International Temperance Association
Al-Risala, April 1986, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ادارہ شراب نوشی اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے خلاف ہے۔ موصوف اس سلسلہ میں بہت سے ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ وہ ہندوستان بھی جاچکے ہیں ان سے بہت دیر تک اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ آخر میں میں نے کہا کہ آپ لوگ شراب نوشی کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں اس کا محرک مذہب ہے یا طبی تحقیقات ۔ انھوں نے کہا کہ دونوں۔ میں نے کہا کہ بائبل میں تو شراب کو جائز کرنے والی آیتیں موجود پھر آپ بائبل کے حوالے سے کس طرح اس کے عدم جواز کو ثابت کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ بائبل کے موجودہ انگریزی ترجمہ کی بابت آپ کا کہنا صحیح ہے۔ مگر قدیم عبرانی بائبل سے شراب کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ قدیم عبرانی نسخہ میں اس سلسلہ میں دو الفاظ آتے ہیں ۔ زازن (Yayin) یہ لفظ قدیم عبرانی میں انگور کارس مع الکوہل کے لیے بولا جاتا ہے ۔ لفظ شکار (Shekar) ہے۔ یعنی انگور کا وہ تازہ رس جو بغیر الکوہل کے ہو بائبل کے موجودہ انگریزی ترجمہ میں یہ غلطی کی گئی ہے کہ مذکورہ دونوں لفظوں کے لیے ایک ہی لفظ (Wine) استعمال کیا گیا ہے۔ حالاں کہ اصل عبرانی میں دو لفظ تھا۔ قدیم عبرانی متن کے مطابق انگور کا سادہ رس جائز ہے اور انگور کا وہ رس جو خمیر کے بعد نشہ آور ہو جائے ، جائز نہیں ۔
یہ لوگ بہت دلچسپ انداز میں شراب کے خلاف پرچار کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک لکچر میں انھوں نے شراب نوشی کے خلاف دلائل دیے۔ آخر میں انھوں نے حاضرین کے سامنے دو برتن رکھے ۔ ایک برتن میں پانی تھا اور دوسرے برتن میں شراب ، اس کے بعد حسب پروگرام ایک گدھا لکچر ہال کے اندر داخل کیا گیا ۔ اب لکچر نے اپنے سامعین سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ گدھا دونوں میں سے کس برتن سے پیئے گا۔ سامنے کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے کہا ۔ " پانی کے برتن سے " لکچر نے کہا بہت اچھا اب آپ یہ بتائیں گے کہ کیوں ایسا ہے کہ وہ شراب کے مقابلہ میں پانی کو ترجیح دیتا ہے۔ نے جواب دیا ۔ کیوں کہ وہ ایک گدھا ہے :