دورِ جدید کا بانی : پیغمبر اسلام
Al-Risala, June 1986, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
اس موضوع پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تقریر ہوئی ۔ لوگ آخر تک نہایت دلچسپی اور انہماک کے ساتھ سنتے ہندو صاحبان نے کہا کہ " ہم نے اب تک ایسا کوئی مولوی نہیں دیکھا تھا۔ ہم کو معلوم ہی نہ تھا کہ اسلام کا یہ مطلب بھی ہے۔ کئی ہندو صاحبان نے بک اسٹال سے انگریزی کتابیں خریدیں اور پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ بھی خریدا۔ منتظمین نے اس موقع کے لیے الرسالہ کے کچھ اقتباسات کا مرہٹی ترجمہ کر کے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا۔ یہ مرہٹی پمفلٹ لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ۔ پونہ میں پروگرام ۱ مارچ ۱۹۸۶ء بعد نمازِ عشاء قارئین الرسالہ سے خطاب مکہ مسجد 1 ۲۰ مارچ بعد نمازِ فجر درسِ قرآن مکہ مسجد ۲ ۲۰ مارچ ۱۲ بجے دن ملاقات اور معاینہ گیان پر بودھنی (ہندوادارہ) ۳ ۲۰ مارچ ۴ بجے شام مسلم و غیر مسلم مشترک اجتماع تلک سماک مندر ۴ ۲۰ مارچ بعد نمازِ عشار تاجر طبقہ سے خطاب میمن جماعت خانہ ۵ ۲۱ مارچ بعد نماز فجر درسِ قرآن مکہ مسجد ۶ ۲۱ مارچ قبل نمازِ جمعہ خطابِ عام مکہ مسجد ۷ ۲۱ مارچ بعد نمازِ عشار خطاب عام جامع مسجد ایر وڈا ۸ ۲۲ مارچ بعد نماز فجر درسِ حدیث مکہ مسجد ۹
تلک سمارک ہال کے قواعد کی وجہ سے اس کا پروگرام مغرب سے کچھ پہلے شروع کیا گیا تھا۔ تقریر جاری تھی کہ مغرب کی نماز کا وقت آ گیا ۔ اس وقت تقریر کو روک کر ہال کے باہر نماز با جماعت ادا کی گئی ۔ مسلم سامعین نماز کے لیے اٹھ گئے۔ غیر مسلم سامعین کے لیے یہ ایک نا مانوس واقعہ تھا۔ وہ سب کے سب اپنی سیٹ پر انتظار میں بیٹھے رہے اور جب ہم لوگ نماز ادا کر کے آئے تو انھوں نے اس کو اصول پرستی قرار دے کر اس کی تحسین کی ۔ غیر مسلم حاضرین میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہ تھا جو اٹھ کر چلا جائے ۔
ایک ہندو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کے لیڈروں نے اسلام کو سیاست بنا دیا۔ اس لیے دوسری قومیں اس سے بھڑک گئیں ۔ اگر اسلام کو اس طرح سائنٹفک انداز میں پیش کیا جائے جس طرح آپ نے پیش کیا ہے تو آپ دوسری قوموں میں بہت لوگوں کو اپنا ہمدرد پائیں گے ۔
پونا میں الرسالہ اور الرسالہ کی دعوت خدا کے فضل سے تیزی سے پھیل رہی ہے۔ میں سے ایک شخص نے کہا، آپ کے پچھلے سفر کے مقابلے میں اس بار ہم نے بہت کم پبلسٹی کی۔ مگر اس بار پہلے سے بہت زیادہ آدمی آپ کی ہر تقریر میں شریک ہوئے۔ جمعہ (۲۰ مارچ) کو جمعہ سے پہلے ایک جامع مسجد میں تقریر رکھی گئی تھی ۔ وہاں پہنچا تو الرسالہ کا یہ جملہ مسجد کے بورڈ پر نمایاں حروف میں لکھا ہوا تھا : بلند مقام اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے نہ کہ نعرے اور جھنڈے بلند کرنے سے مسجد میں عام جمعہ سے تقریباً دگنا زیادہ آدمی تھے ۔ وسیع مسجد بالکل بھری ہوئی تھی ۔ یہی ہر پر وگرام کا حال رہا ۔
ایک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ الرسالہ کو علاقائی زبانوں میں بھی شائع کیا جائے ۔ کہا کہ مثلاً مرہٹی یا گجراتی مسلمانوں کی 75 فی صد تعداد صرف مرہٹی یا گجراتی زبان پڑھ سکتی ہے۔ وہ اردو میں نہیں پڑھ سکتی ۔ تاہم وہ آسان اردو جانتے ہیں اور سن کر اسے سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ضرورت ہے کہ الرسالہ کو ان کے اپنے رسم خط میں شائع کیا جائے ۔ یعنی الرسالہ کے مضامین کا ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ اس کے اردو مضامین ہی کو رسم الخط بدل کر شائع کر دیا جائے تو یہ سلسلہ بہت مفید ہوگا۔ اس سے نہ صرف مسلمانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ بہت سے غیر مسلموں کے لیے بھی وہ مفید ہوگا۔ کیونکہ غیر مسلموں میں ایسے لوگ بہت ہیں جو اردو سمجھ لیتے ہیں مگر وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آج کل صرف وہی اخبار یا رسالہ چل پاتا ہے جس کی پشت پر کوئی بڑا ادارہ جس رسالے کو بھی آپ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اس کے پیچھے کوئی اور ہے :