Al-Risala · June 1986

اقدام سے پہلے

Al-Risala, June 1986, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

عن ابن عباس ان عبد الرحمن بن عوف و حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ حضرت اصحاباله اتوا النبي صلى الله عليه وسلم عبدالرحمن بن عوف اور ان کے ساتھی مکہ میں رسول اللہ بمكة فقالوا يا نبي الله كنا في عزة ونحن کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، جب ہم مشركون فلما آمنا صرنا اذلة قال: مشرک تھے تو ہم عزت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اني أمرت بالعفو فلا تقاتلوا القوم جب ہم ایمان لائے تو ہم ذلیل ہوگئے ۔ (تفسیر ابن كثير، الجزئر الاول، صفحه ۵۲۶) صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے معاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو تم قوم سے جنگ نہ کرو۔

اسی واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کی یاد گیا ہے : کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ( الم تر الى الذين قيل لهم كفوا ايديكم وأقيموا الصلوة وآتوا الزكوة ، النساء (۷۷)

قدیم مفسرین نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے :

فيه تنبيه على ان الجهاد مع النفس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منکروں سے جہاد کرنے لاصلاح قلبه ونفسه مقدم علی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اپنے قلب اور نفس کی الجهاد مع الكفار اصلاح کے لیے اپنے آپ سے جہاد کیا (التفسير المظهري، المجلد الثانی، صفحه (۱۹۵) جائے ۔

یہاں " ہاتھ کو روکو اور نماز قائم کرو " کے فقرہ میں جو حکم دیا گیا ہے اس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا ۔ " خارجی اقدام سے رکو اور داخلی تیاری کرو " نماز کی اصل حقیقت اگر چہ اللہ کیا ہے (اقم الصلوة لذکری) مگر اس کا نظام اس طرح مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کی پوری زندگی کی اصلاح کے لیے ایک مکمل کورس بن گیا ہے ۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس نے نماز کو ضائع کیا وہ بقیہ چیزوں کو بھی یقینی طور پر ضائع کر دے گا (من ضيعها فهو ماسواها أضيع )

اسلام میں جنگ صرف بطور دفاع ہے۔ اسلام میں اصل چیز دعوت ہے۔ یعنی لوگوں کو پرامن طور پر اور حکیمانہ انداز میں حق کی طرف بلانا۔ یہی اسلامی عمل کا آغاز ہے اور یہی اس کا اختتام بھی۔ تاہم فریق ثانی اگر جارحیت سے باز نہ آئے تو اس سے دفاعی جنگ کی جائے گی۔

مگر دفاعی جنگ کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے مسلمان نماز کو قائم کرنے والے بن نماز کیا ہے۔ نماز ایک مکمل دینی تربیت ہے۔ نماز میں یہ ہوتا ہے کہ موذن پکارتا ہے "آؤ فلاح کی طرف" اور تمام مسلمان اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ وہ اپنے کو پاک صاف کر کے نماز میں داخل ہوتے ہیں۔ نماز میں وہ بار بار اللہ اکبر کہہ کر اللہ کے بڑے ہونے اور اس کے مقابلہ میں اپنے چھوٹے ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ تمام مسلمان صف بستہ ہو کر صرف ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ کوئی ایک شخص بھی ادھر ادھر منتشر نہیں ہوتا۔ نماز ختم ہونے کے بعد تمام نمازی دائیں بائیں رخ کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے ہیں۔ اس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ دوسرے انسانوں کے لیے ان کے اندر خیر خواہی کا جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ ان کے لیے اللہ سے دعا کرنے والے بن گئے ہیں۔

یہی وہ نماز ہے جس کی اقامت کو جہاد سے پہلے لازم قرار دیا گیا ہے۔ مسلمان جب تک ان معنوں میں نماز کو قائم کرنے والے نہ بن چکے ہوں ان کے لیے جہاد و مقابلہ کے لیے نکلنا جائز نہیں۔ تربیتی کورس سے پوری طرح گزرنے سے پہلے صرف صبر کرنا ہے ۔ فریق ثانی خواہ کتنا ہی ظلم کرے انھیں یک طرفہ طور پر صرف صبر اور برداشت کے رویہ پر قائم رہنا ہے ۔ مسلمان اگر اس نماز پر اپنے آپ کو پوری طرح قائم کر لینے سے پہلے جہاد کی باتیں کریں تو وہ سراسر باطل ہوگا ۔ اس کا خدا اور رسول کے طریقے سے کوئی تعلق نہیں ۔

خدا نے جہاد کا جو طریقہ بتایا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے پورے اہتمام کے ساتھ نماز قائم ایسی حالت میں جو لوگ نماز کی اقامت کے بغیر جہاد کی اقامت کا نعرہ لگائیں وہ بلاشبہ غلطی پر ہیں۔ وہ لوگوں کو ایک ایسے دین کی طرف بلا رہے ہیں جس کو انھوں نے خود گھڑا ہے ۔ اور جو دین خود گھڑا جائے وہ یقین طور پر صرف آدمی کی بربادی میں اضافہ کرے گا، وہ کسی حال میں آدمی کی کامیابی اور ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا ۔

Printed page