Al-Risala · July 1986

اسلام سائنس کا خالق

Al-Risala, July 1986, pp. 20–25

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ باتیں وہ ہیں جن کا عام طور پر مورخین نے اعتراف کیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے بھی آگے جدید سائنس خود اسلام کی پیدا کردہ ہے ۔ اسلام بلاشبہ سائنس کے لیے نہیں آیا ۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سائنسی انقلاب خود اسلامی انقلاب کی ضمنی پیداوار ہے ۔ اسلام اور سائنس کے اس تعلق کو بریفالٹ نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ ہماری سائنس پر عربوں کا قرضہ صرف یہ نہیں ہے کہ انھوں نے حیران کن نظریات دیے۔ سائنس اس سے زیادہ عربوں کی مقروض ہے۔ یہ خود اپنے وجود کے لیے ان کی احسان مند ہے :

یہ ایک علمی اور تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام سائنس کا خالق ہے ۔ سائنس سادہ طور پر مطالعہ فطرت (Study of nature) کا نام ہے ۔ انسان جب سے زمین پر آباد ہے اسی وقت سے فطرت اس کے سامنے موجود ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فطرت کے مطالعہ اور تسخیر میں انسان کو اتنی زیادہ دیر لگی ۔ تمام ترقیاں پچھلے ہزار برس کے اندر ظہور میں آئی ہیں۔ جب کہ اصولاً انھیں لاکھوں سال پہلے ظاہر ہو جانا چاہیے تھا ۔ اس کی وجہ قدیم زمانہ میں شرک کا غلبہ ہے ۔ شرک اس میں مانع تھا کہ آدمی فطرت کا مطالعہ

کرے اور اس کی قوتوں کو دریافت کرکے اٹھیں اپنے کام میں لائے۔

شرک کیا ہے۔ شرک نام ہے فطرت کو پوجنے کا۔ قدیم زمانہ میں یہی شرک تمام اقوام کا مذہب For the ancient man, Nature was not just a treasure-trove of natural resources, but a goddess, Mother Earth. And the vegetation that sprang from the earth, the animals that roamed the earth's surface, and the minerals hiding in the earth's bowels, all partook of nature's divinity, so did all natural phenomenon - springs and rivers and the sea; mountains, earthquakes and lightening and thunder. غرض زمین سے آسمان تک جو چیز بھی انسان کو نمایاں نظر آئی اس کو اس نے اپنا خدا فرض کر لیا اسی کا نام شرک ہے اور یہ شرک اسلام سے پہلے تمام معلوم زمانوں میں دنیا کا غالب فکر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم انسان کے لیے فطرت پرستش کا موضوع (Object of worship) بنی ہوئی پھر عین اسی وقت وہ تحقیق کا موضوع (Object of investigation) کیسے بنتی۔ وجہ ہے جس کی بنا پر قدیم انسان اس طرف راغب نہ ہو سکا کہ وہ فطرت کا مطالعہ کرے ۔ زمانوں میں انسان فطرت کو خدا سمجھ کر اس کے سامنے جھکتا رہا ہے ۔ فطرت کو مقدس نظر سے دیکھنا انسان کے لیے اس میں روک بنا رہا کہ وہ فطرت کی تحقیق کرے اور اس کو اپنے تمدن کی تعمیر کے لیے استعمال کرے ۔

آرنلڈ ٹائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ فطرت پرستی (شرک) کے اس دور کو سب سے پہلے جس نے ختم کیا وہ توحید (Monotheism) ہے ۔ توحید کے عقیدے نے پہلی بار انسان کو یہ ذہن دیا کہ فطرت خالق نہیں بلکہ مخلوق ہے۔ وہ پوجنے کی چیز نہیں بلکہ برتنے کی چیز ہے۔ اس کے آگے جھکنا نہیں ہے بلکہ اس کو تسخیر کرنا ہے تاہم جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ توحید کے نظریہ کو پہلی بار اسلام نے عملی طور پر رائج کیا تو یہ انقلاب براہ راست اسلام کا کارنامہ قرار پاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کے تمام پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے۔ ہر دور میں خدا کے جن بندوں نے سچائی کی تبلیغ کی انھوں نے خالص توحید ہی کی تبلیغ کی۔ مگر اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے

انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سے آشنا نہ ہوسکا۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کر دی ۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ مثلاً کچھ علماءئے فلکیات نے نظام شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہونچنے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علما ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے ۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کر رکھا تھا اس لیے ان کے لیے نا قابل فہم ہو گیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو وہ زمین نظام شمسی کا مرکز نہ ہو بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کر دیا۔ دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروں کا مشن صرف اعلان کی حد تک جا سکا وہ عملی انقلاب تک یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا اور توحید کو عملی طور پر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کر دیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بت خانوں کو کھنڈر بنا دیا اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔

اہل اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیا گیا۔ ایک خدا انسان کا معبود قرار پایا۔ کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں وہ سب صرف مخلوق بن کر رہ گئیں۔

انسانی تاریخ میں اسلام کے ظہور سے جو عظیم تبدیلی آئی اس کا اعتراف ایک امریکی انسائیکلو پیڈیا میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رُخ کو موڑ دیا : Its advent changed the course of human history. مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ فوراً انسان کے لیے تحقیق اور تسخیر

کا موضوع بن گئے ۔ مظاہرِ فطرت کی تحقیق و تسخیر کا آغاز مدینہ میں ہوا، پھر دمشق اور بغداد اس کے مرکز بنے۔ اس کے بعد یہ لہر سمندر پار کر کے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہونچ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا انتہائی نقطہ ہے ۔ وہ توحید کے انقلاب کا سکولر نتیجہ ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا۔ اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہو گئے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نے ابتداً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا وہ اسپین تک پہونچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہل مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگر چہ دنیا کا بڑا حصہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں تھا مگر سائنس کی ترقی کا کام صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے ذریعہ انجام پا تا رہا۔ مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں سائنس کے میدان میں جو ترقیاں کی تھیں اس کا پہلا سب سے بڑا فائدہ ان کو دو سو سالہ صلیبی جنگوں (۱۰۹۵۔ ۱۲۱۶ء) میں ہوا ۔ اس جنگ میں تقریباً سارا یورپ متحدہ طاقت سے مسلم دنیا پر حملہ آور ہوا تاکہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں کے قبضہ سے واپس لے ۔ مگر انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔ ان مہموں میں کروڑوں جانیں اور بے پناہ دولت قربان کر دی گئی ۔ اور جب یہ سب ختم ہوا تو یروشلم بدستور " بد دینوں" کے قبضہ میں تھا : Millions of lives and an enormous amount of treasure were sacrificed in these enterprises. And when all was done, Jerusalem remained in the possession of the "infidels". Pears Cyclopaedia, (1953-1954). p. 539 صلیبی جنگوں کا خاتمہ مسلمانوں کی کامل فتح اور مسیحی یورپ کی کامل شکست پر ہوا ۔ کی فتح ان کے لیے الٹی پڑی۔ اس کے برعکس عیسائیوں کو ان کی شکست کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔ مسلمان اپنی سیاسی فتح پر قانع ہو کر رہ گئے۔ کامیابی کے احساس نے ان کی عملی قوتوں کو ٹھنڈا کر دیا۔

اس کے برعکس مسیحی یورپ کا اپنی ناکامی کا یہ فائدہ ملا کہ اس کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ اپنی کمزوریوں کو معلوم کر کے ان کی تلافی کرے ۔ چنانچہ اس کے اندر ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے زور و شور کے ساتھ یہ تبلیغ کی کہ مسلمانوں کی زبان عربی سیکھو اور ان کی کتابوں کو اپنی زبان میں ترجمہ کرو ۔ یہ رجحان یورپ میں تیزی سے پھیلا۔ مسلمانوں کی اکثر کتابیں عربی سے لاطینی زبان میں ترجمہ کی گئیں جو اس وقت یورپ کی علمی زبان تھی۔ یہ عمل کئی سو سال تک جاری رہا۔ ایک طرف مسلمان اپنی سیاسی کامیابی میں گم تھے ، دوسری طرف یورپ علمی میدان میں مسلسل ترقی کر رہا تھا ۔ یورپ کا یہ علمی سفر جاری رہا۔ یہاں تک کہ 18 ویں صدی آ گئی جب کہ یورپ واضح طور پر مسلم دنیا سے آگے بڑھ گیا۔

مغربی یورپ نے سائنس کو جدید ٹکنالوجی تک پہلاچادیا۔ اس نے دستکاری کی جگہ مشینی صنعت ایجاد کی۔ اس نے دستی ہتھیاروں کی جگہ دور مار ہتھیار بنا لیے۔ وہ بڑی طاقت سے آگے بڑھا اور اقتدار بحری طاقت اور اس کے بعد فضائی طاقت پر قابو حاصل کر لیا ۔ اس طرح مغرب بالآخر ایسی طاقت بن گیا جس کا مقابلہ مسلمان اپنے موجودہ ساز و سامان کے ساتھ نہیں کر سکتے تھے ۔ مغرب جدید قوتوں سے مسلح ہو کر جب دوبارہ جب مسلم دنیا کی طرف بڑھا تو مسلمان قومیں ان کو روکنے میں ناکام رہیں۔ مغربی قوموں نے مختصر عرصہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا پر براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لیا ۔

