Al-Risala · June 1986

The person behind that is someone else.

Al-Risala, June 1986, pp. 40–46

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے کہا کہ الرسالہ اتنی شان کے ساتھ دس برس سے برابر نکل رہا ہے تو اس کا اسپانسر کون ہے ۔ میں نے کہا کہ ہمارا اسپانسر خدا کے سوا اور کوئی نہیں ۔ انھوں نے کہا : پھر تو یہ معجزہ ہے ۔ الرسالہ کے ایک قاری سے میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ تو ایسا پرچہ ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد دل دہلنے لگتا ہے ۔ ایک صاحب نے حال میں " اللہ اکبر " پڑھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ہر طرف آخرت کا منظر دکھائی دینے لگا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی زمانہ میں میں ٹیلی وژن پر ایک جغرافی فلم دیکھ رہا تھا۔ اس میں آتش فشاں کے پھٹنے کا منظر دکھایا گیا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ زمین پھٹی اور اس کے اندر سے آگ ابل پڑی تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ یہ آگ خود میرے قدموں کے نیچے سے ابل رہی ہے۔ اس سے پہلے میرا یہ حال نہ تھا ۔

ایک لیڈر صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی عمومی دعوت کی راہ میں مسلمانوں کی بے عملی حائل ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کہہ کر آپ اپنا الزام دوسروں کے اوپر ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے کہ اسلام کی عمومی دعوت کی راہ میں قومی منافرت حائل ہے نہ کہ مسلمانوں کی بے عملی ۔ کی تمام تر ذمہ داری مسلم لیڈروں پر ہے جو اپنی جھوٹی سیاست کی وجہ سے اس کو مسلسل باقی رکھے ہوئے وہ کسی طرح اس کو ختم نہیں ہونے دیتے ۔ میں نے کہا کہ اگر اس ملک کے باشندوں کے سامنے اسلام کو بحیثیت ایک دعوت کے لے آنا ہے تو ہمیں مطالبات اور احتجاج کی سیاست کو یکسر ختم کر دینا ہوگا۔ لیڈر صاحب نے فرمایا کہ اگر دونوں جاری رہیں تو کیا حرج ہے ۔ یعنی ہم اپنے حقوق کی لڑائی بھی لڑیں اور اسلام کی دعوت بھی لوگوں تک پہنچائیں ۔ میں نے کہا کہ یہ آپ صرف اس لیے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو دعوت کا درد نہیں ۔ اگر آپ ایک تاجر سے یہ کہیں کہ تم اپنا سودا بھی بیچو اور گاہکوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا بھی جاری رکھو تو وہ آپ کا مشورہ قبول کرنے کے بجائے خود آپ کو یہ مشورہ دے گا کہ آپ دماغی امراض کے ڈاکٹر سے رجوع فرمائیں ۔ کیوں کہ ایسی تجارت اس دنیا میں ممکن نہیں ۔ اسی طرح ایسی اسلامی دعوت ممکن نہیں جس میں دعوت بھی دی جائے اور اسی کے ساتھ داعی اور مدعو کے درمیان جھگڑے کی سیاست

بھی چلائی جاتی رہے ۔

ایک اجتماع میں ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ ہمارے قائدین پر تنقید کرتے ہیں ۔ حالاں کہ مسلم پرسنل لا کے مسئلہ پر انھوں نے حال میں جو تحریک چلائی اُس نے نہایت شاندار اسلامی اتحاد پیدا کر دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ ہاں سفر سے پہلے دہلی میں مجھے ایک اخبار (۱۰ مارچ ۱۹۸۶ ) ملا تھا ۔ اس کے اداربے کی سُرخی تھی " ملت کا بے نظیر اتحاد " ، اس کے بعد اس حلقہ کے ایک بزرگ سے میری ملاقات ہوئی ۔ مذکورہ اخبار دکھا کر ان سے پوچھا کہ یہ بے نظیر اتحاد کہاں واقع ہے ۔ جلسہ جلوس کے مظاہروں میں یا مسلمانوں کی اپنی زندگیوں میں ۔ اس سوال پر مذکورہ بزرگ بگڑ گئے ۔ میں نے کہا کہ یہ پہلا ثبوت ہے کہ اسلامی اتحاد ابھی ظہور میں نہیں آیا ہے ۔ کیوں کہ اسلامی اتحاد حقیقۃً اپنی یہ اتحادِی کو ختم کرنے کا نام ہے ۔ ایک شعوری حالت ہے ، یہ شعوری حالت کہ قوم کے افراد اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنا سیکھ لیں۔ مگر آپ نے ایک سیدھے سے سوال پر خفا ہو کر یہ ثبوت دیا ہے کہ آپ اس شعوری حالت کو ابھی نہیں

