شرعی قانون کی حکمت
Al-Risala, May 1986, pp. 12–14
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی قانون میں چور کے لیے یہ سزا رکھی گئی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تاکہ آئندہ لوگ اس کے شر سے محفوظ ہو جائیں اور اس کے انجام کو دیکھ کر دوسروں کو سبق حاصل ہو (مائدہ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک بے رحمانہ قانون ہے ۔ کسی معاشرہ میں اس پر عمل کیا جائے تو وہاں بے شمار لوگ بے ہاتھ ہو جائیں گے اور پورا معاشرہ بے کار معاشرہ بن کر رہ جائے گا۔ مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ میڈیکل سائنس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی عضو میں سپٹک ہو جائے تو اس کو فوراً کاٹ دینا چاہیے ۔ میڈیکل سائنس کے اس نظریہ کے عملی رواج کے باوجود اگر تمام لوگ بغیر ہاتھ پاؤں کے نہیں ہو گئے ہیں تو چوری کے بارہ میں اسلامی قانون کی وجہ سے لوگ بے ہاتھ کیوں ہو جائیں گے۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ اس قانون کو نافذ کیا گیا ، دور نبوت سے لے کر خلافت راشدہ کے خاتمہ تک صرف چھ آدمیوں کے ہاتھ کاٹے گیے اور ساری مسلم سلطنت میں امن قائم ہو گیا ۔ موجودہ زمانہ میں سعودی عرب میں یہ قانون نافذ ہے۔ مگر برسوں گزر جاتے ہیں اور ایک ہاتھ کاٹنے کی نوبت بھی نہیں آتی ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ قانون اپنے اندر چوری کو روکنے کی خاصیت (Deterrent Value) رکھتا ہے۔ قطع ید کے حکم کا مطلب ہاتھ کاٹنے سے زیادہ یہ ہے کہ لوگوں میں دہشت پیدا ہو جائے اور کوئی شخص چوری کرنے کی ہمت ہی نہ کرے۔ یہ فائدہ اسلام کے قانونی نظام میں پہلے بھی حاصل ہوا اور آج بھی حاصل ہو رہا ہے۔
معاشرہ کو بے کا ر کرنے کا اعتراض زیادہ صحیح طور پر موجودہ قوانین پر عائد ہوتا ہے۔ میں چوری کی ہلکی سزا ہونے کی وجہ سے مجرموں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ چوری کی وارداتیں بے حد بڑھ جاتی ہیں اور بے شمار لوگ چوری کے جرم میں پکڑ کر قید میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کو عمل کے میدان سے ہٹا کر ان کو قوم کے اوپر بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔ جب کہ شریعت کے مطابق چند آدمیوں کا ہاتھ کاٹ کر ہمیشہ کے لیے امن کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ لوگ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتے نتیجہ سماج کے عمل میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چند لوگوں کو سخت سزا دے کر سارے معاشرہ کو مستقل طور پر تحفظ کا احساس دے دیا جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ چند لوگوں کی خاطر مستقل طور پر معاشرہ سے
تحفظ کا احساس ختم کر دیا جائے ۔
یورپ اور امریکہ کے حالات نے اس نظریہ کو غلط ثابت کیا ہے کہ مادی فراوانی سے چوری خود بخود ختم ہو جائے گی ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں چوری کے واقعات غیر ترقی یافتہ ملکوں سے کم نہیں، البتہ شکلیں مختلف ہیں ۔ پس ماندہ ملک کا ایک شخص دیہاتی چودھری کے مکان میں نقب لگاتا ہے اور امریکہ میں وہ بنک کے اوپر ڈاکہ ڈالتا ہے ۔
قطع ید کی سزا نہ صرف سماج کو امن کی ضمانت دیتی ہے بلکہ ایک چور کا ہاتھ کاٹنا بہت سے لوگوں کو اس انجام سے بچاتا ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں انتہائی بے رحمی کے ساتھ کاٹ ڈالے جائیں ۔ ڈاکو جب کسی کا مال لوٹنے آتے ہیں تو وہ صرف مال نہیں لوٹتے، بلکہ صاحب مال پر بھی حملہ کرتے ہیں اور کبھی ان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں، کبھی ناکارہ بنا کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں تب بھی لوگوں کے ہاتھ پاؤں کٹتے رہیں گے اور دوسری صورت میں کٹنے کی تعداد یقینی طور پر پہلی صورت سے کہیں زیادہ ہوگی۔ جیسا کہ دنیا بھر کے تجربہ سے ثابت ہوا ہے ۔
