Universal in content and rational in thought
Al-Risala, July 1986, pp. 38–43
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ مفکر کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے ہم کہیں گے کہ یہ دونوں صفات آج صرف اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اسلام کے سوا دوسرا کوئی مذہب نہیں جو دور جدید کے اس معیار پر
اسلام اپنی ابتدائی ربانی شکل میں آج بھی کامل طور پر محفوظ ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب کا حال یہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں ان کے اندر انسانی آمیزش ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ انھوں نے اپنی آفا قیت بھی کھودی اور اسی کے ساتھ اپنی عقلیت بھی۔ انسان کی محدودیت نے خدائی مذہب میں شامل ہو کر خدائی مذہب کو بھی محدود کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے مذاہب میں انسان اور انسان کے درمیان تفریق پائی جاتی ہے۔ چوں کہ لوگوں کے درمیان تفریق اور امتیاز موجود تھا، انھوں نے اپنی اس عملی حالت کو نظریاتی جواز فراہم کرنے کے لیے اس کو ایک مذہبی چیز بنایا اور پھر اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں داخل کر دیا۔ مذاہب میں بادشاہ اور رعایا کی تقسیم ، آ آزاد اور غلام کی تقسیم ، کالے اور گورے کی تقسیم، اونچی ذات اور نیچی ذات کی تقسیم، امیر اور غریب کی تقسیم، مذہبی پیشوا اور عام انسان کی تقسیم — یہ تمام چیزیں اسی تاریخی غلطی کا نتیجہ ہیں ۔
یہی معاملہ عقلیت کا بھی ہے ۔ انسان کی عقل محدود ہے ۔ وہ حد بندیوں میں رہ کر سوچتی ہے اسلام کے سوا ہر مذہب میں ایسا ہوا وہ بعد کے زمانہ میں اس کے ماننے والوں نے اپنی عقل سے اس میں اضافے کیے ۔ ان اضافوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدائی کلام کے ساتھ انسانی کلام شامل ہوگیا ۔ طرح اس کی ابدیت ختم ہوگئی ۔ جو چیز ماضی میں عقلی نظر آتی تھی وہ بعد کے زمانہ میں غیر عقلی ہو کر رہ گئی ۔
اب مذاہب کی فہرست میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی ابتدائی حالت میں محفوظ رہنے کی وجہ سے ان دونوں صفتوں کو اپنے اندر برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ اس میں آفاقیت بھی مکمل طور پر ہے اور عقلیت بھی مکمل طور پر ۔
اِنْ اَنَا الَّا نَذِیرٌ وَ بَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُونَ اَصْلِ کتاب کا مُصَنِّف، اور اُس کی خِلافِہ ہِلا لِ اِسْمَاعِیل صَفدر (رحمتہ اللہ علیہ) الجھنیہ کلام پورین نہیں مطبوعات اسلامیہ : ملتان مولا نا بلال کا نفر ، شاکر سمت کا ہاس مولانا پورین نہیں خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے ۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو بلا دیتی ہے ۔ وہ ایک نا قابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے کہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے ۔ اس کی سوچ ، اس کا عمل اور اس کی تمام کردار دانیار ایک ایسے انسان کی کار روائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے ۔
قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے ۔ وہ اُسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا ۔ نے قرآن کے پیغام کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوام عالم کو مسخر کرلے گا ۔ ہدیہ : ۴۰ روپیہ ۲۰ روپیہ (دعایتی اڈیشن)
ہدیہ : ۲۵ روپیہ ۱۸ روپیہ (دعایتی اڈیشن)
خط و کتابت چیف جسٹس کا ریمارک محمد احمد - شاہ بانو کیس (کریمل اپیل نمبر103- 1981- مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۸۵) میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وائی ۔ چندرا چوڑ نے ایک خصوصی نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ کہتے ہیں کہ عام دیوانی اور فوجداری قانون کے تحت کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں یہ سماج کے ایک بڑے حصے کے لیے دور رس اہمیت کے حامل ہیں جو کہ روایتی طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔ عورتیں اسی قسم کا ایک حصہ ہیں۔ قانون ساز منو نے کہا کہ عورت آزادی کی مستحق اور اسلام پر یہ الزام ہے کہ اس کا ایک تباہ کن پہلو عورت کو کمتر درجہ دینا ہے۔ پیغمبر اسلام کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے، امید افزا طور پر غلطی سے ، کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ۔ اس لیے تم اپنی بیویوں سے نرم سلوک کرو :
Some questions which arise under the ordinary civil and criminal law are of a far-reaching significance to large segments of society which have been traditionally subjected to unjust treatment. Women are one such segment. "Na stree swatantramarhati" said Manu, the law giver: The woman does not deserve independence: And, it is alleged that the 'fatal point in Islam is the degradation of woman'. To the Prophet is ascribed the statement, hopefully wrongly, that 'Woman was made from a crooked rib, and if you try to bend it straight, it will break; therefore treat your wives kindly. واضح ہو کہ چیف جسٹس صاحب کی مذکورہ عبارت میں " امید افزا طور پر غلطی سے " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موصوف کے نزدیک پیغمبر کی طرف اس قول کو منسوب کرنا غلط ہے ۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر نے اگر چہ یہ کہا ہے کہ عورت " ٹیڑھی پسلی " سے پیدا کی گئی ہے ۔ مگر جو لوگ عورت
