مذہب توحید
Al-Risala, July 1986, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے اس میں مکمل وحدت ہے۔ پوری کائنات یکساں قسم کے قانون کے تحت نظر آتی ہے۔
ایک برطانی سائنس داں پروفیسر آئن راکس برگ (Ian Roxburg) کائنات کیوں اس قدر یکساں ہے (?Why is the universe so uniform) کے زیر عنوان لکھتا ہے کہ کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کیے گیے ہیں وہ تحکمی اعداد پر مشتمل ہیں، جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً ۱۸۳۰ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہی تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ایک خالق نے تحکمی طور پر انھیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لیے ان اعداد میں وہی متناسب قدر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔ پروفیسر آئن راکس برگ کے اصل الفاظ یہ ہیں :
سائنسی نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ کائنات وحدت ہے ۔ ایسی کائنات میں صرف توحید کا تصور فٹ بیٹھتا ہے ۔ شرک کا تصور سائنسی کائنات کے ساتھ کسی طرح ہم آہنگ نہیں ۔ اب مختلف مذاہب کو دیکھیے تو تمام مذاہب مشرکانہ عقائد مبنی نظر آتے ہیں۔ میں دو خدا مانتے ہیں۔ عیسائیوں کے نزدیک خدا کی تعداد تین ہے ، ہندو ازم میں خداؤں کی تعداد کم سے ۳۳ اور زیادہ سے زیادہ ۳۳ کروڑ بتائی گئی ہے۔ افریقہ کے قبائلی مذاہب میں ہر چیز خدا ہے ، صرف ایک انسان ہے جو اس خدائی میں شامل نہیں وغیرہ۔ اس کے مقابلہ میں اسلام نہایت واضح اور قطعی طور پر اس بات کا مبلغ ہے کہ خدا صرف ایک ہے۔ یہاں ایک اللہ کے سوا اور کوئی الہ نہیں۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کے اس فرق کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ جدید سائنسی دنیا میں جو مذہب قابل قبول ہو سکتا ہے وہ صرف اسلام ہے جو خالص توحید کا مذہب ہے ۔ مذاہب جدید سائنسی دنیا میں غیر مطابق ہو کر رہ گئے ہیں کیوں کہ وہ شرک کی تعلیم دیتے ہیں اور شرک کا اصول جدید سائنس کی دریافت کردہ کائنات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