Some even own aircraft for their private use.
Al-Risala, April 1986, pp. 34–42
By Maulana Wahiduddin Khan
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی امریکیوں کی اوسط خاندانی آمدنی ۲۴۹۹۳ ڈالر سالانہ ہے۔ جبکہ خود امریکیوں کی اوسط خاندانی آمدنی ۱۹۹۱۷ ڈالر سالانہ ہے :
The median family income of the Indian American community is $ 24,993 per year while the average for the all U.S. median family income is only $ 19,917. امریکہ کی اصل آبادی میں برتر لیاقت کے لوگ بھی ہیں اور کم تر لیاقت کے لوگ بھی ۔ سے جو لوگ امریکہ جاتے ہیں وہ سب منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی برتر قابلیت کے بل پر وہاں جانے کا حوصلہ کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہاں کے مقابلوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔
ہندوستان جیسے ملک کی اقلیتوں کے لیے اس میں بڑا سبق ہے۔ یہاں اکثریتی فرقة کے لوگوں کو
سفارش اور جانب داری کے تحت بھی جگہیں مل جاتی ہیں اس لیے اکثریتی فرقہ سے ہر قسم کے لوگ دفتروں اور اداروں میں بھر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جب کوئی مسلمان لیا جاتا ہے تو وہ اپنی ممتاز لیاقت کی بنا پر لیا جاتا یہ گویا ایک قسم کا قدرتی انتخاب ہے ۔ اس طرح اقلیت کے ٹاپ کے لوگ اوپر آتے رہیں گے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اکثریت کی نمائندگی اس کے مخلوط افراد کر رہے ہوں گے اور اقلیت کی نمائندگی اس کے ٹاپ کے افراد ۔
عام شہرت کے مطابق امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ خوش حال ملک ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی خوش حالی حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہے ۔ امریکہ کی خوش حالی کا راز قرض ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ سود دیتا ہے ۔ چنانچہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے بنکوں اور تجارتی اداروں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۵ء کے آخر میں امریکہ کے اوپر بیرونی قرضوں کی مقدار تقریباً پانچ سو بلین ڈالر ہے اس قرض میں امریکہ کو ہر سال تقریباً پچاس بلین سود ادا کرنا ہوتا ہے ۔
زیادہ شرح سود کا براہ راست فائدہ امریکہ کو یہ ملا کہ اس کی کرنسی (ڈالر) کی اہمیت بڑھ گئی۔ کرنسی کی دنیا میں ڈالر کو ” شہنشاہ“ کا مقام حاصل ہے۔ آپ ہندوستانی سکہ لے کر باہر کی دنیا میں جائیں تو اس کی حیثیت وہی ہوگی جو شیخ سعدی نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے :
امیر زاده ناداں به شه روا ماند که در دیار غریبش به هیچ نستانند لیکن اگر آپ کے پاس ڈالر ہے تو دنیا کے ہر حصہ میں خالص سونے کی مانند آپ اس کی قیمت پاسکتے ہیں ۔ اس سودی معاشیات کا سب سے بڑا نقصان ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تجارت ہے۔ امریکہ کو جب ہر سال پچاس بلین ڈالر سود ادا کرنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی جمع شدہ رقم کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش تجارت میں لگائے۔ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ نفع بخش تجارت جنگی ہتھیار ہے۔ بالقصد ساری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے تاکہ اس کی جنگی صنعت کے مستقل خریدار حاصل رہیں ۔ یہاں باقاعدہ ایسے جرائد شائع ہوتے ہیں جن میں ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کی تفصیل درج ہوتی ہیں ۔ آپ ہم سے فلاں ہتھیار خریدیں تو اس کے ذریعہ آپ اتنی زیادہ تباہی برپا کر سکتے ہیں۔ اسلحہ کی اس تجارت کی کم از کم جزئی ذمہ داری سودی معاشیات پر ہے۔ امریکہ اگر ہتھیاروں کی صنعت کو مسلسل نہ بڑھائے تو وہ اپنے اوپر بڑھتے ہوئے عالمی سود کو ادا کرنے کے قابل نہ رہے گا ۔
امریکہ میں جرائم کے بارے میں ایک رپورٹ یہ ہے :
امریکہ میں جدید ترقیاں اپنے کمال کو پہنچ رہی ہیں اس کے باوجود وہاں سب سے زیادہ جرائم ہوتے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جرائم کا مادی ترقیات سے کوئی تعلق نہیں ۔
کچھ لوگ غلط طور پر یہ کہتے ہیں کہ جرائم غریبی کے ساتھ جنم لیتے ہیں ۔ اگر تمام لوگ خوش حال ہو جائیں تو جرائم اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔ مگر جدید دنیا کا تجربہ اس کے خلاف ثبوت پیش کرتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ جرائم کا سبب انسان کی آزادی ہے ۔ انسان چوں کہ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے اس لیے وہ جہاں موقع پاتا ہے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے جس کا دوسرا نام جرم ہے ۔ انسان کو جرم سے باز رکھنے کی ایک ہی صورت ہے اور یہ کہ اس کو ایسا نظریہ دیا جائے جو اس سے اس کی آزادی عملی چھین لے ۔ جو اس کو پابند زندگی گزارنے پر مجبور کرے ۔ جو اس سے کہے کہ تمہاری آزادی ناحق کو چھوڑنے اور حق کو اختیار کرنے کے لیے ہے نہ کہ من مانی کارروائی کرنے کے لیے انسانیہ خدا کے آگے جواب دہی (Accountability) کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ۔ ایک ہندوستانی ۱۹۴۹ کے انقلاب کے بعد امریکہ گیا ۔ وہاں اس نے کافی دولت کمائی ۔ اس کی ہندوستانی بیوی سے اس کے یہاں دو لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ ۱۹۶۹ میں اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ اس وقت اس کی لڑکیاں اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں ۔ اپنی لڑکیوں کی خاطر اس نے دوسری شادی نہیں کی ۔ میں پہنچیں تو حالات بدلنا شروع ہوئے ۔ اس کی بڑی لڑکی نے اپنی آزاد مرضی سے ایک امریکی لڑکے سے شادی کر لی ۔ تاہم صرف تین ماہ بعد اس سے طلاق ہو گئی ۔ اس کے بعد لڑکی نے باپ کا گھر چھوڑ دیا ۔ باہر رہنے لگی ۔ چھوٹی لڑکی نے بھی ایک امریکی لڑکے سے اپنی ذاتی پسند کے تحت شادی کر لی ۔ مگر اس سے بھی ایک سال کے اندر علحدگی ہو گئی ۔ یہ لڑکی بھی باپ سے الگ ہو کر باہر نیو یارک میں رہنے لگی ۔ باپ کو اس کا بے حد رنج تھا ۔ اس نے بیوی بھی کھوئی اور آخر میں دونوں لڑکی بھی کھودی ۔ ایک روز اپنی ایک لڑکی سے کہا کہ تم جو کچھ کر رہی ہو وہ میری سمجھ میں نہیں آتا ۔ لڑکی نے فوراً جواب دیا کہ
آپ یہاں لمبی مدت سے رہ رہے ہیں۔ آپ کو خود یہ بات جاننا چاہیے :
