Al-Risala · January 1986

صحابی کی مثال

Al-Risala, January 1986, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اخر ج ابو نعيم فى الحلية عن ثابت البناني قال : خطب يزيد بن معاوية الى ابی الدرداء رضی اللہ عنہ ابنتہ الدرداء - فردہ - فقال رجل من جلساء يزيد اصلحك الله تأذن لي أن أتزوجها - قال اغرب ويلك - قال فاذن لي اصلحك الله ۔ قال نعم - فقال فخطبها فانكحها أبو الدرداء الرجل - قال فسار ذلك في الناس ان يزيد خطب الى ابی الدرداء فردہ ۔ وخطب اليه رجل من ضعفاء المسلمين فانكحه ۔ ابو الدرداء ، اني نظرت للدرداء ، ما ظنكم بالدرداء اذا قامت على رأسها الخصيان ونظرت في بيوت يلتمع فيها بصرها ، أين دينها منها يومئذ ابونُعیم نے حلیۃ الاولیاء میں ثابت بنانی سے نقل کیا ہے کہ یزید بن معاویہ نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی لڑکی دردار کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت ابو الدرداء نے اس کو رد کر دیا اس وقت یزید کے یہاں بیٹھنے والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ تمہارا بھلا کرے ، تم مجھے اجازت دو کہ میں اس سے نکاح کر لوں۔ یزید نے کہا۔ دور ہو ، تمہارا ناس ہو جائے ۔ اس آدمی نے دوبارہ کہا کہ مجھے اجازت دو ، اللہ تمہارا بھلا کرے ۔ یزید نے کہا بہت اچھا۔ راوی کہتے ہیں کہ اس آدمی نے پیغام دیا تو حضرت ابو الدرداء نے اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوا کہ یزید نے ابو الدرداء کو پیغام دیا تو انھوں نے رد کر دیا اور کمزور مسلمانوں میں سے ایک شخص نے پیغام دیا تو انھوں نے اس سے نکاح کر دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے یہ سن کر کہا: میں نے اس معاملہ میں در دار کا لحاظ کیا۔ دردار کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ، جب اس کے سرہانے خصی غلام کھڑے ہوتے اور وہ ایسے گھروں کو دیکھتی جس میں اس کی آنکھیں چکا چوند ہو جاتیں، اس میں اس وقت اس کا دین کہاں رہ جاتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مومن کو اپنی اولاد کے معاملہ میں کیسا ہونا مومن کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اپنی اولاد کے دین و ایمان کی حفاظت کرے ۔ وہ ان کے دنیا کے مستقبل سے زیادہ ان کے آخرت کے مستقبل کے لیے فکر مند ہو۔

علماء اسلام نے ایمان کی پانچ قسمیں کی ہیں :

الایمان المطبوع وهو ایمان الملائکہ نقش کیا ہوا ایمان اور وہ فرشتوں کا ایمان ہے۔ والایمان المعصوم وهو ایمان الانبیاء معصوم ایمان اور وہ پیغمبروں کا ایمان ہے۔ والایمان المقبول وهو ایمان المومنین مقبول ایمان اور وہ مومنین کا ایمان ہے۔ والایمان الموقوف وهو ایمان المبتدعین موقوف کیا ہوا ایمان اور وہ بدعتی لوگوں کا ایمان ہے۔ والایمان المردود وهو ایمان المنافقین رد کیا ہوا ایمان اور وہ منافقین کا ایمان ہے۔ اس قسم کی فنی تقسیم بہت زیادہ غلط فہمی پیدا کرنے والی ہے ۔ بظاہر اس تقسیم میں ہر بات بیان ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جو اصل بات ہے وہی اس میں غیر مذکور یا کم از کم غیر واضح ہے اور وہ ہے عارف کا ایمان۔

ایمان کی اصل قسم وہ ہے جس کو معرفت یا دریافت کہا جا سکتا ہے ۔ ایک شخص اپنے آپ کو دیکھتا وہ کائنات میں غور کرتا ہے ۔ وہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرتا ہے ۔ اس مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ یہاں ایک خالق و مالک ہے ۔ وہ ذاتی دریافت کے طور پر معلوم کرتا ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے اور محمد بن عبد اللہ خدا کے سچے رسول ہیں ۔

یہ ایمان جو کسی آدمی کو بطور دریافت حاصل ہوتا ہے یہ اتنی بڑی حقیقت ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کو کسی خانہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ یہ لا محدود خدا کا مشاہدہ ہے پھر کوئی محدود زبان کیونکر اس کا احاطہ کر سکتی ہے ۔ یہ ابدی حقیقت کا انکشاف ہے پھر اس کو وقتی اصطلاحوں میں کس طرح بیان کیا جاسکتا ہے ۔ یہ محسوسات سے ماورا ہستی کا ادراک ہے پھر اس کو محسوسات کے دائرہ میں کیسے ظاہر کیا جا سکتا ہے ۔

ایک ایسی چیز جس کا تعلق گہرے معنوی حقائق سے ہو اس کو فنی الفاظ میں بیان کرنا ہمیشہ ایک نقصان کی قیمت پر ہوتا ہے ۔ اس میں وہی بات بیان ہونے سے رہ جاتی ہے جو کہ اصل بات ہے ۔ میں وہی بات مذکور نہیں ہوتی جس کا ذکر سب سے پہلے ہونا چاہیے ۔

Printed page