Al-Risala · July 1986

تاریخی معیار

Al-Risala, July 1986, pp. 35–37

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی طرف سے جو پیغمبر آئے ان میں سے دو پیغمبر حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ تھے۔ دونوں پیغمبروں کا تعلق مصر کی تاریخ سے ہے۔ اس بنا پر جب بھی ان دونوں پیغمبروں کا ذکر آتا ہے تو قدرتی طور پر مصر کی تاریخ بھی اس سے وابستہ ہو جاتی ہے ۔

ان دونوں پیغمبروں کا ذکر بائبل میں بھی ہے اور قرآن میں بھی۔ بائبل جب حضرت یوسف کا ذکر کرتی ہے تو ان کے زمانہ کے بادشاہ کا نام وہ فرعون (Pharoah) بتاتی ہے۔ اسی طرح بائبل میں جہاں موسیٰ کا ذکر ہے وہاں بھی ان کے ہم عصر بادشاہ کا نام فرعون بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل کے نزدیک حضرت یوسف کے زمانہ میں جو بادشاہ مصر پر حکومت کر رہا تھا وہ بھی فرعون تھا

اور حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جو بادشاہ مصر پر حکومت کر رہا تھا وہ بھی فرعون تھا۔ یہ بات جدید تحقیقات سے غلط ثابت ہوئی ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ان لوگوں کی حکومت تھی جن کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے یہ لوگ اصلاً مصری نہ تھے بلکہ عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ باہر سے آکر مصر میں اسی طرح حکمران بن گئے جس طرح انگریز ہندوستان میں ایک عرصہ تک حکمراں رہے ۔ چرواہے بادشاہوں کا یہ خاندان دو ہزار سال قبل مسیح سے لے کر پندرھویں صدی قبل مسیح کے آخر تک مصر کے اقتدار پر قابض رہا۔ حضرت یوسف کی وفات کے بعد ایک عرصہ تک یہ خاندان مصر پر حکمران رہا۔ اس کے بعد مصر میں ان کے خلاف بغاوت ہوئی۔ ان کو مصر سے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ ایک مصری خاندان کی حکومت قائم ہوئی یہی مصری خاندان ہے جس کے بادشاہوں نے سب سے پہلے فرعون (Pharoah) کا لقب اختیار

اس سے ظاہر ہوا کہ بائبل کا بیان جدید تاریخی تحقیقات سے ٹکرا رہا ہے ، بائبل حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ دونوں پیغمبروں کے ہم عصر بادشاہوں کو فرعون کہتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فرعون صرف حضرت موسیٰ کے ہم عصر بادشاہ کا لقب تھا نہ کہ حضرت یوسف کے ہم عصر بادشاہ کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل جدید تاریخی معیار کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ شخص بائبل کو مانے تو اس کو تاریخ کو رد کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ تاریخ کی تحقیق کو مانے تو اس کی نظر میں بائبل ناقابل اعتبار قرار پائے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید انسان مجبور ہے کہ وہ بائبل کو نہ مانے ، الا یہ کہ وہ اپنے سائنسی ذہن سے دست بردار ہو جائے ۔

مگر قرآن کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن میں حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کا بھی ذکر ہے اور حضرت موسیٰ کے زمانہ کے بادشاہ کا بھی ذکر ۔ مگر قرآن انتہائی با معنی طور پر دونوں کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اس نے حضرت یوسف کے ہم عصر بادشاہ کے لیے عزیز کا لفظ استعمال کیا ہے، جس کے معنی حکمران یا ذی اقتدار کے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس قرآن جب حضرت موسیٰ کا ذکر کرتا ہے تو وہاں وہ ان کے ہم عصر بادشاہ کو واضح طور پر فرعون کہتا ہے۔ گویا قرآن کے نزدیک حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ دوسرا تھا اور حضرت موسیٰ کے زمانہ میں مصر کا بادشاہ دوسرا

اس طرح قرآن مکمل طور پر یہ اہلیت رکھتا ہے کہ وہ جدید علم کا سامنا کر سکے۔ کیوں کہ جدید علمی تحقیقات اور قرآن کا بیان دونوں کا مل طور پر ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ یہاں آدمی کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ قرآن کو ماننے کے لیے جدید علم کو چھوڑنے پر مجبور ہو۔ یا جدید علم کو ماننا اس کے لیے صرف اس وقت ممکن ہو جب کہ وہ قرآن سے دست بردار ہو جائے ۔

Printed page