Al-Risala · April 1986

قرأتُ الرسالة و فرحت جداً وحضرت فوراً

Al-Risala, April 1986, pp. 46–27

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ انگریزی زبان اچھی جانتے ہیں ۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اگر زبان کے اعتبار سے کسی مدد کی ضرورت ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں ( اذا اردتم المساعدة من ناحية

۹- بکلور میں اسلامی مرکز کی شاخ نے اطلاع دی ہے کہ اس نے کنٹری زبان میں کچھ ترجمے تیار کر لیے ہیں ؛ انشاء اللہ وہ جلد ہی شائع کیے جائیں گے ۔

ساتویں عالمی کتابی نمائش ( ورلڈ بک فیئر ) نئی دہلی میں فروری ۱۹۸۶ میں ہوئی ۔ اس موقع پر اسلامی مرکز کا ایک اسٹال لگایا ۔ اسلامی مرکز کے بنگ اسٹال کا نمبر 260 تھا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگ اسٹال پر آئے ۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں خریدیں ، الرسالہ کی خریداری قبول کی اور اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا۔ یہاں بطور نمونہ چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں : قوّاكم الله وبارك في جهودكم (ڈاکٹر شفیق احمد ندوی ، جامعہ ملیہ نئی دہلی)

"اسلامک سینٹر کے اسٹال پر حاضری کی تمنا کئی روز سے تھی ۔ الحمدللہ آج اس کا موقع ہاتھ آیا میں جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب کی نگارشات کا برسوں سے مطالعہ کر رہا ہوں، لیکن یہ اندازہ بالکل نہ تھا کہ مولانا محترم نے اس قدر کتابیں تصنیف فرمائی ہوں گی۔ کمیت اور کیفیت دونوں ہی قابل تعریف ہیں۔ مولانا کی تحریر نہایت فکر انگیز اور جدید ذہن کے عین مطابق ہے۔ اسلامی نقطہ نظر کی عکاسی جس خوبی سے مولانا نے اپنی تصانیف میں کی ہے اس کی مثال کہیں اور مشکل سے ملے گی ۔ ڈاکٹر ثانی اثنین صاحب بھی مبارک باد کے قابل ہیں کہ انھوں نے اپنے اسٹال کو ایسا منظم کر رکھا ہے کہ ایسا سلیقہ کسی اور اسلامی اسٹال میں میں نے نہیں دیکھا۔

Dr. Syed Ausaf Ali, Indian Institute of Islamic Studies, New Delhi I welcome such publications so that even non-Muslims may understand the greatness of Islamic religion and culture. N.S. Saksena, 139 Civil Lines, Bareilly 243001 Is it possible for a person to write so much. Perhaps not but with the grace of God. Shabi Ahmed, LCHR, 35 Feroz Shah Road, New Delhi. ۱۰- ۲۱ فروری ۸۶ کو نئی دہلی میں مسلم اور ہندو اہل فکر کی ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کا مقصد اس صورت حال پر غور کرنا تھا جو بابری مسجد کے سلسلے میں حال میں ملک کے اندر پیدا ہوئی ہے۔ اسلامی مرکز بھی اس موقع پر شریک ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

۱۱- تذکیر القرآن کی تحریر اور کتابت کا کام خدا کے فضل سے مسلسل جاری ہے۔ اس کے ستائیس پارے تک تیار ہوگئے ہیں۔ انشاء اللہ امید ہے کہ ۱۹۸۶ء میں اس کی دوسری جلد چھپ کر آ جائے گی۔ ۱۲- پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ چھپ کر تیار ہو گیا ہے اور حسب فرمائش اس کی روانگی شروع جلد ہی شروع ہو جائے گی ۔

۱۳- اسلامی مرکز کے لٹریچر کو ہندی میں منتقل کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ چنانچہ اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پہلی کتاب کے طور پر "انسان اپنے کو پہچان" کا ہندی ترجمہ اس وقت زیر طبع ہے ۔

Printed page