Al-Risala · July 1986

درمیانی واسطہ نہیں

Al-Risala, July 1986, pp. 37–35

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید انسان کا ایک خاص ذوق یہ ہے کہ وہ حقیقتوں سے براہ راست طور پر مربوط ہونا چاہتا ہے۔ موجودہ سائنسی دنیا میں وہ تمام چیزوں سے براہ راست ربط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیے بالکل فطری بات ہے کہ وہ خدا سے بھی براہ راست مربوط ہونا چاہے۔ آج کا انسان میکرو کا سمک

ورلڈ ستاروں اور سیاروں کی دنیا کو اپنی دوربینوں کے ذریعہ براہ راست دیکھتا ہے۔ اسی طرح وہ مائیکرو کاسمک ورلڈ بیکٹیریا اور مالیکیول کو اپنی خورد بینوں کے ذریعہ براہ راست دیکھ رہا ہے۔ تجربات سے اس کا جو ذہن بنتا ہے وہ یہی ہے کہ وہ حقائق کا براہ راست تجربہ کرے ۔ اس اعتبار سے بھی اسلام ہی واحد مذہب ہے جو جدید ذہن کو اپیل کرنے والا ہے۔ مذاہب میں خدا اور انسان کے درمیان واسطہ مقرر ہو گئے ہیں۔ کسی مذہب میں مذہبی پیشواؤں کا واسطہ کسی مذہب میں روحوں کا واسطہ، کسی مذہب میں خدا کے بیٹے اور خدا کے فرشتوں کا واسطہ ، وغیرہ۔ جدید انسان خدا سے براہ راست مربوط ہونا چاہتا ہے لیکن دیگر مذاہب اس کو صرف بالواسطہ انداز سے مربوط ہونے کا راستہ دکھاتے ہیں ۔

آج کی دنیا میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خدا سے براہ راست مربوط ہونے کا طریقہ بتا رہا ہے۔ اسلام کے نزدیک بندے اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونے کے لیے کسی تیسرے واسطہ کی ضرورت نہیں۔ آدمی جس وقت چاہے خدا کی طرف متوجہ ہو اور وہ اپنے آپ کو خدا کے ربط (Contact) میں پائے گا۔

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اور جب میرے بندے میرے بارہ میں پوچھیں تو میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے ۔

Printed page