دعوتی امکان
Al-Risala, June 1986, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
فرانس کے ڈاکٹر جرینیہ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوہ میں ان کے بارے میں حسب ذیل رپورٹ شائع ہوئی ہے :
اننی تتبعت كل الآيات القرآنية التي میں نے قرآن کی ان تمام آیات کا تتبع کیا جن کا تعلق لها ارتباط بالعلوم الطبية والصحية مختلف طبیعیاتی علوم سے ہے ، جن کو میں نے کم عمری والطبيعية التي درستها من صغري سے پڑھا ہے اور جن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ واعرفها جيدا فوجدت هذه الآيات نے پایا کہ قرآن کی یہ آیتیں ہماری جدید معلومات منطبقة كل الانطباق على معارفنا سے کلی مطابقت رکھتی ہیں۔ میں نے اسلام قبول الحديثة .. لقد اسلمت لانني تيقنت کر لیا کیوں کہ مجھے یقین ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ ان محمد اصلى الله عليه وسلم اتى بالحق وسلم حق لے کر آئے۔ وہ ہزار سال پہلے پیدا ہوئے الصراح من قبل الفاسنة دون معلم انھوں نے کسی استاد سے تعلیم حاصل نہیں کی۔ او مدرس من البشر ولو ان كل صاحب پھر بھی ان کی ہر بات بالکل صحیح ثابت ہوئی ۔ فن من الفنون او علم من العلوم قارن اگر علوم کے ماہرین یہ کریں کہ وہ قرآن کی آیتوں کا كل الآيات القرآنية المرتبطة بما يعلم اپنی معلومات سے مقابلہ کریں جیسا کہ میں نے كما فعلت انا لا سلام بلاشك ان كان عاقلا کیا ہے تو یقینا وہ سب اسلام قبول کر لیں گے، خاليا من الاغراض ۔ (الدعوة، الرياض ۹ دسمبر ۱۹۸۵ء بشرطیکہ وہ اغراض سے خالی ہو کر اسے دیکھیں۔ قرآن کو جب ایک شخص کھلے ذہن کے ساتھ پڑھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جو " ساتویں صدی " میں بھی " بیسویں صدی " کی باتوں کو جانتا تھا۔ قرآن کا یہ امتیاز واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدائے عالم الغیب کی کتاب ہے۔ یہ کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب قرآن کی یہ استثنائی صفت قرآن کا زندہ معجزہ ہے۔ قرآن کی دعوت کو اگر آج کے انسان کے سامنے پیش کیا جائے تو قرآن کی یہ صفت اس کے حق میں بہت بڑی معجزاتی تائید ثابت ہوگی۔ لوگ مجبور ہوں گے کہ اس کو مانیں اور اس پر ایمان لائیں۔