منصفانہ تجزیہ نہیں
Al-Risala, June 1986, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
صحافتی اخلاقیات کا ایک جزو منصفانہ تجزیہ اور حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے ۔ مگر اردو صحافت میں منصفانہ تجزیہ اتنا کم یاب ہے کہ بدرجہ امکان ہی اس کے وجود کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ۔ جو لوگ منفی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کبھی مسائل کو بے لاگ انداز سے دیکھ نہیں سکتے ، اور جو لوگ مسائل کو بے لاگ انداز سے نہ دیکھ سکیں ان کے لیے یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ مسائل کا منصفانہ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کریں۔ اردو صحافت اس اصول کی بدترین مثال ہے ۔
اردو زبان میں آج ہزاروں اخبار نکلتے ہیں اور ہر اخبار اپنی ہر اشاعت میں ایک اداریہ بھی ضرور شائع کرتا ہے ۔ مگر یہ ادارے بمشکل ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ کوئی پڑھنے والا ان کو پڑھے ۔ ان تمام اداریوں کا ایک مشترک عنوان دینا ہو تو وہ " چیخ پکار " ہو گا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفروضہ تعصب اور امتیاز کے خلاف چیخ پکار کے سوا اردو اخبارات کے پاس کوئی اور بات ہی نہیں جس کو وہ اپنے تبصروں کا موضوع بنائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں سے صرف کچھ سطحی لوگ دل چسپی لے سکتے ہیں۔ سنجیدہ لوگوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں ہو سکتی ۔
اس سلسلہ میں ایک مثال لیجیے ۔
مئی ۱۹۸۵ میں یہ واقعہ ہوا کہ چاند مل چوپڑا نامی ایک شخص نے کلکتہ ہائی کورٹ میں قرآن کے خلاف ایک رٹ پٹیشن داخل کیا۔ اس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ قرآن تشدد کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے اس ملک میں اس کی اشاعت اور تقسیم کو قانونی طور پر بند کر دیا جائے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ اس کے بعد ، مئی ۱۹۸۵ کو جسٹس بی سی باسک نے وہ تاریخی فیصلہ دیا جو تمام اخبارات میں چھپ چکا ہے ۔
اس کیس کے بارے میں حسب معمول اردو اخبارات میں پر شور مضامین چھپے ۔ ان میں ایسے بھی تھے جنھوں نے اس قسم کی زبان استعمال کی کہ " چوپڑا کا کھوپڑا خراب ہو گیا ہے " اور ایسے بھی تھے جنھوں نے اس سے مختلف زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ تاہم سب کا مشترک خلاصہ ایک تھا اس کے خلاف اندھا دھند احتجاج ۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے کئی ماہ بعد ستمبر ۱۹۸۵ میں ایک اردو جریدہ نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا :
" یہ ایک بڑا خوفناک واقعہ ہے جو پہلے دنوں ہوا۔ عدالت نے اس استغاثہ پر کوئی با قاعدہ فیصلہ دینے کے بجائے معاملے کو گول مول چھوڑ کر اس کو اپنے ریمارکس کے ساتھ محض روک دیا۔ کا دروازہ اب بھی بند نہیں ہے "
جن لوگوں نے اصل فیصلہ کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ اردو جریدہ کے یہ الفاظ سراسر واقعہ کے حقیقت یہ ہے کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے معاملے کو گول مول نہیں چھوڑا۔ بلکہ اس کو قطعی طور پر خارج کر دیا۔ جسٹس بمل چندر باسک کے ۸ صفحات کے فیصلے کے آخر میں پیرا گراف نمبر ہم کو پڑھیے ۔ اس میں واضح طور پر یہ الفاظ موجود ہیں :
For the aforesaid reasons this application stands dismissed. یعنی مذکورہ حقائق کی بنا پر یہ درخواست ڈسمس کی جاتی ہے ۔
یہ اخلاق کی کون سی قسم ہے کہ عدالت کے ایک صحیح فیصلے کا اعتراف نہ کیا جائے اور اس کے بارہ میں ایسے الفاظ لکھے جائیں جس سے اس کا وقار غیر ضروری طور پر مجروح ہوتا ہو ۔ اس قسم کے صحافتی تبصرہ کو صحافتی تبصرہ کے بجائے صحافتی الزام کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