Al-Risala · July 1986

مشرکانہ مذاہب

Al-Risala, July 1986, pp. 32–333

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے سوا دوسرے مذاہب مشرکانہ مذاہب ہیں۔ مشرکانہ مذاہب میں فطرت کے مظاہر کو خدا کا درجہ دیا گیا ہے۔ اور ان کو مقدس سمجھ کر ان کی پرستش کی جاتی ہے۔ شرک دراصل مظاہر فطرت کی پرستش ہی کا دوسرا نام ہے ۔

موجودہ زمانہ میں فطرت کے ان مظاہر کی نہایت تفصیلی تحقیق کی گئی ہے۔ اور ان کے بارے میں قطعی معلومات حاصل کی گئی ہیں ۔ یہ معلومات ان مظاہر پر فطرت کی خدائی کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہندو ازم میں چاند کو دیوتا بتایا جاتا ہے۔ ہندو عقیدہ رکھنے والے لوگ

قدیم ترین زمانے سے چاند کو پوجتے چلے آرہے ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں چاند کی علمی تحقیق کی گئی ۔ دور بینوں سے اس کا مشاہدہ کیا گیا ۔ چاند کی مٹی کو زمین پر لاکر لیبارٹری میں اس کا تجزیہ کیا گیا ۔ حتیٰ کہ ستمبر 1959 میں روس کا راکٹ چاند پر اتر گیا۔ اس کے بعد جولائی 1969 میں امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ نے چاند پر اپنے قدم رکھ دیئے ۔ اس طرح آخری طور پر معلوم ہوگیا کہ چاند کوئی دیوتا یا چیز نہیں ہے ۔ وہ محض ریت اور پتھر کا ایک مجموعہ ہے ۔

اب ظاہر ہے کہ وہ دین آج کے انسان کا دین قرار پائے گا جو سورج اور چاند کو دیوتا بتاکر اسے پوجنے کے لیے کہتا ہے یا وہ دین جو انسان سے یہ کہہ رہا ہے کہ سورج اور چاند کی پرستش نہ کرو بلکہ تم اس خدا کی پرستش کرو جس نے انھیں پیدا کیا ہے ( لا تسجد واللشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن ، حم السجدہ ، ۳۷ )

حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی دور میں چاند کی معبودانہ حیثیت ختم ہو گئی ہے ۔ آج کا ایک شخص جو چاند کے بارے میں جدید سائنسی نقطہ نظر پر یقین رکھتا ہو وہ اسی کے ساتھ ان مذاہب پر یقین نہیں رکھ سکتا جو چاند کو دیوتا بتاتے ہیں ۔ مگر اسلام کے ساتھ یہ مشکل نہیں ۔ کیوں کہ اسلام چاند کو اور اسی طرح دوسرے اجرام سماوی کو مخلوق بتاتا ہے نہ کہ خالق اور معبود ۔

Printed page