Al-Risala · August 1986

اور تالا کھل گیا

Al-Risala, August 1986, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی ناکام کوشش اب جھنجلا ہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وہ کافی دیر سے تالے کے ساتھ تہدّد آتھوائی کر رہا تھا۔ ”کہتی تو بظاہر صحیح ہے۔ یقیناً تالے کے اندر کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے تالا کھل نہیں رہا ہے ۔ “ اس نے سوچا۔ اس کا غصہ اب اس درجہ پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ صرف یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لیے وہ کھینچنے کے بجائے ہتھوڑے کا استعمال شروع کر دے ۔

اتنے میں اس کے میزبان رفیق احمد صاحب آ گئے ۔ ”کیا تالا نہیں کھل رہا ہے “ انھوں نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا ۔ ”اچھا آپ کنجی غلط لگا رہے تھے ۔ اصل میں آج ہی میں نے اس کا تالا بدل مگر میں نئی کنجی چھلے میں ڈالنا بھول گیا۔ اس کی کنجی دوسری ہے۔ “ اس کے بعد انھوں نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل چکا تھا ۔

زمانہ جب بدلتا ہے تو ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہو جاتا ہے جو ماضی کی صلاحیت کی بنیاد پر حال کی دنیا میں اپنی قیمت وصول کرنا چاہیں ۔ نئے زمانہ میں زندگی کے دروازوں کے تمام تالے بدل چکے ہوتے مگر وہ پرانی کنجیوں کا گچھا لیے ہوئے نئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب ان کی پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے حالاں کہ جب تالے بدل چکے ہوں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھل جائیں ۔ حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں ، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں ریزرویشن کے مطالبے ، تعمیری استحکام کے ذریعہ اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش ، سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانہ میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے ، یہ سب اسی کی مثالیں ہیں ۔ یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرنا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ایسے لوگوں کا انجام موجودہ دنیا میں صرف یہ ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہو کر رہ جائیں ۔ جو کچھ ان کو بر بنائے حق نہیں ملا ہے اس کو سمجھیں کہ وہ بر بنائے ظلم ان کو نہیں مل رہا ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے منفی ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائیں ۔

Printed page