Al-Risala · July 1986

سائنسی شعور

Al-Risala, July 1986, pp. 25–27

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کے میدان میں مسلمانوں کے پچھڑنے پن کی وجہ اگر مختصر طور پر بتانی ہو تو وہ صرف ایک ہوگی : مسلمانوں میں سائنسی شعور نہ ہونا ۔

ہندوستان کا زمین دار طبقہ جدید تجارت میں پیچھے کیوں ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر

تجارتی شعور موجود نہ تھا یہی واقعہ سائنس کے سلسلہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ ایک یا ایک سے زیادہ اسباب کی بنا پر مسلمانوں کے اندر جدید دور میں سائنسی شعور پیدا نہ ہوسکا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے سائنس کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دی اور اگر توجہ دی بھی تو آدھوری شکل میں۔

اس کی ایک واضح مثال وہ فرق ہے جو مسلمانوں کے درمیان دینی تعلیم اور سائنسی تعلیم کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر دینی تعلیم کی اہمیت کا شعور موجود تھا اس لیے انھوں نے اس کا پورا اہتمام کیا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سائنسی تعلیم کا شعور موجود نہ تھا اس لیے وہ اس کا وہ اہتمام نہ کرسکے جس کے بغیر کسی قوم میں سائنسی تعلیم نہیں آسکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم رہنماؤں کو جب جدید علوم کی طرف توجہ ہوئی تو انھوں نے کالج اور یونیورسٹیوں تو بنائیں مگر انھوں نے جدید علوم کی ابتدائی تعلیم کا نظام قائم نہیں کیا جو کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو خوراک فراہم کرتے ہیں۔ جب کہ انھیں مسلمانوں میں دینی مدارس کی مثال اس سے بالکل مختلف نمونہ پیش کرتی ہے۔

مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بڑے بڑے دینی مدرسے قائم کیے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ صرف بڑے بڑے مدرسے قائم کرکے بیٹھ جائیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کیا کہ پورے ملک میں ابتدائی سطح پر دینی تعلیم کا نظام پھیلا دیا۔ آپ جس گاؤں یا جس قصبہ میں جائیں، آپ کو وہاں ابتدائی تعلیم کا مکتب ایک یا ایک سے زیادہ کام کرتا ہوا ملے گا۔ یہی ابتدائی مکاتب دراصل وہ ادارے ہیں جو بڑے بڑے دینی مدرسوں کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی مکاتب نہ ہوں تو تمام بڑے بڑے دینی مدرسے سونے نظر آئیں۔

یہی بات جدید سائنس کی تعلیم کے سلسلہ میں بھی ملحوظ رکھنے کی تھی۔ مسلم رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو خوراک پہونچانے والے ابتدائی اسکول نہ ہوں تو کالجوں اور یونیورسٹیوں کو طلبہ کہاں سے ملیں گے۔ ہندوستان میں مثال کے طور پر ہندو اور عیسائی بہت بڑے پیمانے پر ابتدائی تعلیم کا نظام قائم کر رہے تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس مثال سے کوئی سبق نہیں انھوں نے کالج اور یونیورسٹیاں بنانے کے لیے زبر دست کوشش کی مگر ابتدائی اسکول قائم کرنے کی طرف اتنا کم دھیان دیا کہ وہ نہیں کے برابر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ منظر دیکھتے ہیں کہ مسلم کالج اور اسلامی یونیورسٹی تو ہمارے پاس موجود ہیں مگر اس کے اندر مسلم طلبہ موجود ننہیں کیوں کہ ان بڑے اداروں کو غذا بہم پہنچانے والے چھوٹے مسلمانوں نے اپنے بچوں کو مذہبی جذبے کے تحت ہندو اور عیسائی یا گورنمنٹ کے ابتدائی اسکولوں میں بھیجنا پسند نہیں کیا اور خود ان کے اپنے ابتدائی اسکول موجود نہ تھے۔ ہوا کہ قوم کے بچوں کی ابتدائی تعلیم اس انداز پر نہ ہوسکی کہ وہ آگے بڑھ کر سائنس کے شعبوں میں داخلہ لے سکیں۔ مسلم رہنماؤں کی اس غفلت کی وجہ جو بھی ہو ، مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ عملی طور پر یہ ایک بڑا سبب ہے جس نے مسلم قوم کو سائنسی تعلیم میں پیچھے کر دیا۔

Printed page