آه یه مسلمان
Al-Risala, May 1986, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ۱۹۴۷ء میں آزاد ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے ۔ جن کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ اندازہ ہے کہ پچھلے 40 سال میں بےاں تقریباً دس ہزار فسادات ہو چکے ہیں۔ ہندوستان کا تقریباً ہر فرقہ وارانہ فساد مسلمانوں کی یہ صبری سے شروع ہوتا ہے ۔ مخصوص نفسیات کی بنا پر چھوٹی سی خلاف مزاج بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں ۔ اور اس کے بعد معلوم اسباب کے تحت وہ دو قوموں کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جس میں نقصان ہمیشہ مسلمانوں کے حصہ میں آتا ہے ۔
ان فسادات کو ابھارنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری مسلم قائدین پر ہے ۔ مسلمانوں میں جتنے بھی لکھنے اور بولنے والے ہیں سب متفقہ طور پر جہاد کی باتیں کرتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کے اندر برابر لڑنے کا مزاج بناتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم کہ قرآن میں صبر کی بھی آیتیں ہیں ۔ تاہم دوسروں کو اپنی زبان و قلم سے جہاد پر ابھارنے والے یہ لوگ خود ہمیشہ جہاد کے میدان سے دور رہتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات میں اب تک بے شمار مسلمان مارے جاچکے ہیں مگر ان میں سے کسی فساد میں کوئی مسلمان قائد اب تک مارا نہیں گیا نہ کوئی چھوٹا قائد اور نہ کوئی بڑا قائد ۔
مسلم قائدین صرف دوسروں کو للکارنے کے لیے بہادر ہیں ، وہ خود لڑنے اور مرنے کے لیے بہادر نہیں ۔ دوسری طرف مسلم عوام کا حال یہ ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر مخالفت فرقہ کے ساتھ ہنگامہ آرائی شروع کر دیتے ہیں ۔ ان سے صبر اور اعراض کی بات کیجیے تو وہ فوراً جواب دیں گے کہ اگر ہم نے صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا تو مخالف طاقتیں دلیر ہو جائیں گی ۔ مگر عملاً کیا ہوتا ہے ۔ عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ابتدائی مرحلہ میں بے صبر ہو کر لڑ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد جب وہ جلائے پھونکے جاتے ہیں اور پولیس آکر وحشیانہ طور پر انھیں کچلنے لگتی ہے تو وہی مسلمان بالکل دوسرے مسلمان بن جاتے ہیں ۔ فساد کے آغاز میں مسلمان چپ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے مگر فساد کے خاتمہ پر ہر مسلمان نہایت بزدلانہ طور پر عین اسی مقام پر خاموش ہو جاتا ہے جہاں اس سے پہلے وہ کاغذ اور مانگ کا شیر بنا ہوا تھا ۔ کاش مسلمان جلنے کے بزدلی دکھاکر چپ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی بزدلی دکھائے بغیر چپ ہو جاتے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت موجود تھے جب کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے غزوہ حنین کے بعد مالِ غنیمت کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس سلسلے کی ایک طویل روایت کا ایک حصہ یہ ہے :
جاء رجل من بنى تميم يقال له ذوالخويصرة فوقف عليه وهو يعطى الناس - فقال یا محمد قد رأيت ما صنعت في هذا اليوم - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم، اجل فكيف رأيت - فقال لم أركَ عَدَلْتَ۔ (سيرة ابن هشام، الجزء الرابع ، صفحه ۱۴۴) بنو تمیم کا ایک شخص آیا جس کا نام ذو الخُو یصرہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اور آپ اس وقت لوگوں کو دے رہے تھے۔ نے کہا کہ اے محمد، میں نے دیکھ لیا جو آپ نے آج کے دن کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے انصاف کیا ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ عُیینہ بن حصن مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں ٹھہرے ۔ پھر وہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے یہاں اجازت لے کر حاضر ہوئے جب وہ آئے تو انھوں نے کہا :
هي ياابن الخطاب، فو الله ما تعطينـا الجزل ولا تحكم فينا بالعدل ۔
(رياض الصالحين صفحه ۱۱۴)
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ غضب آلود ہوئے اے خطاب کے لڑکے ، خدا کی قسم آپ نہ ہم کو کچھ دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ۔
مذکورہ دونوں الزام یقینی طور پر غلط تھے ۔ پھر بھی دو معصوم ترین روحوں پر الزام لگانے کے لیے لوگوں نے الفاظ پالیے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے یہ کافی نہیں کہ کچھ لوگ اس کے خلاف کچھ الفاظ پالیں۔ لوگوں کو بہر حال اس قسم کے الفاظ ملتے رہیں گے کہ وہ جس کو بد نام کرنا چاہیں بد نام کریں۔ یہاں تک کہ قیامت کا زلزلہ آئے اور لوگوں سے ناحق کلام کے اس بنیادی حق کو پامال کرنے نہیں دیا۔ کرنے کی آزادی چھین لے۔
سے دیپ موریہ کا نام لیں۔