Al-Risala · July 1986

کامیاب تدبیر

Al-Risala, July 1986, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

جیل سے فرار موجودہ زمانہ میں ایک آرٹ بن گیا ہے۔ اخبارات میں اس کی مثالیں آتی رہتی اس سلسلہ کا ایک دل چسپ واقعہ وہ ہے جو ۲۶ مئی ۱۹۸۶ کو پریس میں پیش آیا۔ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر عام استعمال کی چیز بن گئے ہیں۔ شخص اسی طرح ایک ہیلی کاپٹر کرایہ پر لے سکتا ہے جس طرح ہندوستان جیسے ملکوں میں موٹر کار کرایہ پر حاصل کی جاتی ہے۔ مذکورہ تاریخ کو ایک ۳27 سالہ عورت نے ایک ستا بہ رتی ادارہ ایر کانٹینٹ (Air Continent) سے ایک ہیلی کاپٹر کرایہ پر لیا۔ وہ خود اس کو اڑاتی ہوئی پیرس کے جیل (La Sante prison) کے اوپر پہنچی اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک قیدی کو لے کر فرار

اس جیل میں ایک ۳۴ سالہ شخص قید تھا۔ اس کا نام مائیکل واجور (Michel Vaujour) بتایا گیا ہے۔ مسلح قزاقی کے جرم میں اس کو ۷ مارچ ۱۹۸۵ کو ۱۸ سال کی سزا ہوئی تھی۔ ہیلی کاپٹر ساڑھے دس بجے دن میں اڑتا ہوا جیل کی فضا میں پہنچا۔ وہ اس کی ایک چھت پر اترا اور مذکورہ قیدی کو لے کر اڑ گیا۔ یہ پوری کارروائی صرف ۵ منٹ کے اندر مکمل ہوگئی۔ جیل میں مسلح پولیس موجود مگر یہ ساری کارروائی اتنی اچانک اور اس قدر غیر متوقع طور پر ہوئی کہ مسلح پولیس اس کے اوپر ایک فائر بھی نہ کر سکی۔ (ٹائمز آف انڈیا، انڈین ایکسپریس ، ۴ مئی ۱۹۸۶) جب دو فریقوں میں مقابلہ ہو تو اس میں وہی فریق کامیاب ہوتا ہے جو مذکورہ قسم کی تدبیر اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ حریف کو بے خبری میں پکڑ لیا جائے ۔ اچانک ایسا اقدام کیا جائے جس کے متعلق فریق ثانی فوری طور پر کچھ نہ سوچ سکے۔ اس کو صرف اس وقت ہوش آئے جب کہ اس کے خلاف کارروائی اپنی کامیابی کی آخری حد پر پہنچ چکی ہو ۔

مذکورہ مثال میں اس تدبیر کو ایک شخص نے مجرمانہ جارحیت کے لیے استعمال کیا۔ مگر جائز دفاع کے لیے بھی یہی تدبیر سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے۔

Printed page