صلیبی جنگوں کے بعد مسلمان اپنی سیاسی فتح کے جوش میں سائنس سے دور ہو گئے تھے ۔ موجودہ زمانہ میں یہی بات ایک اور شکل میں پیش آئی ۔ مغربی قوموں کے مقابلہ میں سیاسی شکست نے موجودہ مسلمانوں کے اندر منفی رد عمل پیدا کیا۔ مغربی قوموں نے ان سے ان کا فخر (Pride) چنانچہ وہ مغربی قوموں سے سخت متنفر ہو کر رہ گئے ۔ اپنی رد عمل کی نفسیات کی وجہ سے انھوں نے نہ صرف مغربی قوموں کو برا سمجھا بلکہ مغربی قوموں کی زبان اور مغربی قوموں کے ذریعہ آنے والے علوم کو بھی وہ نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے ۔

ایک صدی کی پوری مدت اسی حال میں گزر گئی۔ مسلمان مغربی قوموں سے نفرت کرتے رہے یا ان سے لڑائیاں لڑتے رہے جو مسلمانوں کی کمتر تیاری کی وجہ سے صرف شکست پر ختم ہونے

والی تھی ۔ دوسری طرف دنیا کی دوسری قومیں مغربی زبان اور مغربی علوم کو سیکھ کر تیزی سے آگے بڑھتی رہیں یہاں تک کہ دونوں کے درمیان بعید فاصلہ پیدا ہوگیا جس کی ایک مثال ہم کو ہندوستان میں نظر آتی ہے۔ مسٹر کلدیپ نیّر نے لکھا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان تعلیم میں دوسوسال پیچھے ہیں۔ اگر اس کو گھٹایا جائے تب بھی یہ فاصلہ ایک سو سال کے بقدر ماننا ہوگا۔ مغربی قومیں جن علوم کو لے کر آگے بڑھیں وہ سادہ معنوں میں محض علوم نہ تھے بلکہ وہ دور جدید میں ہر قسم کی ترقی کی بنیاد تھے۔ چنانچہ جن قوموں نے ان علوم کو سیکھا وہ دنیوی اعتبار سے دوسروں سے آگے بڑھ گئیں۔ مغربی قومیں اور ان کے مقلدین تہذیب و تمدن میں مسلمانوں سے بدرجہا زیادہ فائق ہوگئے۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ مسلمانوں میں سرسید (۱۸۹۸ - ۱۸۱۷) اور اس قسم کے دوسرے مصلحین پیدا ہوئے۔ مگر یہاں پہنچ کر مسلم مصلحین سے تیسری غلطی وہ مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہوگئے۔ وہ مغربی تہذیب کی جڑوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ نہ دیکھ سکے ۔ وہ مغرب کی طرف بڑھے ۔ مگر ان کا بڑھنا مغرب کی تہذیب سے مرعوبیت کی بنا پر تھا نہ کہ مغرب کی قوت کے اصل سرچشمہ (سائنس) کو سمجھ کر اس کو اختیار کرنے کے لیے تھا۔ چنانچہ اس قسم کے مصلحین کی ساری توجہ مغرب کی زبان ، مغرب کے لٹریچر ، مغرب کے تمدنی مظاہر پر رہی۔ یہ مغرب سے قریب ہونے والے بھی مغرب کی سائنس سے اسی طرح محروم رہے جس طرح مغرب سے دور رہنے والے اس کی سائنس سے محروم تھے۔ سرسید نے انگلستان کا سفر کیا تو وہاں کی خاص چیز جو وہ اپنے ساتھ لائے وہ ایک صوفہ سیٹ تھا۔ اس کے بجائے اگر وہ سائنس کی کتابیں یا کوئی مشین اپنے ساتھ لاتے تو یقیناً وہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ ہوتا ۔ آخر وقت میں جب مسلمان مغربی تعلیم کی طرف مائل ہوئے اس وقت بھی ان کے ذہن میں ساری اہمیت مغربی تہذیب کی تھی مغربی سائنس سے وہ بدستور دور پڑے رہے۔

Printed page