We wish you a comfortable journey.
Al-Risala, June 1986, pp. 32–38
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کے ساتھ ہندی رسم الخط میں اس کا ترجمہ ان الفاظ میں درج تھا : ہم آپ کی سکھد یاترا کے لیے کامنا کرتے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ الفاظ بولنا کتنا زیادہ آسان ہے اور الفاظ کو عمل میں ڈھالنا اس کے مقابلہ میں کتنا زیادہ مشکل ۔
جہاز کے اندر اپنا بیگ رکھنے کے لیے میں نے اپنی سیٹ کے اوپر لگا ہوا خانہ (Overhead locker) مگر وہ چھوٹا تھا اور میرا ہینڈ بیگ اس میں نہیں آ رہا تھا ۔ میں اسی الجھن میں تھا کہ ایک مسافر نے مخالف سمت کے لاکر (خانہ) ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں رکھ دیجئے ۔ میں نے اس کو کھول کر دیکھا تو وہ بڑا تھا ۔ چنانچہ اس میں میرا بیگ آسانی سے آ گیا آدمی ہمیشہ اپنے مسئلہ کا حل اپنے سامنے کے مقام پر تلاش کرتا ہے ۔ حالاں کہ اکثر حالات میں مسئلہ کا حل کسی اور مقام پر ہوتا ہے ۔ پونہ کے لیے یہ میرا چوتھا سفر تھا۔ تاہم پونا والوں سے میں نے کہا کہ یہ شاید پونا کے لیے میرا آخری میری عمر اگر چہ بہت زیادہ نہیں مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں قبل از وقت بوڑھا ہو گیا۔
میرے اندر سفر کی طاقت نہیں رہی۔ پونہ کے لیے میرے اب تک کے سفروں کی تاریخی تفصیل یہ ہے : پونہ میں مختلف پروگرام تھے ۔ پچھلے سفر کے مقابلہ میں موجودہ پروگرام میں شرکاء کی تعداد کافی زیادہ تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مدت میں اللہ کے فضل سے الرسالہ کے قارئین کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ دوسرے مقررین عوامی رجحان کی رعایت سے بولتے ہیں اس لیے ان کے اجتماع کی نوعیت دوسری مگر میری تقریر کا موضوع عوامی رجحان سے الگ ہوتا ہے ۔ اس لیے میرا اجتماع اس بات کا پیمانہ ہوتا ہے کہ الرسالہ کی آواز کتنی پھیلی ہے۔ پونہ کے ساتھی سب سے زیادہ زور الرسالہ کے قارئین کا حلقہ بڑھانے پر لگارہے ہیں ۔ ایک ساتھی نے کہا کہ الرسالہ تو ایسی چیز ہے کہ اس کو صرف لوگوں کو دکھانے کی ضرورت ہے، اور اس کے بعد بیشتر لوگ اپنے آپ اس کے خریدار بن جائیں گے ۔ ہمارے مشن میں اس وقت سب سے بڑا پروگرام الرسالہ کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا ہے ۔ لوگ پروگرام کے طالب ہیں ان کو الرسالہ کے پڑھنے والوں کی تعداد بڑھانے میں لگ جانا چاہیے ۔ پونہ کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہے ۔ اس میں مسلمان تقریباً ایک لاکھ ہیں ۔ ایک لاکھ کی تعداد کسی بھی کام کو کرنے کے لیے بالکل کافی ہے۔ مگر پونہ کے مسلمانوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے شہروں کے مسلمانوں کا ہے۔ تعمیری کام سے زیادہ آپس کے اختلافات اور بے فائدہ مظاہروں میں اپنی طاقت ضائع کرنا ۔ اسی پونہ میں عیسائی ان سے کم تعداد میں ہو کر ان سے بہت زیادہ تعمیری کام کر رہے ہیں ۔ مگر مسلمان عین ان کے پڑوس میں پسماندگی کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔
موجودہ زمانہ میں ساری مسلم دنیا میں نہایت زور و شور کے ساتھ بے فائدہ منفی سرگرمیاں جاری تبلیغی جماعت جیسی بعض انتہائی مستثنیٰ مثالوں کو چھوڑ کر سب کا یہی حال ہے ۔ ہر ایک کے پاس ایک جھوٹا اسلام ہے اور وہ اس کا جھنڈا اٹھا کر اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتا ہے ۔ پونہ میں ایک ہندو بلڈر نے ایک اونچی عمارت بنائی جس میں بہت سے فلیٹ تھے۔
