اقوالِ مفسرین
Al-Risala, May 1986, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت کی نہایت واضح تشریح حدیث اور آثار میں موجود ہے۔ تفسیروں میں اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس کا پورا ترجمہ ہم یہاں نقل کرتے
علی بن ابی طلحہ نے کہا اور عبداللہ بن عباس نے بھی کہ یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کا مال ہو اور اس مال کو لینے کے لیے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو پھر بھی وہ
مال کی ادائیگی سے انکار کرے ۔ اور وہ حاکموں کی طرف مقدمہ لے جائے حالاں کہ وہ جانتا ہو کہ حق اس کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہو کہ وہ گنہ گار ہے اور وہ حرام کو کھانے والا ہے۔ اور ایسا ہی قول مروی ہے مجاہد سے اور سعید بن جبیر سے اور عکرمہ سے اور حسن سے اور قتادہ سے اور سدی سے اور مقاتل بن حیان سے اور عبد الرحمان بن زید بن اسلم سے ، انھوں نے کہا کہ تم کسی سے جھگڑا نہ کرو جب کہ تم جانتے ہو کہ تم ظالم ہو۔ اور صحیحین میں ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو ، بے شک میں ایک انسان ہوں اور میرے پاس جھگڑا آتا ہے۔ پس ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ زبان آور ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں تو میں جس شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو بے شک وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے ، تو وہ چاہے اس کو لے جائے یا وہ اس کو چھوڑ دے ۔
اور یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ حاکم کا فیصلہ کسی چیز کو حقیقت میں نہیں وہ کسی حرام کو حلال نہیں کر سکتا ۔ جب کہ وہ حقیقۃً حرام ہو اور وہ کسی حلال کو حرام نہیں کر سکتا جب کہ وہ حقیقۃً حلال ہو ۔ اور قاضی ظاہر کا پابند ہوتا ہے ۔ اگر اس کا فیصلہ حقیقت کے مطابق ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ حاکم کے لیے اس کا اجر ہے اور حیلہ ساز کے اوپر اس کا بوجھ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ اور اس کو حکام تک نہ لے جاؤ تا کہ تم لوگوں کے مال کا ایک حصہ بہ طریق گناہ کھاؤ حالاں کہ تم جانتے ہو) یعنی تم اپنے دعویٰ کے باطل ہونے کو جانتے ہو مگر اپنے کلام میں اس کو گڈ مڈ کرتے ہو۔
قتادہ نے کہا اے انسان جان لے کہ قاضی کا فیصلہ تمہارے لیے کسی حرام کو حلال نہیں کرتا۔ اور تم کو باطل کا حقدار نہیں بناتا ۔ اور قاضی تو اس پر فیصلہ کرتا ہے جو اس نے دیکھا اور جو اس کے سامنے گواہی دی گئی ۔ قاضی ایک انسان ہے ، وہ صحیح بھی ہوتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے اور جان لو کہ جس شخص کے حق میں باطل کا فیصلہ کیا جائے اس کا مقدمہ ختم نہ ہوگا یہاں تک کہ اللہ دونوں فریقوں کو قیامت میں جمع کرے ۔ پھر اللہ حق دار کے لیے بے حق والے کے اوپر اس سے بہتر فیصلہ کرے گا جو فیصلہ قاضی نے حق دار کے خلاف بے حق والے کے لیے دنیا میں کیا (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۲۲۵)