پھر میں نے کہا کہ جو چیز وقوع میں آئی ہے وہ صرف بھیڑ بھاڑ ہے ۔ مگر آپ لوگ غلط فہمی سے اس کو اتحاد سمجھ رہے ہیں ۔ اگر آپ لوگ یہ جملہ بولیں کہ " بے نظیر بھیڑ بھاڑ " تو مجھے کوئی اختلاف نہ ہوگا ۔ مگر جب آپ اس کو " بے نظیر اتحاد " کا نام دیں تو میں کہوں گا کہ بطور واقعہ یہ بیان صحیح نہیں ۔ مختلف نوجوانوں نے آٹوگراف کے لیے کہا۔ ایک صاحب کو میں نے لکھا :

کسی چیز کو پانے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی اس چیز کا طالب ہو ۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہے اور آدمی جب تک اس کی مطلوبہ قیمت ادا نہ کرے وہ اس دنیا میں اپنی مطلوبہ چیز کو نہیں پا سکتا ۔

ایک صاحب نے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا :

مصیبتیں با اُصول زندگی کی قیمت ہیں ۔

کچھ نوجوانوں سے میں نے کہا :

جو آپ کے دل میں ہے وہی زبان سے بولیے ۔ جو کچھ آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسرے کے لیے پسند کیجیے ۔ انسان سے معاملہ کرتے ہوئے یہ سمجھیے کہ آپ خدا سے معاملہ

کر رہے ہیں ۔

ایک صاحب نے کسی کا مقولہ بتایا جو قابلِ نقل ہے :

In everything look before you leap. But in charity leap before you look. دوسری ہر چیز میں اقدام سے پہلے سوچو۔ مگر خیر کے کام میں پہلے اقدام کرو ، اس کے بعد سوچو ۔ ایک صاحب ایران میں کچھ سال رہ کر واپس آئے تھے۔ انھوں نے بہت سی مثالیں دے کر بتایا کہ جدید فارسی اور قدیم فارسی میں زبان کے اعتبار سے کافی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ مثلاً بلے کو وہ لوگ بالے کہتے ہیں ۔ ہم لوگ کہتے ہیں کہ تکلف نہ کیجئے وہ لوگ کہتے ہیں : تعارف مکن (تکلف نہ کیجئے) تکلف کو وہ لوگ تکلیف کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ، وغیرہ ۔

۲۲ مارچ ۱۹۸۶ کی شام کو میں پونہ سے واپس آیا ۔ جہاز کے اندر انڈین ایکسپریس کا مدراس ایڈیشن پڑھنے کو ملا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک دلچسپ خبر یہ تھی کہ ۲۱ مارچ کو مدراس اسمبلی کا اجلاس تھا۔ پر تقریریں ہو رہی تھیں ۔ کانگریس آئی کے ایک ممبر مسٹر اے ارو موگم کھڑے ہوئے تو انھوں نے دوران تقریر ہندی زبان کو ریاست میں ترقی دینے پر زور دیا۔ وہ انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے : When Finance Minister Nedunchezhiyan asked the member if he had any knowledge of Hindi, he replied:

chota chota maloom hai. (I know a little)

جب وزیر مالیات نے مذکورہ ممبر سے پوچھا کہ کیا وہ کچھ ہندی جانتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : چھوٹا چھوٹا معلوم ہے ( چھوٹا اٹھوڑا معلوم ہے )

معزز ممبر کے ذہن میں انگریزی کا لفظ (Little) تھا ۔ اسی کا ہندی ترجمہ کر کے انھوں نے کہہ دیا کہ ہاں ، چھوٹا چھوٹا معلوم ہے ۔ حالاں کہ ہندی میں اس کے لیے صحیح لفظ تھوڑا ہے نہ کہ چھوٹا۔ آدمی جو کچھ بولتا ہے ، اکثر وہ اس کے اپنے ذہن کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مگر وہ بطور خود یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ خارجی حقیقت کی ترجمانی کر رہا ہے ۔

