Al-Risala · July 1986

اسلام کی برتری

Al-Risala, July 1986, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

مریم جمیلہ ایک امریکی نو مسلم ہیں۔ وہ امریکہ کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے مسلم ممالک کا سفر کیا۔ بالآخر ایک پاکستانی مسلمان سے شادی کرلی اور اب وہ پاکستان میں مقیم ہیں ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے اسلام مغرب کے مقابلہ میں (Islam Versus The West) اس کتاب میں وہ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں :

یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانہ میں میں نے ایک مضمون لیا جو یہودیت اسلام میں" کہا جاتا تھا۔ میرا ربی پر وفیسر اپنے طلبہ کو، جو سب کے سب یہودی ہوتے تھے، اس بات پر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ اسلام کا ماخذ یہودیت ہے ہماری نصابی کتاب میں قرآن کی ایک ایک آیت کو لے کر دکھایا گیا تھا کہ کس طرح وہ یہودی ذرائع علم پر مبنی ہے۔ کے لکچر کے ساتھ ہم کو ایسے فلم اور سلائیڈ بھی دکھائے جاتے تھے جن میں صہیونیت اور یہودی ریاست کی تعریف ہوتی۔ اگر چہ پروفیسر کا حقیقی مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ اسلام پر یہودیت کی برتری ثابت کرے مگر میرے اوپر اس کا اثر بالکل الٹا پڑا ۔

جیسے جیسے میں نے قدیم عہد نامہ اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا، دونوں کا تضاد مجھ پر نمایاں ہوتا چلا گیا ۔ معنی میں قدیم عہد نامہ صرف یہودیوں کی تاریخ تھی جو خدا کے چنے ہوئے لوگ تھے۔ قرآن اگر چہ عربی زبان میں ایک عرب پیغمبر پر اترا ، اس کا پیغام ایک عالمی پیغام ہے جو تمام نسل انسانی کو خطاب کرتا ہے۔ جب میرے پرو فیسر نے بتایا کہ فلسطین پر یہودیوں کا خدائی حق ہمیشہ سے یہودی شریعت کا مرکزی جزز رہا ہے تو مجھے خدا کے اس تنگ نظر عقیدہ سے بہت دھکا لگا۔

کیا قرآن یہ نہیں کہتا کہ : پورب پچھم سب خدا کے ہیں ، تم جدھر بھی رخ کرو ادھر خدا تمہارے لیے موجود کیا پیغمبر اسلام نے نہیں کہا کہ تمام زمین خدا کی مسجد ہے۔ صہیونیت کہتی ہے کہ یہودیوں کا وطن صرف فلسطین ہے، دوسری جگہ وہ جلا وطن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے پرو فیسر کا دعویٰ کہ یہودی صرف فلسطین میں رہ کر انسانی تہذیب میں اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں بے بنیاد نظر آتا ہے، جب اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ حضرت موسیٰ پر وحی مصر میں آئی۔ تالمود کے انتہائی اہم حصے اس سرزمین میں لکھے گئے جو آج عراق کہا جاتا ہے (صفحہ ۴)

اسلام اتنا برحق مذہب ہے کہ دوسرے مذہبوں سے اس کا سادہ تقابل ہی اس کی برتری ثابت کرنے کے لئے بائبل ایک قوم کی قومی تاریخ معلوم ہوتی ہے جب کہ قرن میں عالمی انسانی پیغام ملتا ہے۔ یہودیت کے نزدیک سارا تقدس بن فلسطین کی سرزمین میں ہے جب کہ اسلام کہتا ہے کہ ساری زمین خدا کی زمین ہے۔ یہودیت کے مطابق ان کے مذہب اور فلسطین کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب کہ خود حضرت موسیٰ کو خدا نے فلسطین سے باہر خطاب کیا اور یہودیوں کی مقدس مذہبی کتاب فلسطین کے باہر مرتب کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اتنا کامل اور اتنا برحق دین ہے کہ دوسروں کے سامنے صرف اس کو سادہ صورت میں پیش کر دینا کافی ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو کسی ملاوٹ کے بغیر اس کی اصلی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔

Printed page