نظریۂ سیاست کا ماخذ
Al-Risala, August 1986, pp. 12–14
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاست کا ماخذ قرآن میں کیا ہے ، اس کا جواب اکثر مسلم مفکرین نے یہ دیا ہے کہ اسلام کے نظریہ سیاست کا ماخذ قرآن کی وہ آیت ہے جس میں انسان اول ( آدم ) کے " خلیفہ " ہونے کا ذکر ہے۔ سیاست اسلامی خلافت کا دوسرا نام ہے۔ خلافت کی یہ آیت قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے : واذ قال ربّک للملائكة انّی جاعل اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں في الارض خليفة قالوا اتجعل فيها ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن تو زمین میں اس کو بنائے گا جو فساد کرے اور خون نسبح بحمدك ونقدس لك وقال بہائے ، اور ہم حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہیں انّی اعلم مالا تعلمون (البقره ۳۰) اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔ خدا نے کہا کہ میں اس بات کو جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے ۔
خلیفہ کا لفظ فعيلہ کے وزن پر ہے۔ فقیلہ کے معنی وہی ہیں جو فاعلہ کے ہیں۔ یہ اس میں مبالغہ کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ یہی معاملہ خلیفہ کا بھی ہے ( تفسیر النسفی ) خَلَفَ يَخْلُف کے معنی عربی زبان میں ہیں : پیچھے آنا ، جانشین ہونا ، قائم مقام ہونا۔ قرآن میں ہے : فخلف من بعدهم خلف ( الاعراف ۱۶۹ ) یعنی پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے جو ........ اسی سے خلیفہ ہے۔ خلیفہ کے معنی ہیں جو کسی کی جگہ پر اس کے بعد آئے (من يخلف غيره) خلیفہ کے وہی معنی ہیں جو جانشین (Successor) کے ہیں۔ خلیفہ کا ترجمہ بعض لوگوں نے نائب (Vicegerent) کیا ہے ۔ مگر یہ ترجمہ لغت کے اعتبار
سے صحیح نہیں ۔ استعمال عرب میں خلیفہ جانشین کے مفہوم میں آتا ہے۔ نائب کے مفہوم کے لیے کلام عرب میں کوئی نظیر موجود نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان اگر خلیفہ (جانشین) ہے تو وہ کسی کا خلیفہ ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کا خلیفہ (خلیفۃ اللہ) ہے۔ مگر اس کا براہ راست ثبوت قرآن میں موجود نہیں ۔ سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت میں جو لفظ ہے وہ " ایک خلیفہ " ہے نہ کہ " خدا کا خلیفہ " اس کے علاوہ قرآن میں دوسری کوئی ایسی آیت موجود نہیں جس میں انسان کو خلیفۃ اللہ کہا گیا ہو۔ اسی طرح احادیث کے ذخیرہ میں بھی کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ملتی جس میں صراحتاً انسان کے بارے میں خلیفۃ اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ قرآن اور حدیث میں انسان کے لیے عباد اللہ اور عبد اللہ کے الفاظ تو آئے ہیں مگر خلیفۃ الثریا خلافت اللہ کا لفظ کہیں بھی نہیں آیا۔ انسان اگر خلیفۃ اللہ ہو تو یہ اس کے بارے میں اہم ترین بات ہوگی ۔ ناقابل تصور بات ہے کہ اتنی اہم بات قرآن وحدیث میں غیر مذکور رہ جائے۔
نیز معنی کے اعتبار سے بھی یہ ایک مضحکہ خیز تاویل ہے۔ کیوں کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ انسان خدا کا جانشین ہو۔ اسی مشکل سے بچنے کے لیے مذکورہ حضرات نے خلیفہ کا ترجمہ جانشین کے بجائے نائب کیا ہے۔ مگر یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ کلام عرب میں خلیفہ کا لفظ نائب کے لیے سرے سے نہیں آتا ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کا خلیفہ (جانشین) ہے نہ کہ خالق کا خلیفہ ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی اور اس کے بعد اس پر جنوں کو آباد کیا ۔ آدم کی تخلیق سے پہلے یہی جن زمین کے باشندے تھے۔ پھر جنوں نے زمین پر فساد کیا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے اقتدار سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد آدم پیدا کیے گیے اور وہ زمین پر جن کی جگہ بسائے گیے ۔ اس طرح آدم خلیفہ الجن تھے نہ کہ خلیفۃ اللہ ۔ وہ زمین پر جن کے بعد آئے نہ کہ نعوذ باللہ خدا کے بعد ۔ ایک قوم کے بعد دوسری قوم حضرت آدم کے بعد ان کی جو نسلیں زمین پر ایک کے بعد ایک آباد ہوئیں ان کو بھی قرآن میں خلیفہ یا خلفاء کہا گیا ہے۔ یہ نسلیں یا قومیں بھی خدا کی خلیفہ نہ تھیں بلکہ وہ ان پچھلی قوموں کی خلیفہ تھیں جن کے بعد وہ آئیں ۔
سورہ الاعراف ( رکوع ۱۰ ۔ ۹ ) میں پچھلی قوموں کا ذکر ہے ۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد قوم عاد کو خلفاء بنایا ۔ اذ جعلکم خلفاء من بعد قوم نوح ) پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو خلفاء بنایا اور اس کو زمین میں ٹھکانا ( اذ جعلکم خلفاء من بعد عاد و بو آکم فی الارض ) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوم نوح کی ہلاکت کے بعد جب قوم عاد اس کی جگہ آباد کی گئی تو وہ قوم نوح کی خلیفہ ( جانشین ) تھی ۔ اسی طرح قوم عاد کو ہٹا کر جب قوم ثمود کو زمین پر بسنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع دیا گیا تو وہ گویا قوم عاد کی خلیفہ ( جانشین ) تھی ۔ اسی طرح قدیم ماضی سے لے کر اب تک ایک قوم کے بعد دوسری قوم ابھرتی ہے اور ہر اگلی قوم اپنی پچھلی قوم کی خلیفہ ( جانشین ) ہوتی ہے ۔ خلافت ایک کے بعد دوسرے کے آنے کا نام ہے ۔ خلافت کا لفظ دراصل خدا کے مقرر کیے ہوئے اصول تاریخ کو بتاتا ہے نہ کہ خدا کی نیابت یا خدا کی جانشینی کو ۔ خلافت کا یہ سلسلہ زمین پر برابر جاری بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم آتی ہے اور وہ اپنا امتحان دے کر ختم ہو جاتی ہے یا پیچھے ہٹا جاتی ہے ۔ اور پھر دوسری قوم پچھلی قوم کی خلیفہ ( جانشین ) بنائی جاتی ہے ۔
اس طرح دنیا میں ایک کے بعد دوسری قوم کو کام کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ میں مغل حکمراں سابق دیسی راجاؤں کے خلفا ء تھے ۔ اس کے بعد انگریز مغلوں کے خلفاء ہوئے ۔ موجودہ ملکی حکمراں انگریزوں کے خلفار ہیں ۔ وقس علیٰ ھذا ۔
قرآن میں واضح طور پر حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے خلیفہ کا لفظ آیا ہے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام کس کے خلیفہ تھے ۔ اس سلسلہ میں مفسرین نے اس کو پچھلے پیغمبروں کی خلافت کے معنی میں لیا ہے ۔ اعتبار سے گویا حضرت داؤد خلیفۃ الانبیا ءتھے نہ کہ خلیفۃ اللہ ( تفسیر نسفی ) یعنی وہ بنی اسرائیل کے پچھلے نبیوں کے بعد ان کی جگہ آئے اور خدا کی طرف سے عائد کی ہوئی ذمہ داریوں کو ادا کیا ۔ خلیفہ کا لفظ انسان کی منصبی حیثیت کو نہیں بتاتا ۔ وہ صرف زمین پر انسان کی آباد کاری کی تاریخی نوعیت کو بتاتا ہے ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان زمین کے اوپر خدا کا نائب ہے اور اسے زمین پر وہ خدائی بادشاہی قائم کرنی ہے جو بقیہ کائنات میں خدا خود براہ راست قائم کیے ہوئے ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زمین پر مختلف اشخاص اور مختلف قوموں کو ایک کے بعد ایک کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے یہ لفظ مخلوقات کے بارے میں اصولی جانشینی کو بتاتا ہے نہ کہ خدا کے بارہ میں اصول نیابت کو ۔