پونہ میں مارچ ۱۹۸۶ کے تیسرے ہفتہ میں ایک اجاع ہوا۔ اس میں مقامی افراد کے علاوہ قریب کے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی شریک تھے ۔ صدر اسلامی مرکز کی اس موقع پر کئی تقریریں ہوئیں ۔ اس کی تفصیلی رپورٹ سفرنامہ میں شائع کر دی جائے گی ۔ بعض مقامات پر الرسالہ کے ہمدرد "الرسالہ ٹیلی فون فری لائبریری " کی اسکیم چلا رہے ہیں ۔ یعنی قاری ٹیلی فون پر اپنی طلب نوٹ کرا دے اور اس کو اس کے دیئے ہوئے پتہ پر الرسالہ یا اس کی مطلوبہ کتاب پہونچا دی جائے ۔ یہ اسکیم بہت مفید ہے اور اس قابل ہے کہ ہر بڑے شہر میں اس کو چلایا جائے ۔

۳۰ مارچ ۱۹۸۶ کو مہینہ کا آخری اتوار تھا۔ حسب معمول مرکز میں ماہانہ اجتماع ہوا۔ مرکز نے بعض احادیث کی روشنی میں ایمان و یقین کی وضاحت کی۔

۵ اپریل ۱۹۸۶ کو سعودی عرب کے ایک وفد نے اسلامی مرکز کی زیارت کی۔ اس وفد میں ڈاکٹر عبد المحسن الترکی (ریکٹر جامعہ الامام ریاض )، ڈاکٹر عبد الحلیم عویس ، ڈاکٹر محمود شوق اور دوسرے اعلیٰ افراد شامل تھے ۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے تبادلہ خیال کیا اور مرکز کے کاموں کو دیکھ کر وہ مرکز کے علمی اور تعمیری کاموں سے کافی متاثر ہوئے ۔ خدا کے فضل سے الرسالہ (انگریزی) کا افریقی ایڈیشن شائع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ بڑے ادارہ نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے ۔ پہلا شمارہ انھوں نے مارچ ۱۹۸۶ کا شائع کیا اس کے بعد وہ ہر ماہ طرح چھاپتے رہیں گے ۔ دہلی سے شائع ہونے والے پرچہ کا عکس لے کر ہو بہو وہ اسی اسے شائع کر رہے ہیں ۔

بھوپال میں اپریل ۱۹۸۶ میں حلقہ الرسالہ کے تحت ایک اجتماع ہوا جس میں مرکز سے صدر اسلامی مرکز نے شرکت کی۔ تمام پروگرام غیر معمولی طور پر کامیاب رہے ۔ کی تفصیلی رپورٹ سفرنامہ میں شائع کر دی جائے گی ۔ انشاء اللہ ۔

یہ اللہ کا فضل ہے کہ اسلامی مرکز کا مشن تیزی سے ترقی پر ہے ۔ وہ دوسرے تمام افکار کو مغلوب کرتا جا رہا ہے ۔ حتیٰ کہ اب وہ لوگ بھی انھیں اصطلاحوں میں بولنے لگے ہیں جو پہلے

صرف اسلامی مرکز کی منفرد آواز سمجھی جاتی تھی اور دوسرے لوگ اس کو بزدلی اور انفعالیت سے تعبیر کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں برابر مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ مثلاً لکھنؤ کے تعمیرِ حیات (۲۵ مارچ ۱۹۸۶) میں ایک مشہور مسلم قائد کی تقریر شائع ہوئی ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے اپنے سابقہ انداز کے خلاف انداز اختیار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ " کامیابی کی ضمانت خواہشات نہیں حقائق ہیں" یہ دنیا واقعات اور حقائق کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں بقا اس کے لیے ہے جو نفع بخش ثابت ہو۔ حقیقت کے انکار نہیں بلکہ حقیقت کے اعتراف سے زندگی ملتی ہے۔ یہ واضح طور پر اسلامی مرکز کے موقف کی صداقت کا اعتراف ہے۔ قائد موصوف نے عین اسلامی مرکز کی بات دہرائی ہے ، اگر چہ حوصلہ کی کمی کی بنا پر اعلان کے بغیر۔ مختلف مقامات پر الرسالہ کے نام سے مقامی تنظیمیں قائم کی گئی ہیں۔ مثلاً کسی مقام پر الرسالہ فرینڈس سرکل اور کہیں الرسالہ ریڈرس ایسوسی ایشن۔ یہ ایک اچھا سلسلہ ہے اور مقامی حالات کے اعتبار سے ہر جگہ اس کا تجربہ کیا جانا چاہیے ۔