قطع ید کے حکم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس "چوری" کی واردات ہوئی اور فوراً آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا گیا انسانی زندگی میں کوئی واقعہ بے شمار عوامل کے تحت ہوتا ہے اس لیے کسی متعین واقعہ پر حکم لگانے کے لیے سارے پہلوؤں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ حتیٰ کہ شریعت کا منشا یہ ہے کہ ایک قاضی کا معاف کرنے میں غلطی کر جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کر جائے ۔
چوری کی دو بڑی قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو مجرمانہ ذہنیت کے تحت کی جاتی ہے ۔ دوسری وہ جو ضرورت نا کسی سے کبھی صادر ہو جاتی ہے ۔ دوسری قسم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ مثلاً بھوک سے چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ، اسی طرح باپ کا بیٹے کے مال سے یا بیٹے کا باپ کے مال سے لینے پر بھی نہیں۔ غیر عاقل کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اور بہت سی صورتیں ہیں جن میں چوری کا واقعہ ہونے کے باوجود ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔
اسلام میں انسان کا اور اس کے " ہاتھ " کا جتنا احترام ہے کسی بھی دوسرے نظام میں اس سے زیادہ تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ مثال کے طور پر کوئی شخص ظلماً کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو اس کو ایک انسان کے قتل کی دیت کا نصف (پچاس اونٹ، مقطوع الید کو دینا پڑتا ہے۔ پیغمبر اسلام کے پاس ایک بار ایک
دیہاتی آیا، سلام کے بعد آپ نے اس سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے معذرت کی اور کہا کہ میرا ہاتھ موٹا کام کرنے کی وجہ سے سخت و درشت ہو گیا ہے۔ آپ نے بڑھ کر اس کے ہاتھ کو چوم لیا اور فرمایا جو ہاتھ محنت کی کمائی سے سخت ہو جائے، اس ہاتھ کو اللہ اور رسول بہت پسند کرتے ہیں۔ قرآن میں جہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں اس کا مقصد' ’’نکال‘‘ بتایا گیا ہے ۔ اس سے واضح ہے کہ اس سخت سزا کا اصل مقصد عبرت یا سبق ہے ۔ یعنی لوگوں کو جرم سے روکنا سماج کے اندر سے مجرمانہ ذہنیت کو ختم کرنا۔
جرم کی سزا کے بارہ میں اسلام کا یہ اصول بہ ظاہر سخت معلوم ہوتا ہے ۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ انسانی معاشرہ کے حق میں بہت بڑی رحمت ہے ۔ اس اصول کے تحت صرف وہی افراد سزا پاتے ہیں جو واقعی مجرم ہیں جب کہ مجرمین کو سخت سزا نہ دینے کی صورت میں مجرمین کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اس کی قیمت معاشرہ کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کے اچھے افراد وہ سزا پانے لگتے ہیں جو سزا صرف برے افراد کو ملنی چاہیے ۔
مجرمین اچھے اور برے لوگوں میں فرق نہیں کرتے ، وہ صرف اپنی خواہش اور اپنے مفاد کو دیکھتے ہیں ۔ چنانچہ اکثر وہ سماج کے نہایت قیمتی افراد کو مار ڈالتے ہیں یا ان کے ہاتھ پاؤں توڑ کر انہیں اپاہج بنا دیتے ہیں۔ یہ صورت حال ایسے ہر سماج میں جاری رہتی ہے جہاں مجرمین کو سخت سزا کا اندیشہ نہ ہو۔
اسلام سماج کے برے افراد کو سخت سزا دیتا ہے تاکہ سماج کے اچھے افراد بچ جائیں۔ کے برعکس دوسرے سماجوں میں برے افراد کو ہلکی سزا دی جاتی ہے یا انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج کے اچھے افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں۔
برے افراد کے لیے نرم قانون بنانا قانون سازی کی نفی ہے ۔ کیوں کہ قانون کا مقصد جرم کو ختم کرنا ہے اور نرم قانون سازی سے وہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
خوف واحد چیز ہے جو کسی مجرم کو جرم سے روکنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر قانونی نظام سے خوف کا عنصر نکال دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مجرم جرم کے لیے دلیر ہو جائے گا۔ اسلامی قانون مجرم کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور وضعی قانون مجرم کی حوصلہ افزائی۔