مسلمانوں کو یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ ان کے گھروں کی بے پردگی ہوگی۔ چنانچہ اس کے خلاف مہم شروع بلڈر نے کہا کہ تمہارا فلاں لڑکیوں کا اسکول ہے وہاں خود مسلم اسکول کے مالکوں نے اسی قسم کی اونچی بلڈنگ بنائی ہے اور اس کے فلیٹ لوگوں کو کرایہ پر دیئے ہیں تو کیا اس کے ذریعہ تمہارے گرلز اسکول کی بے پردگی نہیں ہوتی۔ پھر وہاں تم اسی قسم کا ایجی ٹیشن کیوں نہیں چلاتے ۔ ختم ہو گیا اور بلڈنگ بدستور اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی ہے ۔
اسی طرح پونا میں ایک مسجد ہے جس کا نام ہے " مسجد منشیان " یہ مسجد سڑک کے کنارے یہاں سڑک کے دوسری طرف کسی قدر فاصلہ پر ایک ہوٹل بنایا گیا ہے جس کا نام سلوران (Silver Inn) ہے۔ اس ہوٹل میں ایک پرمٹ روم (Permit room) بھی ہے۔ لائسنس کے تحت شراب پینے کا کمرہ۔ اب مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ اس سے مسجد کی بے حرمتی ہو رہی چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ 26 جنوری1985 کو کاڑا دیوس (کالا دن) کے طور پر منائیں گے ۔ پوسٹر نکالے گئے۔ نعرے بلند کیے گئے۔ اور ۲۶ جنوری کو بہت سے مسلمان ہوٹل کے سامنے منڈپ ڈال کر بیٹھ گئے کہ ہم اس وقت تک بھوک ہڑتال کریں گے جب تک یہ " شراب خانہ " بند نہ کر دیا جائے ۔
کچھ مسلمان یہاں کے مراٹھی اخبار ( رتن بھارت ) کے دفتر میں گئے تا کہ وہاں اپنے اسلامی احتجاج کی خبر چھپوائیں۔ اس کے ایڈیٹر نے کہا کہ ہوٹل والوں نے تمہاری مسجد سے کافی فاصلہ پر سرکاری اجازت کے تحت شراب خانہ کھولا ہے۔ اور دوسری طرف تمہاری اس مسجد سے قریب ہی دوسری مسجد ہے اس کی عین دیواروں کے نیچے خود مسلمانوں نے بلا اجازت شراب کا دھندا کھول رکھا ہے تو تم اس کو بند کرنے کی مہم کیوں نہیں چلاتے۔ دوبارہ یہی ہوا کہ ہوٹل کا " پرمٹ روم " بدستور موجود ہے اور مسلمانوں کی احتجاجی مہم ایک دن کے شور و شر کے بعد ختم ہو گئی۔
پونا کے پہلے سفر میں میں نے ڈی نابی کالج دیکھا تھا جو عیسائیوں کا عظیم الشان ادارہ ہے۔ اس بار کے سفر میں " گیان پر بودھنی " دیکھا جو ہندو صاحبان کا بہت بڑا ادارہ ہے۔ اس طرح کے درجنوں بڑے ادارے ہیں جو یہاں دوسری قوموں نے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعہ سے اپنی تعمیر و ترقی کے کام میں مسلسل مصروف ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دیواروں کے اوپر الفاظ
کی لکیریں بنا کر خوش ہو رہے ہیں۔ پونا کی کچھ گندی اور ٹوٹی ہوئی دیواروں پر " اسلامی نعرے " لکھے ہوئے نظر آئے۔ اگرچہ ان کی بدخطی زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ مجھ کو نہ پڑھو۔ وہ نعرے یہ تھے : اٹھو نوجوانو ، اسلام کو تمہاری ضرورت ہے ، شریعت خطرے میں ہے یکساں سول کوڈ مردہ باد ، شریعت زندہ باد۔ ہمیں چاہیے شریعت کورٹ ایک لیڈر صاحب سے میں نے کہا کہ اس قسم کے نعروں اور پوسٹروں سے کیا فائدہ۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ تو کچھ نو جوانوں نے کیے ہیں۔ میں نے کہا کہ نو جوانوں نے اس لیے کیا ہے کہ لیڈر صاحبان ان کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک سیدھے سادے تاجر اس وقت ہمارے ساتھ تھے۔ انھوں نے کہا آپ بالکل درست کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اوپر والے حمایت کرتے ہیں تبھی نیچے والوں کو کرنے کی ہمت ہوتی اوپر والے اگر شوشہ نہ چھوڑیں تو نیچے والے بالکل ٹھیک رہیں گے۔
