم ہے۔ لیکن ایک پہلو جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے
وہ یہ ہے کہ آپ نے صرف دورِ رسالت مآب ہی نہ دیا، جو ایک معیاری اور مثالی دور ہے۔ بلکہ ایسے انسان تیار کیے کہ خلافتِ راشدہ کا ادارہ وجود میں آیا جس کے بارہ میں خود آپ ہی نے فرمایا کہ علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين۔ اس طرح آپ نے ایک تاریخی عملی کا آغاز کیا جس نے مسلم تاریخ میں تسلسل (Continuity) قائم کیا ۔ اور آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک ایسا گروہ چھوٹا جس کے ذریعہ اسلام کی دولت اور حضور کی سنت دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ سکی ۔
ترکی کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ استنبول یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ میں نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کمال اتا ترک ایک یہودی تھا۔ انھوں نے کہا کہ نسلی اعتبار سے تو یہ بات صحیح نہیں۔ وہ ہمارے لیے عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی زیادہ برا تھا۔ اس نے ترک قوم کو ذبح کر دیا۔ میں نے پوچھا کہ کیسے ذبح کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس نے ہمارا رشتہ ہماری تاریخ سے کاٹ دیا۔ اور کسی قوم کے لیے اس سے بڑا کوئی ذبح نہیں۔
ایک مغربی ملک کے ایک پروفیسر نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بہت سی مشکلات میں نے کہا کہ پھر کون سی قوم ہے جس کو مشکلات درپیش نہیں۔ میں نے کہا یہ صحیح ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بعض مشکلات درپیش ہیں۔ مگر مشکل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ آپ کسی حال میں اس سے بچ نہیں سکتے صرف صورت کا فرق ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کو دیکھیے، ایران اور عراق کو دیکھیے ۔ سعودی عرب اور لیبیا کو دیکھیے۔ سب کے درمیان مشکلات و مسائل ہیں۔ حالاں کہ یہ سب اسلامی ملک ہیں۔ مسائل کا تعلق مسلم اور غیر مسلم سے نہیں۔ جہاں صرف مسلمان ہی مسلمان ہوں وہاں مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان مسائل پیدا ہو جائیں گے ۔ مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک موجودہ دنیا کا خاتمہ نہ ہو جائے ۔ انھوں نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، آپ صحیح کہتے ہیں : We have to learn to live with problems instead of protesting against them. ایک سردار جی کناڈا سے آئے تھے۔ وہ تقریباً ۲۰ سال سے کناڈا میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کے کئی ترجمے دیکھے مگر کسی سے تسلی نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ صرف ترجمہ پڑھنا چاہتے ہیں یا اس کے ساتھ کمنٹری بھی۔ انھوں نے کہا کہ کمنٹری ہو تو اور بھی اچھا ہے ۔ وہ چوں کہ اردو زبان بخوبی
جانتے تھے ، ان کو تذکیر القرآن (جلد اول) پیش کی گئی وہ بہت خوش ہوئے ۔
ایک صاحب جو اپنے سفید فام حلیہ سے کسی مغربی ملک کے باشندہ معلوم ہوتے تھے ۔ ملاقات کے وقت کہا :