Al-Risala · June 1986

تصویر ملت

Al-Risala, June 1986, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

گاؤں کے چند لڑکے بے فکری کے ساتھ بیٹھے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے ۔ نے کہا کہ آؤ، جھوٹ موٹ کی کھچڑی پکائیں ۔ دوسرا لڑکا بولا : جب جھوٹ موٹ ہی پکانا ہے تو کھچڑی کیوں پکائیں ، پھر تو پلاؤ پکائیں ۔

یہی حال موجودہ زمانہ کے مسلم قائدین کا ہوا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹے پکوان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک قائد اٹھتا ہے اور پہلے سے زیادہ بڑا لفظ بول کر عوام کی ایک بھیڑ کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے ۔ ایک شخص اگر جھوٹی کھچڑی پکار رہا تھا تو دوسرا شخص جھوٹا پلاؤ اور جھوٹی بریانی پکانا شروع کر دیتا ہے ۔

ایک قائد نے کہا : ہمارا مقصد ملک کے اندر اسلامی قانون نافذ کرنا ہے ۔ دوسرا قائد بولا ہم تو پورے کرہ ارض پر اسلام کے کامل نظام عدل و قسط کو غالب و قائم کرنا چاہتے ہیں ۔

تیسرے قائد نے کہا ہمارے دین کی حقیقت احتساب کائنات ہے ۔ ہم کو ستاروں سے بھی آگے جانا کیا تم کو نہیں معلوم کہ ۔ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں ۔

آدمی عمل سے جتنا زیادہ خالی ہو اتنا ہی زیادہ بڑے الفاظ وہ بولتا ہے ۔ ان قائدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے قدموں کے نیچے بھی اسلام کو قائم کرنے میں ناکام ہیں ، اس کے باوجود وہ تقریروں میں ساری انسانیت کو خطاب کر رہے ہیں اور سارے عالم میں نظام عدل قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے اس قسم کے الفاظ بولنے والے صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ مردہ لوگ ہیں ، وہ زندہ لوگ نہیں ۔ مردہ لوگ بڑے بڑے الفاظ بولتے ہیں اور زندہ لوگ بڑے بڑے کام کرتے

اس عموم میں صرف تبلیغی جماعت کا ایک استثناء ہے ۔ وہ احتساب خویش کے لیے اٹھی ہے نہ کہ دوسروں کی طرح احتساب عالم کے لیے ۔ اور یقیناً احتساب خویش ہی وہ کام ہے جو کرنے والوں کو کرنا چاہیے ، اور جس کے لیے اٹھنے والوں کو اٹھنا چاہیے ۔

Printed page