Al-Risala · July 1986

سائنسی معیار

Al-Risala, July 1986, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

دور جدید کا مذہب اسلام ہے۔ اسلام کے سوا کوئی مذہب نہیں جو دور جدید کے معیار پر پورا اس لیے اسلام کے سوا کوئی مذہب نہیں جس کو دور جدید کا مذہب کہنا با عتبار حقیقت درست موجودہ دور سائنسی دور ہے ۔ موجودہ دور میں انسان ہر چیز کو سائنسی معیار پر جانچتا ہے ۔ سائنسی معیار پر پوری اترے اس کو وہ مان لیتا ہے اور جو چیز سائنسی معیار پر پوری نہ اترے اس کو وہ رد کر دیتا ہے ۔

ابتدا ہر مذہب سچا مذہب تھا ۔ مگر بعد کو ہونے والی انسانی ملاوٹوں کے نتیجہ میں مذاہب اس قابل نہ رہے کہ وہ سائنس کے مقابلہ میں ٹھہر سکیں ۔ جب کہ اسلام ایک محفوظ دین ہے ۔ اور اس بنا پر وہ سائنسی معیار پر صد فی صد پورا اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام موجودہ زمانہ میں بلا مقابلہ کامیابی کی پوزیشن میں ہے، بشرطیکہ اسے جدید انسان کے سامنے پیش کر دیا جائے ۔ سائنسی معیار کیا ہے اور غیر سائنسی معیار کیا، اس کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال لیجیے۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ حقیقت وہ ہے جو مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہو نہ کہ وہ جس کو محض قدیم سندوں کی بنا پر مان لیا جائے ۔ مگر یہ مکمل طور پر ایک جدید تصور ہے جو سترھویں صدی سے پہلے بہ مشکل اپنا وجود ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے دانت مردوں سے کم ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس کی شادی دوبار ہوئی تھی، اس کو کبھی یہ خیال نہ آسکا کہ اس بیان کی تصدیق اپنی بیویوں کے منہ کو دیکھ کر کرے : To modern educated people, it seems obvious that matters of fact are to be ascertained by observation, not by consulting ancient autho- rities. But this is an entirely modern conception, which hardly existed before the seventeenth century. Aristotle maintained that women have fewer teeth than men; although he was twice married, it never occurred to him to verify this statement by examining his wives' B. Russell, The Impact of Science on Society p. 17 مذکورہ مثال کے مطابق سائنسی معیار واقعاتی معیار ہے۔ اور غیر سائنسی معیار قیاسی معیار۔ محض قیاس کی بنیاد پر یہ مان لیا کہ عورت کے منہ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔ اس نے عورت کو

کم تر درجہ کی مخلوق فرض کیا ۔ اس لیے اس نے قیاس کیا کہ عورت جب کم تر درجہ کی مخلوق ہے تو اس کے منہ میں دانت بھی نسبتاً کم ہونے چاہئیں ۔ اس کے بر عکس برٹرینڈ رسل کا ذہن دور جدید میں بنا ہے جو ہر چیز کا واقعاتی تجزیہ چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے کہا کہ قیاس کی بنیاد پر مت مانو بلکہ عورت اور مرد دونوں کا منہ کھول کر ان کے دانت کو گنو اور پھر دیکھو کہ دونوں کے دانت برابر ہیں یا ایک دوسرے سے کم ہیں۔

قدیم زمانہ قیاسی معیار پر باتوں کو ماننے کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانہ میں یہ ممکن تھا کہ جو مذہب بھی رائج ہو اس کو قیاسی مفروضات کی بنا پر درست مان لیا جائے۔ مگر موجودہ زمانہ میں آدمی کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہے جب کہ اس سے متعلق تمام حقائق کا تجزیہ کر کے وہ اس کی معقولیت کو بالواسطہ یا براہ راست طور پر جان چکا ہو۔

یہ وہ معیار ہے جس کو منطبق کرنے کے بعد دوسرے تمام مذاہب اپنے آپ رد ہو جاتے ہیں اس کے بعد صرف اسلام باقی رہتا ہے جو سائنسی معیار پر پورا اترے۔

Printed page