الٹا نتیجہ
Al-Risala, August 1986, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
سبھاش ایک ڈاکو تھا جو ڈاکہ زنی کے ۲۰ واقعات میں ماخود تھا۔ پولیس نے اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر پندرہ ہزار روپیہ نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔
۱۳ دسمبر ۱۹۸۳ کا واقعہ ہے۔ دہلی کی ایک پولیس پارٹی اپنے میٹا ڈور پر انکم ٹیکس آفس کے پاس سڑک پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک سفید فیٹ کار آرہی ہے۔ پولیس کی گاڑی کے قریب آکر اچانک اس نے یو ٹرن (U-Turn) لیا۔ یعنی گھوم کر پیچھے کی طرف واپس ہوگئی۔ پولیس والوں کو شبہ ہوا اور انھوں نے کار کا پیچھا کیا ۔ پولیس کی گاڑی جب بالکل قریب پہنچ گئی تو کار کے مسافروں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ شروع کردی۔
اب پولیس پارٹی کو یقین ہوگیا کہ اس کے اندر کوئی مجرم بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ پولیس والوں نے بھی جواب میں کار کے اوپر فائر کیے۔ مگر کار آگے کی طرف بھاگتی رہی اور بالآخر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ تاہم اسی شام کو شاہدرہ اسپتال کے قریب ایک لاش سڑک پر پڑی ہوئی ملی۔ یہ مذکورہ ڈاکو سبھاش کی لاش تھی۔ پولیس کی گولیوں سے زخمی ہوکر وہ جلد ہی مر گیا تو اس کے بقیہ چار ساتھیوں نے اس کو کار سے نکال کر باہر سڑک پر پھینک دیا اور خود آگے کی طرف روانہ ہوگئے (ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز ۱۴ دسمبر ۱۹۸۳)
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی بچاؤ کا اقدام الٹا پڑتا ہے۔ سفید کار والے اگر معمول کے مطابق اپنے راستہ سے گزر گیے ہوتے تو ممکن تھا کہ وہ پولیس کی زد سے بچ جاتے۔ مگر جب انھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے جارحانہ اقدام کیا تو وہ ہلاکت کے منہ میں جاپڑے ۔
اس دنیا میں ہر آدمی کی سوجھ بوجھ کا امتحان لیا جارہا ہے۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ جس مخالفت چیز کو دیکھیں اس سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے کبھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور کبھی اعراض کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سامنے کی سڑک سے چلنا ہوتا ہے اور کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی دائیں یا بائیں سے کتر آکر آگے بڑھ جائے۔ یہ دنیا ہوش مندی کا امتحان ہے، یہاں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے
اسلام میں کچھ چیزیں مقصد ہیں اور کچھ چیزوں کی حیثیت ذمہ داری کی ہے۔ مثلاً خدا کا شکر ایک مقصدی نوعیت کی چیز ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو ہر آدمی سے مقصد کے درجہ میں مطلوب ہے۔ ہر آدمی کو لازمی طور پر شکر گزار اس کے برعکس مال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مالی احکام اس وقت شروع ہوتے ہیں جب کہ آدمی مال دار ہو چکا ہو۔ جو شخص مال دار نہ ہو اس کے لیے یہ لازم نہیں کہ وہ ضرور اپنے آپ کو مال دار بنائے اور مال کے بارے میں جو اسلامی احکام ہیں ان کی تعمیل کرے ۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں کے لیے قرآن میں ایک دوسرے سے مختلف الفاظ استعمال کیے گیے ہیں۔ شکر کے لیے قرآن میں یہ لفظ ہے کہ بل الله فاعبد وكن من الشاکرین (الزمر ۶۶) جب کہ مال کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ مال دار بنو۔ بلکہ یہاں اس قسم کے الفاظ ہیں : ومما رزقناهم ينفقون (البقره (۳) یعنی پہلے معاملہ میں فرمایا کہ شکر گزار بنو۔ اور دوسرے معاملہ میں فرمایا کہ ہم نے ان کو جو مال دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ گویا شکر گزار تو آدمی کو ہر حال میں بننا ہے ، جب کہ مال کے احکام کی تعمیل اس وقت کرنی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو مال دے دیا گیا ہو ۔ سیاست و حکومت کی حیثیت بھی اسلام میں مقصد کی نہیں بلکہ ذمہ داری کی ہے۔ و حکومت وہ چیز نہیں کہ ہر آدمی اس کو اپنا نشانہ بن کہ اس کے لیے جدوجہد کرے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اللہ تعالیٰ خود اپنی مصلحتوں کے تحت کبھی کسی کو زمین میں با اقتدار بنا دیتا ہے اور کبھی کسی کو ۔ اور جب کسی شخص یا قوم کو یہ عطیہ ملے تو اس وقت اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اقتدار کو ان احکام کے مطابق استعمال کرے جو خدا نے اس کے لیے مقرر کر دیے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں سیاست و حکومت کے لیے جو الفاظ آئے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں جو مقصدی نوعیت کے احکام کے لیے استعمال کیے گیے ہیں۔ مثلاً عبادت کے لیے قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ واعبد ربك حتى يأتيك اليقين ( اپنے رب کی عبادت کرو موت کے آنے تک ) ، دوسری طرف سیاست و حکومت کے لیے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں : الذين ان مكناهم في الارض اقاموا
الصلوة واتوالزكوة وا امروا بالمحروف وانھوا عن المنکر وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین میں حکومت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے ) الحج ۴۱ حکومت کا ذکر " اگر " کے لفظ کے ساتھ ہے اور عبادت کا ذکر " اگر " کے بغیر ہے۔ نوعیت میں یہ فرق نہ ہوتا تو عبادت کے لیے بھی اسی قسم کے الفاظ آتے کہ ــــ اگر ہم انہیں مسجد دیدیتے ہیں تو وہ ہماری عبادت کرتے ہیں۔