ایک مثال
Al-Risala, June 1986, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ایک مارکسی پروفیسر عرفان حبیب پر یونیورسٹی کے کچھ مسلمان لڑکوں نے اس کے بعد دہلی کے ایک انگریزی اخبار کا رپورٹر علی گڑھ پہنچا۔ اس نے مذکورہ مارکسی پروفیسر کا انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس (۱۳ جنوری ۱۹۸۱) میں چھپا۔ اس انٹرویو کے چھپنے کے بعد یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ اور زیادہ مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے یونیورسٹی کیمپس میں توڑ پھوڑ اور او دھم بازی شروع کر دی، یہاں تک کہ یونیورسٹی بند ہونے کی نوبت آگئی۔
انھیں دنوں دلی کے ایک اردو ہفتہ وار کے ایڈیٹر ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آج شام کو ہمارے اخبار کی کاپی پریس جا رہی ہے اور مجھے فوری طور پر علی گڑھ کے بارہ میں ایک اداریہ لکھنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے پروفیسر حبیب کا وہ انٹرویو پڑھا ہے جس کی بنیاد پر یہ ہنگامے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے اصل انٹرویو کو نہیں پڑھا تو آپ اس کے بارہ میں اداریہ کیسے لکھیں گے۔ "ہم چپ رہیں گے تو ہم مسلم عوام سے کٹ جائیں گے" انھوں نے کہا اور باہر چلے ان کا اخبار میرے پاس آیا تو اس میں علی گڑھ کے بارے میں ایک پر شور اداریہ موجود تھا۔ اس کے بعد مجھے خود اس موضوع پر لکھنے کی فکر ہوئی۔ میں نے چاہا کہ سب سے پہلے میں پروفیسر
عرفان حبیب کا مطبوعہ انٹرویو پڑھوں۔ اس سلسلے میں میں نے متعدد اردو اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان سے معلوم کیا اور انھیں ٹیلی فون کیے ۔ مگر نہ تو کسی کے پاس انڈین ایکسپریس کا مطبوعہ پرچہ موجود تھا اور نہ ایسے لوگ ملے جو یہ کہیں کہ انھوں نے مذکورہ انٹرویو پورا پڑھا ہے۔ حالاں کہ یہ تمام اخبارات وہ تھے جو پروفیسر عرفان حبیب کے خلاف اور علی گڑھ کے مسلم طلبہ کی حمایت میں پر شور مضامین اور خطوط شائع کر رہے تھے۔ اس موضوع پر اس زمانہ میں تقریباً ہر اردو اخبار نے لکھا تھا۔ مگر کسی ایک اخبار نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ پروفیسر عرفان حبیب کے متنازعہ انٹرویو کا مکمل ترجمہ چھاپے تاکہ اردو قارئین اصل انٹرویو کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو سکیں ۔ ہر ایک صرف اپنا تبصرہ چھاپ رہا تھا، متنازعہ انٹرویو کسی نے بھی نہیں چھاپا ۔
آخر کار میں اس کی تلاش میں انڈین ایکسپریس کے دفتر گیا۔ وہاں اخبار کی فائل نکلوا کر پروفیسر عرفان حبیب کا مذکورہ انٹرویو پڑھا۔ اس کی فوٹو کاپی لی۔ اور پھر اس کے بارے میں دو صفحہ کا ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ الرساله (اگست (۱۹۸۱) میں چھپ چکا ہے۔ میرے اس مضمون کا عنوان تھا ــــــــــــ آہ یہ بے شعوری "
پروفیسر عرفان حبیب کے اس مطبوعہ انٹرویو کو آپ پڑھیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جس پر مشتعل ہونے کی ضرورت ہو۔ اس انٹرویو کا خلاصہ یہ ہے کہ علی گڑھ کے طلبہ میں ایک گروہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو تعلیم سے زیادہ ہنگامہ بازی میں دل چسپی رکھتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ عین وہی واقعہ تھا جس کی تصدیق خود ان طلبہ نے انٹرویو کے بعد یونیورسٹی میں اپنے پر تشدد ہنگاموں سے عملی طور پر فراہم کر دی ۔
ایک مسلمان ایڈیٹر صاحب جنہوں نے اصل انٹرویو کا خلاصہ پڑھا تھا ، ان سے میں نے کہا کہ آپ انٹرویو کے خلاف مسلسل مضامین چھاپ رہے ہیں ، پھر آپ اصل انٹرویو کو کیوں نہیں چھاپتے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم انٹرویو کو بجنسہ چھاپ دیں تو طلبہ کی مہم کمزور پڑ جائے گی۔ کیوں کہ اصل انٹرویو میں کوئی بہت زیادہ قابل اعتراض بات نہیں ۔ گویا معاملہ حق اور ناحق کا نہیں ۔ بلکہ اپنی قوم کی یک طرفہ حمایت کرنے کا ہے۔ اور اپنی قوم کی یہ یک طرفہ حمایت وہ لوگ کر رہے ہیں جو مغربی قومیت کے اس تصور کا مذاق اڑاتے ہیں کہ میری قوم ، خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر :