Al-Risala · May 1986

غیر افضل طریقہ

Al-Risala, May 1986, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مہر میں کس نے چار سو درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا ۔ اور اگر مہر میں زیا دتی تقویٰ اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جا سکتے تھے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو ، تم عورتوں کے مہر نہ زیادہ نہ باندھو۔ اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہؐ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے

یا کسی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا ہے تو میں زیادہ مقدار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے اترے تو قریش ایک عورت سامنے آئی ۔ اس نے کہا اے امیر المومنین ، اللہ کی کتاب زیادہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول ۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ اللہ کی کتاب ۔ نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی کریں، اور اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ __ اور اگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو طلاق کے بعد) اس میں سے کچھ نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے کہا : ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے (کل احد افقه من عمر) آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا ۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ منبر پر آئے اور لوگوں

انى كنت نهيتكم ان تغالوا في صداق النساء میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا فليفعل رجل في ماله ما بدا له و عند تھا ۔ اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں ابی عمر بن فضالة في اماليه عن عمر قال) جو چاہے کرے (آپ نے مزید فرمایا) ہر اگرچہ آخرت میں لو كان المهر متاعا ورفعة في الآخرة بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ ونساءه احق بهذا الملك (كنز العمال) مستحق تھیں ۔

اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں نہ زیادہ مہر باندھنا اگر چہ خالص قانونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مہر کم تھے ۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنایا اپنی بیٹیوں کا مہر زیادہ مقرر کیا ہو ۔

Printed page