بعض مقامات پر ہمدردانِ الرسالہ ایک مفید اسکیم چلا رہے ہیں۔ وہ اپنے شہر یا آس پاس کے کئی سو آدمیوں کے پتے کی فہرست بناتے ہیں۔ ان کو اپنے پاس سے الرسالہ چند ماہ تک اس کے بعد وہ ان سے ملاقات کر کے الرسالہ کے بارہ میں ان کا تاثر پوچھتے ہیں اور ان کو الرسالہ کی خریداری پر یا اس کی ایجنسی لینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت مفید اسکیم ہے اور ہر جگہ اس کو اپنے حالات کے اعتبار سے اختیار کیا جانا چاہیے ۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات خدا کے فضل سے قوم کے اعلیٰ ترین ذہنوں میں خاموش انقلاب پیدا کر رہی ہیں۔ اس کی مثالیں ہر روز سامنے آتی رہتی ہیں۔ یہاں چند خط نقل کیے جاتے ایک صاحب کتاب " اللہ اکبر " پڑھنے کے بعد اپنے خط ( ۲۰ مارچ ۱۹۸۶) میں لکھتے ہیں " آپ کا حکم تھا کہ میں اللہ اکبر کے بارے میں اپنا تاثر دوں ۔ میرے پاس اتنے معقول الفاظ نہیں ہیں کہ میں کچھ لکھوں۔ کاش مجھے آنسوؤں کی زبان لکھنا آتی اور کوئی اس کو پڑھ سکتا۔ سے دعا کیجیے کہ وہ میرے گناہوں کو بخش دے اور اپنی رحمت میں مجھے رکھے اور جہنم کے عذاب سے بچائے ۔ زندگی میں پہلی بار انسان ہونے کا احساس ہوا ہے۔ کتنا خوف ناک ہے

انسان کے ساتھ خدا کا معاملہ کہ میرے ہر عمل کا جواب اسے دینا ہے۔ کاش میں کوئی ایسی چیز ہوتا کہ خدا مجھ سے کچھ نہ پوچھتا۔ بس اس کے بڑے ہونے کا سہارا ہے کہ وہ بخشے گا میرے گناہ کو، اور وہی بچائے گا جہنم کے عذاب سے۔

( حبیب بھائی، حیدر آباد )

والدین اور استادوں کی رہبری سے محروم ہونے کے بعد بڑی تنہائی محسوس کر رہا تھا اور زندگی ایک تپتے ریگستان و صحرا کا سفر معلوم ہو رہی تھی اور ہر طرف ایک سراب۔ عرصہ میں آپ کی تصنیفات 'الرسالہ' کے مضامین میرے لیے ایک بڑے سایہ دار درخت ثابت ہوئے اور میں اس سفر سے تھکا ہوا آرام سے آپ کی شفیق چھاؤں تلے بیٹھ کر پھر تازہ دم اٹھ کھڑا ہوتا ہوں ۔ نیا عزم ، ایک حوصلہ ، ایک سنت ، ایک مہربانی ، ایک خلوص ، ایک سچائی اور رہبری پاتا ہوں ۔ جس طرح روزانہ خوراک ضروری ہے اسی طرح الرسالہ ضروری روحانی خوراک بن چکا ہے ۔ حوصلہ مند زندگی و توانا ئی کے لیے ۔

