غیر تعمیری ذوق
Al-Risala, June 1986, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۴۶ میں راقم الحروف نے لکھنؤ کے ایک ہفت روزہ میں ایک کالم لکھنا شروع کیا تھا۔ کالم میں میں نے مسلمانوں کے اندر " اپنی تعمیر آپ " کا ذہن پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جس کا ایک نمونہ ماہنامہ الرسالہ کے قارئین الرسالہ میں دیکھتے ہیں۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ چند اشاعتوں کے بعد میرے بھیجے ہوئے مضامین مجھے بذریعہ ڈاک واپس کر دیئے گئے۔ ان مضامین کے ساتھ اخبار کے ایڈیٹر کا ایک خط تھا جس میں لکھا ہوا تھا :
" آپ کے مضامین ہمارے اخبار میں کھپ نہیں رہے ہیں۔
اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ اخبار اس زمانہ میں پرشور طور پر احتجاجی سیاست چلا رہا تھا۔ احتجاجی سیاست کا مطلب اپنے مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دے کر ان کے خلاف مطالبہ کی مہم چلانا جب کہ میں اپنے مضامین میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ مسلمانوں کا مسئلہ موجودہ زمانہ میں خود اپنی غفلت سے پیدا ہوا ہے ، اور مسلمان اپنی تعمیر آپ کر کے ہی اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ قسم کی احتجاجی سیاست کے خانہ میں میرے تعمیری مضامین بالکل بے جوڑ تھے ، چنانچہ محترم ایڈیٹر صاحب نے ان کو چھاپنے سے معذوری ظاہر کر دی ۔ جو لوگ اس قسم کا غیر حقیقت پسندانہ ذہن رکھتے ہوں وہ کبھی مسائل کا منصفانہ تجزیہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔
جدید اردو صحافت میں مجھے صرف ایک بزرگ معلوم ہیں جن کا ذکر میں اس اعتبار سے کر سکتا ہوں کہ وہ حقیقت پسندانہ اداریہ لکھنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ ڈاکٹر آصف حسین قدوائی ہیں۔ سال پہلے لکھنؤ کے ایک ہفتہ وار اخبار میں پابندی کے ساتھ اداریئے اور تبصرے لکھتے تھے۔ طبقہ میں ان کے یہ مضامین نہایت اہتمام سے پڑھے جاتے تھے۔ میں خود پابندی کے ساتھ ان کا مطالعہ کرتا تھا۔ ڈاکٹر آصف حسین قدوائی کے مضامین کی نوعیت کو بتانے کے لیے میں ایک چھوٹی سی مثال ایک بار انھوں نے ہندوستان کی مسلم سیاست پر ایک مفصل اداریہ لکھا ۔ اس کا پہلا جملہ تھا : " سیاست ممکنات کا کھیل ہے "
میں سمجھتا ہوں کہ یہ جملہ اتنا قیمتی ہے کہ دورِ جدید کی تمام اردو صحافت پر بھاری ہے۔ مگر ڈاکٹر قدوائی کا بھی وہی انجام ہوا جو میرے تعمیری مضامین کا ہوا تھا : کچھ دنوں کے بعد وہ مذکورہ اخبار سے الگ
ہ گئے اور اب لکھنؤ میں تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں ، ان کا تعمیری نقطہ نظر غالب اردو کی صحافت میں کھپ نہ سکا اور انھیں اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کر لینا پڑا ۔
فرقہ وارانہ فساد کے موضوع پر میرے کچھ مضامین ماہنامہ الرسالہ میں چھپے ۔ اردو اخبارات کا عام ذہن یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں ہمیشہ غیر مسلم طبقہ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ میں نے اس کے برعکس خود مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی ۔ میں نے مسلمانوں کو بتایا کہ وہ اپنی اندرونی کمزوریوں پر قابو پا کر فسادات کے مسئلہ پر قابو پا سکتے ہیں ۔ ان مضامین کی اشاعت کے بعد ایک اردو صحافی مجھ سے ملے ۔ انھوں نے کہا کہ " لوگوں کا خیال ہے کہ آپ حکومت کی طرف سے ڈیپوٹ کیے گئے ہیں تاکہ فسادات کے معاملہ میں مسلمانوں کو قصور وار ثابت کریں !
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو صحافت کا ذہن کس قدر غیر تعمیری ہو چکا ہے ۔ حتیٰ کہ اب اگر کوئی شخص تعمیری بات کہے یا حقیقت پسندانہ نقطہ نظر پیش کرے تو اس کو لازمی طور پر مذکورہ بالا قسم کا تبصرہ سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