You have lived here long enough and you should understand. ان تلخ تجربات کے بعد آدمی کا دل ٹوٹ گیا ۔ اس نے امریکہ میں اپنا بزنس فروخت کر دیا اور دہلی دہلی میں اس کے پاس بہت بڑا مکان ہے ۔ اس کے پاس دو شوفر ہیں ۔ چار مالی ہیں اور دوسرے بہت سے گھریلو ملازم ہیں۔ مگر وہ آدمی تنہا ہے ۔ اس کے لیے دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ شراب پی کر اپنا غم بھلاتا رہے ۔ (ٹائمز آف انڈیا ، ۲۰ اگست ۱۹۸۵ صفحه (۸) امریکی بزنس کس طرح چلتی ہے ، اس کی ایک دلچسپ مثال کوکا کو لا ہے۔ آج ۳۵ ملکوں میں اس کے ۱۹۰ ملین بوتل روزانہ فروخت ہوتے ہیں۔ کوکا کو لا کے اجزا آر ۱۸۸۶ میں پیمبرٹن (John S. Pemberton) نے دریافت کیے تھے ۔ اس وقت سے آج تک اس کا فارمولا ایک راز ہے جس کو صرف کمپنی کے چند ڈائرکٹر جانتے ہیں ۔ کو کا کو لا کے کارخانے ساری دنیا میں ہیں ۔ مگر اس کا اصل جز آج بھی صرف امریکہ میں تیار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ اس کا راز باقی رہے ۔ اس سے پہلے یہ راز صرف چند دماغوں میں تھا ب وہ کاغذ پر لکھ کر بینک میں مقفل کر دیا گیا ہے۔ اس مقفل بکس کو صرف کمپنی کے ڈائرکٹر ہی کھول سکتے ہیں۔ ہندوستان میں کوکا کو لا کے ۲۲ کارخانے تھے ۔ وہ ہندوستان کا سب سے زیادہ مقبول مشروب (Soft drink) تھا ۔ ۱۹۷۷ میں جنتا حکومت نے چاہا کہ اس کو (Indianise) کرے ۔ اس مقصد کے لیے کمپنی کو اپنا فارمولا ہندوستانی حکومت کو بتانا پڑتا۔ کمپنی نے اپنا فارمولا راز میں رکھنے کی یہ قیمت ادا کی کہ یک لخت ہندستان میں اپنا بزنس ختم کر دیا۔ مگر اپنا فارمولا ہندوستانی حکومت کو بتانے پر راضی نہیں ہوئی ۔
امریکہ میں پروسس کی ہوئی شکر جتنی تیار ہوتی ہے اس کا دس فی صد صرف کوکا کو لا کمپنی خریدتی اس کی وجہ یہ ہے کہ کوکا کو لا میں کافین (Caffeine) کا ایک جز ڈالا جاتا ہے ۔ یہ ایک بے حد تلخ چیز اس کی تلخی کو گھٹانے کے لیے اس میں سب سے زیادہ جو چیز ڈالی جاتی ہے وہ شکر ہے ۔ ۱۹۵۴ میں مراکو میں یہ افواہ اڑ گئی کہ کو کا کو لا میں خنزیر کے خون کی ملاوٹ ہوتی ہے ۔ اس کے بعد وہاں کافی شور ہوا اور مسلمانوں نے کوکا کو لا پینا چھوڑ دیا۔ اس کے بعد کمپنی والوں نے سلطان مراکو کے صاحبزادے کو آمادہ کیا۔ انھوں نے مجمع عام میں لوگوں کے سامنے کوکا کو لا پی کر اس کی تردید کی۔
طرح یہ فضا ختم ہوئی ۔
امریکی قانون کے مطابق کسی تیار شدہ خوراک کے اجزاءء کا اعلان ضروری ہے۔ چنانچہ 1909 میں کوکا کولا کمپنی کے خلاف حکومت نے مقدمہ قائم کیا اور چاہا کہ عدالتی طور پر اس کو مجبور کرے کہ وہ اس کے اجزا کا اعلان کرے۔ کمپنی نے مقدمہ کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ جیت گئی۔ اس کے وکیلوں نے یہ ثابت کیا کہ شناختی معیار (Standard of identity) کو باقی رکھنے کے لیے کوکا کولا کے فارمولا کا راز میں رہنا ضروری ہے ۔
خارجی دنیا میں اپنی حیثیت کو بڑھانے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے امریکہ جتنا خرچ کرتا ہے اتنا شاید ساری تاریخ میں کبھی کسی قوم نے نہیں کیا۔ مگر امریکہ کی خارجہ پالیسی اس نسبت سے کامیاب اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا حوالہ دینا کافی ہوگا۔
ترکی سوویت روس کی سرحد پر واقع ہے۔ اس اعتبار سے امریکہ کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ چنانچہ امریکہ نے ترکی سے تعلقات بڑھائے اور یہاں اس نے اپنے ۷۰ سے زیادہ فوجی اڈے قائم کر لیے ۔ ان اڈوں کا خاص مقصد روس کی جنگی تیاریوں کی نگرانی کرنا تھا۔ مگر 1974 میں ترکی اور یونان میں کشمکش پیدا ہوئی ۔ ترکی نے قبرص میں آباد ترک باشندوں کی حفاظت کے لیے قبرص میں اپنی فوجیں داخل کر دیں ۔ اس وقت ترکی کی امیدوں کے خلاف امریکہ نے یونان کا ساتھ دیا۔ حتی کہ اس نازک وقت میں ترکی کو اسلحہ بھیجنے پر پابندی لگا دی جس کا راستہ اس سے پہلے اس کے لیے آزادانہ طور پر کھلا ہوا تھا (رپیڈرز ڈائجسٹ مئی 1974 )
اس نازک موقع پر امریکہ کا ساتھ چھوڑنا ترکی کے لیے بہت تلخ تجربہ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے ملک میں امریکہ کے تمام فوجی اڈے بند کر دیئے۔ ۴۰ سالہ تعلق یک لخت ختم ہو گیا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ویلیم گرفتھ (William E. Griffith) نے لکھا ہے کہ اگر روسی یہ سب کرنا چاہتے تو وہ بھی اس سے زیادہ کامیابی کی امید نہیں کر سکتے تھے۔
If the Russians had set out to accomplish all this, they could not have hoped for more success. تاہم یہ حادثہ خود ترکی کے لیے بہت مفید ثابت ہوا۔ ترکی اب تک اپنا رشتہ مغربی دنیا سے جوڑتا
اس تلخ تجربہ نے اس کی خوش گمانیوں کا غبارہ توڑ دیا۔ اس کے بعد اس کی تو جہات مسلم دنیا کی طرف مڑ ترکی کے صدر نے اس کے بعد سے بے شمار مرتبہ عرب دنیا کے دورے کیے ہیں۔ عرب لوگ کثرت سے ترکی جانے لگے ہیں۔ عربوں کو ترکی میں ایسی رعایتیں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے انھیں حاصل نہ تھیں۔ ایک قانون میں تبدیلی کرکے اس کی گنجائش پیدا کی گئی کہ عرب ترک شہروں میں جائداد خرید سکتے ہیں ۔
مسلم دنیا سے اس تعلق کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر ترکی میں اسلام اور اسلامی تحریک کو نئے مواقع مل گیے جو کمال اتاتُرک اور عصمت انونو نے ختم کر رکھے تھے۔ جدید ترکی میں دوبارہ اسلام زندہ ہو رہا ہے اور یہ نتیجہ ہے امریکہ کی اس سیاست کا جو اس نے ۱۹۷۴ء میں قبرص کے معاملہ میں اختیار کی تھی۔ ۲۲ نومبر ۱۹۸۵ء کو میں دہلی واپس پہنچا۔
الکتابہ للہ ذَالکَ الْقُرْآنَ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ نظریاتی علم کی اولین اور آخر کتاب کا نام ترجمه كتاب السنة الى ملكة المعرفة جعلی پرچم جلد الملايكة من السماء تديننا مولف: پروفیسر جمیل مطبوعات اسلامی نئی دہلی خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلادیتی ہے۔ وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کا عمل، اور اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اُسی آنکھوں سے دیکھ لے۔
قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے ۔ وہ اپنی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا ۔ نے قرآن کے پیغام کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوام عالم کو تسخیر کرلے گا۔ ہدیہ : ۲۰ روپیہ ۳۰ روپیہ (رعایتی ایڈیشن)
ہدیہ : ۲۵ روپیہ ۱۸ روپیہ (رعایتی ایڈیشن)