خودکشی نہیں
Al-Risala, August 1986, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے (ریٹائرڈ) جنرل عتیق الرحمن آج کل پاکستان فیڈرل سروس کمیشن کے صدر ہیں۔ ایک "مہاجر" ہیں اور دوسری جنگ عظیم میں فیلڈ مارشل مانک شاہ کے ساتھ برما میں کام کر چکے ہیں۔ فروری ۱۹۸۴ء میں جنرل رحمان ایک سرکاری دورہ پر نئی دہلی آئے۔ ایک اخباری ملاقات میں انھوں نے کہا کہ برما کے زمانہ قیام میں ایک بار مانک شاہ شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔ برداشت ہوگئی تو مانک شاہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو گولی مار کر اپنا خاتمہ کرلیں ۔ جنرل رحمان سے ایک پستول مانگا۔ جنرل عتیق الرحمن نے پستول دینے سے انکار کر دیا۔ نے قہقہہ کے ساتھ کہا ؛ مانک شاہ نے ۱۹۷۱ء کی جنگ میں ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ، اگر اس کو میں اُس وقت جانتا تو یقیناً میں اپنا پستول انھیں دیدیتا ( ٹائمس آف انڈیا ۔ ۲۰ فروری ۱۹۸۴ء) مانک شاہ دوسری عالمی جنگ میں مایوس ہو کر خودکشی کر رہے تھے، حالانکہ اس کے ۲۵ سال بعد ۱۹۷۱ء کی جنگ میں وہ فاتح بن کر نمایاں ہونے والے تھے ۔
اسلام میں خودکشی حرام ہے ۔ کیوں کہ خودکشی خدا سے کامل مایوسی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ آخرت سے انکار کے ہم معنی ہے ۔ اگر آدمی کو یہ یقین ہو کہ مرنے کے بعد وہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ زندہ ہو کر آخرت کی دنیا میں پہنچ جائے گا تو وہ کبھی خودکشی نہ کرے ۔ جس شخص کو آخرت کے مسئلہ کی سنگینی کا احساس ہو اس کے لیے ہر دوسری تکلیف ہیچ بن جائے گی ۔
اسی کے ساتھ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ خودکشی کو حرام قرار دینا گویا انسان کو یہ پیغام دینا ہے کہ _______ وقتی تکلیف سے گھبرا کر مستقبل کو نہ بھول جاؤ۔
موجودہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر انسان پر غم اور تکلیف کا لمحہ آتا ہے۔ مگر ایسے لمحات ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں ۔ اگر آدمی اس لمحے کو برداشت کرلے تو اس کو بہت جلد معلوم ہوتا ہے کہ " تاریک حال " میں اس کے لیے ایک " روشن مستقبل " کا امکان چھپا ہوا تھا ۔ وہ شکست خوردہ ہو کر اپنے کو مٹا دینا چاہتا تھا ۔ حالاں کہ مستقبل اس انتظار میں تھا کہ اس کا نام فاتح کی حیثیت سے تاریخ عالم میں درج کرے ۔