آپ کے یہاں سے رخصت ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب جنھوں نے آپ کے جلسہ کی صدارت فرمائی تھی ان سے میری ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا مجھے میری زندگی میں پہلی بار ایسے مولانا سے ملنے کا اتفاق ہو ا جو علم جدید پر بھی گہرائی سے نظر رکھتے ہیں اور جدید اسلوب میں پیغمبر انقلاب جیسی گراں قدر تصنیف امت مسلمہ کو پیش کرتے ہیں ۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے آپ نے جامع مسجد میں بروز جمعہ بعد نماز عشار سورہ " الم نشرح " پر اپنے جو زرین خیالات پیش کیے تو لوگوں کی طبیعت بعد تقریر ختم ہونے پر بھی اٹھنے کو نہیں چاہ رہی تھی۔ بھی یہی حالت تھی حالاں کہ میں آپ کے ساتھ کئی سالوں سے ہوں ۔ الرسالہ ( اپریل ۱۹۸۶ ) آج ہی ملا ۔ صفحہ نمبر - ۱ پر عورت کے بارہ میں پڑھا تو میرا دل اچھلنے لگا جسے آپ انگریزی میں تھرل کہتے ہیں۔ بس ایسی ہی کیفیت گزری۔ اگر لوگوں کا مجھے پاگل سمجھنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ضرور دکان بند کر کے ناچنا شروع کر دیتا ۔ سچ مچ آج تک ایسی قرآن کی تشریح پڑھنے میں نہیں آئی۔ جس کسی نے بھی یہ مضمون پڑھا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں یہ بات محض اپنی عقیدت مندی کی وجہ سے نہیں لکھ رہا ہوں اور نہ ہی آپ کا ضیسرا

پیری مریدی والا معاملہ ہے کہ صرف آپ کو خوش رکھنے کے لیے کہوں ۔ میں نے پایا کہ آپ میں تضاد نہیں ہے جو بات آپ نے مجھ سے اکیلے میں کہی وہی بات ہزاروں لوگوں میں بھی کہی ہے۔ یہی خلوت اور جلوت کی یکسانیت مجھے آپ سے عقیدت اور محبت پر مجبور کرتی ہے جو میرے نزدیک عین اسلامی تقاضہ ہے۔ (۲ اپریل ۱۹۸۶)

۱۳- محترم ! پچھلے چند مہینے قبل آپ کی دو کتابیں ختم کیں۔ ایک ” مذہب اور جدید چیلنج “ اور دوسری کتاب ” پیغمبر انقلاب “۔ دونوں ہی کتابوں نے ذہن و دل پر گہرے نقوش چھوڑے۔ مولانا آپ یقین کریں مذہب اور جدید چیلنج پڑھنے کے بعد مغایہ خیال بھی میرے دل میں آیا کہ اگر میرے پاس ایک کروڑ روپے ہوتے تو میں اس کتاب کا ہندوستان کی ہر زبان میں ترجمہ کرواتا اور ہاتھوں ہاتھ مفت تقسیم کروا دیتا۔ اب اکثر نمازوں میں اور بالخصوص جمعہ کی نماز کے بعد آپ کے حق میں یہ دعا دل سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قائم و دائم رکھے ۔ کا رسالہ جب سے نکلنے لگا ہے میری مشکل حل ہو گئی ہے۔ اکثر اپنے غیر مسلم دوستوں کو مطالعہ کے لیے دے دیتا ہوں۔ پچھلے دنوں شاہ بانو کیس کے سلسلے میں ہمارے شہر میں ایک احتجاجی جلوس منترالیہ لے جایا گیا تھا اور مسلم پرسنل لاء پر شہر کے ہر اخبار میں لکھا گیا تھا۔ قسم کے ہنگاموں سے غیر مسلموں پر برا اثر پڑتا ہے۔ وہ اور زیادہ مشکوک انداز میں دیکھنے لگتے میرا ایک قریبی غیر مسلم دوست ایک بار میرے پاس آیا اور پھر پرسنل لاء اور اس جلوس کے خلاف اول فول کہنے لگا۔ میں پہلے تو اس کی باتیں سنتا رہا پھر بات سمجھانے کے لیے انگریزی الرساله جنوری اسے پڑھنے کے لیے دیا۔ اس کے بعد اس پر خاموشی طاری ہو گئی۔ مسلم پرسنل لا طلاق اور نکاح سے متعلق جو باتیں آپ نے لکھی ہیں وہ کسی اسلامی مفکر، دانش ور، کے یہاں نظر نہیں آئیں ۔ (۲۲ فروری ۱۹۸۶)

تذکیر القرآن کی ترتیب خدا کے فضل سے ۲۷ ویں پارہ تک پہنچ گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ کتابت بھی ہو رہی ہے ۔ انشاء اللہ اس کی دوسری جلد عنقریب شائع ہو جائے گی۔

" حقیقت حج " کا نیا ایڈیشن زیر طبع ہے۔ مزید اضافوں کے بعد وہ ایک سو سے زیادہ صفحات کا ہو گیا ہے۔ نئے ایڈیشن میں تصاویر بھی شامل ہیں ۔

Printed page