Al-Risala · May 1986

مہر موجّل

Al-Risala, May 1986, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

مہر کی دوسری صورت یہ ہے کہ مرد یہ وعدہ کرے کہ وہ اتنی مدت میں اس کو ادا کر دے گا۔ دوسری قسم کی مہر کا شرعی نام مہر موجّل ہے۔ موجّل کا لفظ اجل (مدت) سے بنا ہے۔ مہر موجّل کا مطلب یہ ہے کہ وہ مہر جس کی ادائیگی کے لیے ایک وقت اور ایک مدت مقرر کر دی جائے۔ نکاح فوراً مہر ادا نہ کیا جا رہا ہو تو اسی وقت اس کی ادائیگی کی مدت کی تعیین ضروری ہے۔ مہر موجّل کی ایک مثال حضرت موسیٰ کے نکاح میں ملتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے نکل کر مدین پہنچے تو وہاں انھوں نے حضرت شعیب کی صاحبزادی (صفورا) سے نکاح کیا۔ یہ نکاح مہر موجّل پر ہوا تھا۔ نکاح کی مہر طرفین کی رضامندی سے یہ قرار پائی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بوڑھے خسر حضرت شعیب کی بکریاں چرائیں۔ اس گلہ بانی کی اجل (مدت) کسے وہ قدیم سلام آپ کے بڑے بھائی کی طرف ہے۔

اس کے بعد اس نے چند شعر پڑھے جو اس

کم آٹھ سال نہ زیادہ سے زیادہ دس سال تھی۔ اس کے مطابق حضرت موسیٰ کا نکاح ہوا اور پھر انھوں نے دس سال تک حضرت شعیب کے گھر پر خدمت کی۔ اس طرح مہر موجل کو پورا کر کے وہ دوبارہ مدینہ سے مصر کے لیے روانہ ہو گئے (القصص)۔

مہر موجل کسی قسم کے غیر متعین مہر کا نام نہیں ہے۔ شرعی اعتبار سے مہر موجل وہ ہے جس کی ادائیگی کی اجل (مدت) بوقت نکاح طے ہو اور وہ اپنے مقررہ وقت پر پوری طرح ادا کر دی جائے ۔

Printed page