فقہاء کی رائے
Al-Risala, May 1986, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
مہر کا اصل شرعی طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے ۔ اسی پر اکثر صحابہ کا عمل رہا ہے۔ گویا اصل مہر وہی ہے جو مہر معجل ہو۔ مہر کی دوسری قسم (مہر موجل) دوسرا برابر درجہ کا طریقہ نہیں۔ یہ صرف رخصت کا طریقہ ہے۔ اصلًا مہر کی ایک ہی قسم ہے، اور وہ فوراً ادا کر دینا ہے۔ بطور رخصت یہ دوسرا طریقہ بھی رکھا گیا ہے تاکہ آدمی حسب ضرورت نکاح کے بعد بھی مقررہ مدت پر اس کو ادا کر کے بری الذمہ ہو سکے ۔
مہر کے بارہ میں تفصیلی ابواب فقہ کی کتابوں میں آئے ہیں۔ عبدالرحمن الجزری کی کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں مہر (مباحث الصداق) پر85 صفحات ہیں ۔ مہر کے موجل یا معجل (تأجيل الصداق و تعجيلہ) کے مسائل چار صفحات میں بیان ہوئے ہیں ۔ اس بارہ میں اگر چہ فقہاء کے درمیان بعض اختلافات ہیں مگر وہ تمام تر جزئی ہیں ۔ ان جزئی اختلافات سے قطع نظر مختلف فقہاء کے اقوال کا خلاصہ صاحب کتاب کے الفاظ میں یہ ہے :
الحنفیة : قالوا يجوز تأجيل الصداق وتعجيله حنفیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے۔ اس کا کل كله او بعضه ۔ ولكن يشترط ان لا يكون یا جزء فوری طور پر دیا بھی جا سکتا ہے۔ مگر شرط یہ الأجل مجهولاً ۔
المالكية : فاذا كان الصداق غير معين مالکیہ کا قول ہے کہ مہر جب غیر معین ہو تو اس کا کل فانه يجوز كله او بعضه بشرط ان لا يكون یا جزء جائز ہے اس شرط پر کہ مدت مجہول الأجل مجهولاً ۔
الحنابلة : قالوا يجوز ان يوّجل الصداق حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے کہ مہر کا کل یا جزء كله او بعضه بشرط ان لا يكون مؤخر کیا جائے اس شرط پر کہ مدت مجہول نہ
الشافعية : قالوا يجوز تأجيل الصداق شافعیہ کا کہنا ہے کہ مہر کی تاخیر جائز ہے اس بشرط ان لا يكون الاجل مجهولاً سواء شرط پر کہ مدت مجہول نہ ہو۔ خواہ مہر کا کل حصہ كان المؤجل كل الصداق او بعضه ۔ موجل ہو یا اس کا جزئی حصہ ۔
كتاب الفقه على المذاهب الاربعة، الجزء الرابع ، مصر ۱۹۶۹ ، صفحه ۱۵۶ - ۱۵۳ زیادہ مہر نہیں مہر رقم میں بھی دی جاسکتی ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مقدار حسب استعداد مقرر کی جائے ۔ وہ اتنی ہی ہو کہ آدمی سہولت کے ساتھ اس کو اسی وقت ادا کر سکے ۔ مہر کی کم سے کم حد کے بارہ میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں ۔ تاہم ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ اتنی ہو کہ اس کے ذریعے سے ضرورت کی کوئی چیز خریدی جا سکے ۔ ہر وہ رقم مہر بن سکتی ہے جو کسی چیز کی قیمت ہو (كل ما صح ثمناً صح صداقاً، الفقه على المذاهب الاربعة ، جلد ۴ ، صفحه ۱۰۷ )
احادیث میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں جس میں زیادہ مہر مقرر کرنے کی ہمت افزائی کی گئی ہو۔ اس کے برعکس بہت سی روایتیں ہیں جن میں کم مہر مقرر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ ہمیشہ تلقین کا ہوتا ہے نہ کہ تحریم کا ۔ چنانچہ زیادہ مہر کو اگرچہ بالکل ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے مگر تمام روایتیں اسی کے حق میں ہیں کہ مہر زیادہ نہ باندھی جائے ۔ یہ ہیں :
عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : سب عليه وسلم خير النساء ايسرهن صداقاً۔ سے بہتر عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ عن عائشة انه صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی
من يمن المرأة : سهل أمرها وقلة بركتها و هے هے کہ اس کا معاملہ سهل ہو
روی احمد والبيهقى : اعظم النساء بركة ايسر هن صداقاً عن ابی سلمة قال سألت عائشة كم كان صداق النبی صلى الله عليه وسلم ۔ كان صداقه لأزواجه اثنتی عشر اوقية ونش ۔ قالت اتدرى ما النش۔
قلت لا ۔ قالت نصف اوقية (رواه مسلم)