گیان پر بودھنی ( پونا ) ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ یہ لوگ نہایت خاموش کام میں وہ حکومت سے کوئی امداد نہیں لیتے ۔ ان کا بہت بڑا بجٹ ہے مگر اس کا کچھ حصہ قومی چندوں سے پورا ہوتا ہے اور کچھ ان کے اپنے صنعتی اور زراعتی شعبوں سے آتا ہے ۔ ان کے مختلف کام ہیں۔ مثلاً ایک کام یہ ہے کہ وہ اعلیٰ صلاحیت کے ہندو نوجوانوں کو منتخب کر کے انھیں آئی اے ایس (I.A.S) کے امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہی لوگ بعد کو حکومت کے کلیدی مناصب پر قبضہ کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ پورے انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے پھر اسی ادارہ سے آر ایس ایس جیسی تنظیموں کو بھی اعلیٰ کارکن مل رہے ہیں ۔ گیان پر بودھنی کی کئی منزلہ بلڈنگ میں نیچے کے حصے میں ایک بڑا ہال ہے ۔ اس میں ہر صبح کو اس کے تمام اساتذہ اور طلبہ اور کارکن جمع ہوتے ہیں اور پوجا اور پرارتھنا کرتے ہیں۔ کی ایک دیوار پر پورے بھارت (ہندوستان) کی ایک تصویر بنی ہوئی ہے۔ اسی کو سامنے رکھ کر وہ اپنے مراسم ادا کرتے ہیں۔ اس تصویر کے نیچے مراٹھی زبان میں لکھا ہوا ہے :
ماتر بھومی ہی خدا ہے۔ اسی کی ہمیں پوجا کرنا ہے ۔
یہ گویا آر ایس ایس کا کلمہ ہے۔ اس سے آپ آر ایس ایس کی تحریک کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ " بھارت " کی برتری کے تصور پر اٹھی ہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے " ’’بھارت‘‘ " کو مقدس معبود کا درجہ دیدیا
آر ایس ایس کے دوسرے تمام مظاہر اس کے اسی مخصوص عقیدہ کا نتیجہ ہیں ۔ پندرہ سال پہلے میں نے گرو گولوالکر کی کتاب گلدستہ خیال (Bunch of Thought) پڑھی تھی جو گویا آر ایس ایس تحریک کی بائبل ہے ۔ اسی وقت میں نے اس کتاب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا تھا ۔ ترجمہ ابھی تک میرے پاس غیر مطبوعہ حالت میں پڑا ہوا ہے ۔ یہ تحریک کم از کم اپنی موجودہ حالت میں مسلمانوں کی تقسیم کی تحریک کا رد عمل ہے ۔ اس کے نزدیک یہ بھارت ایک مقدس جغرافی وحدت ہے ۔ اس کا وہی درجہ ہے جو مذہبی اصطلاح میں معبود کا درجہ ہونا چاہیے ۔ حالت میں اس فکر کے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے کہ اس مقدس وحدت کے ٹکڑے کیے جائیں یہ فکر بلاشبہ ہندوستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس نے ہندوستانی باشندوں کی ایک بڑی تعداد کے اندر مستقل طور پر منفی ذہنیت پیدا کر دی ہے اور منفی ذہنیت سے زیادہ تباہ کن اس دنیا میں کوئی چیز نہیں ۔ مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز مقدس بن جائے اس کو آدمی کبھی عقلی معیاروں پر نہیں جانچتا ۔ اس لیے ان حضرات کا یہ احساس غالباً اس وقت تک باقی رہے گا جب تک موجودہ صورت حال باقی ہے ۔
مسلمان اس معاملہ میں ہمیشہ مذکورہ فکر کو الزام دیتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں سب سے بڑے ملزم خود مسلمان ہیں ۔ اقبال اور دوسرے حضرات نے ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا حل ملکی تقسیم میں دریافت کیا ۔ مگر ہندو مسلم مسئلہ کا یہ حل کہ ملک کو تقسیم کر دیا جائے ، موجودہ حالات میں اتنی بڑی نادانی تھی کہ شاید پوری انسانی تاریخ میں اتنی بڑی نادانی کبھی نہیں کی گئی ۔ یہ بلاشبہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سنی اور شیعہ کے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کرے کہ کعبہ کو دو ٹکڑے کر کے دونوں فرقوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے ۔ ایسا حل مسئلہ کو صرف شدید تر بناتا ہے ایک ایسا ملک جس کے باشندے اپنے ملک کو خدا سمجھ کر اس کو پوجتے ہوں وہاں مسئلہ کا حل اہل ملک کی سوچ کو بدلنا تھا نہ کہ ملک کی جغرافی سر حد کو بدلنا ۔ موجودہ صورت حال میں ملک کی تقسیم صرف مسئلہ کی شدت میں اضافہ کرتی ہے ، وہ کسی بھی درجہ میں اصل مسئلہ کو حل نہیں کرتی ۔ کیسے عجیب تھے وہ مفکرین اسلام جن کو اسلام نے صرف یہ بتایا کہ وہ ایسے کانٹے کی فصل بوئیں جس کے کانٹے کبھی ختم نہ ہو سکیں ۔
پونہ میں ایک ہندو ادارہ ہے جس کا نام ہے سادھو آسوانی مشن ۔ وہ مختلف قسم کے علمی کام کرتے ہیں۔ مثلاً ان کے ایک منصوبے کا نام ہے : (Life Beyond Project) یہ پروجیکٹ گویا آداگن کے نظریہ کو عقلی اور سائنسی طور پر ثابت کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ یہ کام وہ عالمی سطح پر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح پونہ میں ایک ادارہ (بنت و کھیان مالا) ہے جو ہر سال چھٹیوں کے موسم (ماہ مئی) میں ایک مہینہ تک ہر روز مذہبی اور تاریخی موضوعات پر لیکچر کراتا ہے۔ کے لیے سارے ملک سے اعلیٰ قامِلیت کے لوگ بلائے جاتے ہیں۔ اس میں داخلہ کے لیے ٹکٹ ہواتا ہے جس کو ہر آدمی قیمت دے کر خریدتا ہے۔ اس کے باوجود بڑا ہال آخری حد تک بھرا ہوتا ہے ؛ و غیرہ
ہندو قوم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر رخ پر کام کرتی ہے۔ اس کے کچھ افراد اگر ایک کام کرتے ہیں تو اس کے دوسرے افراد دوسرے کام کو سنبھال لیتے ہیں۔ مثلاً گاندھی جی نے سودیشی کپڑے کے بائیکاٹ (۱۹۲۱) کی مہم چلائی تو ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی اس مہم میں پوری طرح شریک مگر ہندوؤں نے اگر ایک طرف لنکاشائر اور مانچسٹر کے کپڑے جلائے تو دوسری طرف سیکڑوں کی تعداد میں ملک کے اندر کپڑے کی ملیں بھی قائم کر دیں۔ جب کہ مسلمان صرف باہر کے کپڑے جلاتے رہے اور انھوں نے کپڑے کی ایک بل بھی قائم نہ کی۔
یہی انداز پوری جدید تاریخ میں مسلمانوں کا نظر آتا ہے حتیٰ کہ اب ان کا مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ تخریب کے کام کے لیے انھیں نہایت آسانی سے بھڑکایا جا سکتا ہے ۔ مگر تعمیر کے کام کے لیے پکارا جائے تو وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ انھوں نے کچھ سنا ہی نہیں ۔
اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے یہاں جو آدمی مقبولیت چاہتا ہے وہ فورا ایک منفی نعرہ لے کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد یہ کریڈٹ وصول کرتا ہے کہ اس نے عظیم الشان اسلامی اتحاد قائم کر دیا ہے۔ مثبت پروگرام کے لیے اٹھنا اپنی قیادت کو کھونے کی قیمت پر ممکن ہے جس کا ایک نمونہ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال نے پیش کیا ہے ۔ مگر ہمارے درمیان کوئی " ڈیگال " نہیں ۔ اسی لیے ہمارے درمیان ابھی تک یہ ممکن نہ ہو کہ کوئی قائد خود مرکر قوم کو نئی زندگی عطا کر دے ۔
پونہ کے قیام میں برابر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے علاوہ کئی تقریری پروگرام ہوئے جس کی تفصیل نیچے درج ہے۔
پونہ میں تلک سمارک ہال ، یہاں کا سب سے زیادہ بڑا اور مشہور ہال ہے ۔ ۲۰ مارچ کی شام کو یہاں عمومی اجتماع ہوا۔ اس میں پونہ کے میئر بھی شریک ہوئے۔ مسلمانوں کے علاوہ تعلیم یافتہ غیر مسلموں کی معقول تعداد بھی ہال میں موجود تھی ۔ اس تقریر کا عنوان مقامی منتظمین نے حسب ذیل مقرر کیا تھا :