اور مرد کے درمیان برابری قائم کرنا چاہتے ہیں ، ان کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہمارے لیے امید کا پہلو یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ ارشاد بطور واقعہ درست نہیں۔ چیف جسٹس کے اس فقرہ کا مقصد " بیان" کی تردید ہے نہ کہ خود " انتساب " کی تردید ۔
ایک چیف جسٹس کا یہ ریمارک خالص قانونی اعتبار سے کس حد تک با موقع ہے۔ بارہ میں کوئی قانون داں ہی قطعی رائے دے سکتا ہے ۔ تا ہم یہ یقینی ہے کہ وہ خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں ۔
چیف جسٹس صاحب نے پیغمبر اسلام کا یہ قول اس دعویٰ کی تائید میں پیش کیا ہے کہ اسلام سماج کے ایک طبقہ (عورت) کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی حمایت کرتا ہے۔ حالاں کہ مذکورہ قول اس کے برعکس ، عورت کے ساتھ منصفانہ سلوک کی تاکید کر رہا ہے ۔ محترم چیف جسٹس کا ریمارک منو کے قول کے لیے تو ضرور درست ہے۔ مگر وہ پیغمبر اسلام کے قول پر بالکل صادق نہیں آتا ۔ مذکورہ قول رسول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی (خیر کا سلوک کرو۔ پھر اس حدیث کے بارہ میں کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک یا کمتر درجہ کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے (جیسا کہ منو کے حوالے میں پایا جاتا ہے) جہاں تک عورت کے پسلی کی مانند ہونے کا تعلق ہے ، وہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کی توجیہہ کے طور پر ہے نہ کہ بہتر سلوک کی تردید کے طور پر ۔ اس کے بارہ میں اوپر یہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ یہ محض ایک مثال ہے ۔ عورت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کے معاملہ کو پسلی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے نرم سلوک کرو۔ اگر تم عورت کے ساتھ سخت سلوک کروگے تو یہ عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوگا ، اس سے بگاڑ پیدا ہوگا نہ کہ اصلاح ۔ سورہ نساء کی آیت (خلق منھا زوجھا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا ، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے (حوا) کو بھی بنایا تا کہ دونوں میں موافقت رہے۔ ہوتا کہ دونوں دو الگ الگ جنس ہوتے ، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے ، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا۔ پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں
مل کر مشترکہ جد و جہد سے تمدن کی تعمیر کریں ۔
حدیث (ضلع) میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں ۔ اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے ، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : انی لاقوم فی الصلوة اريد ان اطول فيها میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں ، یہ چاہتا فاسمع بكاء الصبي فاتجوز فى صلاتي ہوں کہ اس کو لمبا کروں ، پھر میں بچے کے رونے کی كراهية ان اشق على أمه آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، اس بخاری ، کتاب الصلوة ) اندیشہ کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا ۔ حدیث رسول میں عورت کو پسلی ( ضلع ) سے تشبیہ دینا ایک سادہ سی بات ہے ۔ اس معاملہ میں جو شبہات پیدا ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ حدیث کو بائبل کے بیان سے جوڑ دیا گیا ۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث کا بائبل کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ ایک فطری حقیقت ہے جس کو دوسرے لوگوں نے بھی اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ مثلاً میتھو آرنلڈ (Mathew Arnold) نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ عورتوں پر دل کی دلیل کام کرتی ہے نہ کہ دماغ کی ، With women the heart argues, not the mind. خط و کتابت اوپر ہم نے وہ ریمارک نقل کیا ہے جو ہندوستانی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مسٹر چندرا چوڑ نے اس معاملہ میں محمد احمد شاہ بانو کیس پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے دیا تھا ۔ اس سلسلہ میں ہم نے سابق چیف جسٹس صاحب کو ایک خط روانہ کیا تھا ۔ اس خط کا عکس اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے ۔
جیسا کہ پچھلی بحث سے واضح ہے ۔ چیف جسٹس صاحب کا یہ ریکارڈ خالص علمی اعتبار سے سراسر بے بنیاد ہے۔ مگر اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ موصوف کو جب بذریعہ خط توجہ دلائی گئی تو انھوں نے اس کا جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی ۔ پہلی بار یہ خط انھیں ۱ ا پریل ۱۹۸۶ کو بذریعہ رجسٹری روانہ کیا گیا تھا ۔ جب کوئی جواب موصول نہ ہوا تو دوبارہ یہی خط ۲۱ مئی ۱۹۸۶ کو انھیں بھیجا گیا ۔ پھر بھی انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار ٹیلی فون کرنے کے بعد بھی کوئی کامیابی نہ ہوسکی ۔ ٹیلی فون پر ان سے کہا گیا کہ آپ ملاقات کا وقت دیدیں تاکہ ہم خود گفتگو کے لیے آپ کے یہاں حاضر ہو سکیں ۔ مگر انھوں نے ملاقات کا وقت دینے سے معذوری ظاہر کی ۔ مجبوراً اب یہ خط اس طرح شائع کیا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ جسٹس موصوف کا جواب شامل
دوسروں پر حکم لگانے کے لیے ہر آدمی با انصاف ہے۔ مگر جب خود اپنے آپ پر حکم لگا ہو تو ہر آدمی بے انصاف بن جاتا ہے ۔