Al-Risala · January 1986

دو تصویریں

Al-Risala, January 1986, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ شیخ بایزید بسطامی کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا۔ جب شیخ بایزید بسطامی کا انتقال ہو گیا تو اس سے پوچھا گیا کہ تم اسلام کیوں نہیں قبول کر لیتے۔ یہودی نے کہا۔ کیسے قبول کروں۔ اگر اسلام وہ مذہب ہے جو شیخ بایزید بسطامی کا مذہب تھا تو وہ میرے بس میں نہیں اور اگر اسلام وہ مذہب ہے جو میں عام مسلمانوں میں دیکھتا ہوں تو مجھے ایسے اسلام سے شرم آتی ہے۔

ایک غیر مسلم شیخ بسطامی جیسے بزرگوں میں جو مذہب دیکھتا ہے وہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی دنیا سے کٹ کر گوشہ میں معتکف ہو جائے۔ وہ مغرب کے وضو سے فجر کی نماز پڑھے۔ وہ روزانہ کئی کئی بار قرآن ختم کرے۔ وہ سال بھر روزہ رکھے ۔ وہ حج کرنے جائے تو ہر قدم پر دو رکعت نفل پڑھے۔ وہ ذکر کے کچھ الفاظ یاد کر کے روزانہ کئی کئی لاکھ بار اس کا ورد کرے، و غیرہ دوسری طرف عوام کے اندر جو اسلام ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اسلام کا نام لے اور عملاً اپنی مرضی وہ خدا کے سامنے سجدہ کرے اور انسان کے سامنے اکڑ دکھائے۔ وہ قرآن کو بطور تلاوت پڑھے اور اپنی زندگی کو اس کے احکام سے آزاد رکھے۔ وہ اسلام کے دین کامل ہونے پر فخر کرے مگر اپنی حقیقی زندگی میں جزئی اسلام پر بھی قائم نہ ہو۔ وہ کریڈٹ ملنے والے مقامات پر اسلام کا جھنڈا اٹھائے اور جہاں بظاہر کریڈٹ نہ مل رہا ہو وہاں اسلام سے بے تعلق ہو جائے۔ وہ قومی دین کو اپنا دین بنائے اور اس کے اوپر خدا کے دین کا لیبل لگا دے۔

اسلام ایک سادہ اور فطری دین ہے۔ وہ انسانی فطرت کے لیے اپنے اندر بے پناہ کشش اپنی اسی فطری کشش کی وجہ سے دور اول میں اسلام زمین کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اسلام کی خود ساختہ شکلیں بن گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام نے لوگوں کی نظر میں اپنی کشش کھودی۔ اسلام ایک محفوظ دین ہے۔ باعتبار حقیقت وہ آج بھی اپنے اندر مکمل کشش رکھتا اگر اسلام کی حقیقی تصویر سے تمام مصنوعی پردے ہٹا دیئے جائیں تو اسلام اپنے آپ ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔

ایک مفکر کا قول ہے :

It is not the severity of punishment that acts as a deterrent. It is its inevitability. یعنی سزا کی سختی آدمی کو جرم سے نہیں روکتی۔ یہ سزا کی ناگزیریت ہے جو مانع جرم کا کام کرتی ہے۔ یہ قول بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اس قدر سرکش ہے کہ صرف سزا کا امکان اس کے لیے اتنا طاقتور محرک نہیں کہ وہ اس کو جرم سے روک دے۔ آدمی جرم سے صرف اس وقت رکتا ہے جب کہ اس کو یقین ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو وہ کسی حال میں اس کے انجام سے بچ نہیں سکے گا۔ مثال کے طور پر ایک شخص جنگل میں بے ہتھیار چلا جا رہا ہے ۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ قریب کی جھاڑی میں ایک زندہ شیر موجود ہے۔ ایسے موقع پر وہ سانس روک لے گا اور نہایت آہستگی کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا۔ کوئی بھی بے ہتھیار آدمی جنگل کے کھلے ہوئے شیر کو نہیں چھیڑتا۔ مگر یہی انسان جب انسانی بستی میں آتا ہے تو وہ دوسرے انسانوں کو چھیڑتا ہے۔

اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو یقین ہے کہ اگر اس نے جنگل کے شیر کو چھیڑا تو اس کے بُرے انجام سے وہ بچ نہیں سکتا۔ اس کے برعکس اپنے جیسے انسان کو چھیڑنے میں یہ اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہاں اس کو بھروسہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی تدبیر سے وہ اپنے آپ کو اس کے انجام سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا۔

انسان کی یہ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کو جرم سے باز رکھنے کی صرف ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ اس کے اندر اس حقیقت کا یقین پیدا کیا جائے کہ اس کے اوپر ایک خدا ہے جو ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔ آدمی کسی حال میں اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ انسانی قانون میں یہ ناگزیریت نہیں، اس لیے انسانی قانون پوری طرح مانع جرم نہیں بنتا۔ مگر خدائی قانون میں ناگزیریت ہے ۔ اس لیے صرف اسی کے اندر یہ طاقت ہے کہ وہ آدمی کو جرم سے باز

Printed page