Al-Risala · August 1986

حج کا عاطفی پہلو

Al-Risala, August 1986, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات ٥٦) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت کا جذبہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر شامل ہے ۔ انسان کو نہ صرف یہ کہ از روئے واقعہ خدا کی عبادت کرنا چاہیے بلکہ اس کی فطرت کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ وہ ایسا کرے ۔ خدا کی عبادت خود انسان کی اپنی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی عبادت کے سوا کوئی چیز انسان کو حقیقی طور پر مطمئن نہیں کرتی : الا بذكر الله تطمئن القلوب سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے )

جس طرح ایک چھوٹا بچہ عین اپنے اندرونی جذبہ کے تحت مجبور ہے کہ وہ اپنی ماں کی طرف لپکے۔ اسی طرح انسان عین اپنی اندرونی پکار کی بنا پر مجبور ہے کہ وہ خدا کی طرف دوڑے ۔ انسان اپنی اندرونی شخصیت کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے وہ خدا کو بھی اپنے دل و دماغ سے نکال نہیں سکتا۔ علم الانسان کی شہادت یہ حقیقت موجودہ زمانہ میں لسانیات (Anthropology) کے ذریعہ علمی طور پر ثابت ہو گئی ہے موجودہ زمانہ میں علم الانسان کے ماہرین نے انسانی معاشرہ کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک کے انسانی معاشروں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو حقیقتیں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے اُتار چڑھاؤ کے باوجود انسان ہمیشہ خدا کا پرستار رہا ہے۔ خدا اور مذہب کا جذبہ انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں علم الانسان کی تحقیقات کا خلاصہ ہم انسائیکلو پیڈیا امریکا ناکہ الفاظ میں نقل کرتے ہیں :

From the earliest days of the world's history man has been more or less a religious creature. Almost invariably he has had a god, or several of them, to whom he looked for protection. At times these gods have been crude fetishes of whittled wood or roughly hewn stone; at times they have assumed the form of animals or reptiles, or have appeared as cruel monsters eager for the life-blood of those who reverenced them. But, however they may have come, man has worshipped them, because religion, as represented in the worship of a super-natural power, is interwoven with the entire fabric of human Encyclopedia Americana, 1961, V. XXIII, p 354 دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کم و بیش ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ زمانے میں وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا، جس کی طرف وہ بچاؤ کے لیے دیکھ سکے ۔ کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے ۔ کبھی پتھر کے ۔ کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ لیا گیا ، وغیرہ ۔ مگر ہر حال میں وہ سمجھتے اور انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کرے ۔ کیوں کہ مذہب ، ایک مافوق طاقت کی پرستش کی صورت میں، انسان کی فطرت کے پورے ڈھانچے میں گندھا ہوا ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں تخلیقی طور پر پیوست ہے ۔ تا ہم یہ شعور مجمل انداز میں ہے ۔ اس لیے انسان ایسا کرتا ہے کہ جب وہ حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو مصنوعی طور پر وہ خود ساختہ خداؤں کی پرستش کرنے لگتا ہے ۔ فطرت کے زور پر اس کے اندر پرستش کا جذبہ ابھرتا اگر اس کے سامنے پیغمبر کی رہنمائی ہو تو اس کا یہ جذ بہ خدائے وحدہ لاشریک کی صورت میں اس کا جواب پالے گا ۔ اور اگر پیغمبر کی رہنمائی اس کے سامنے نہ ہو تو وہ اپنے جذبہ کی مصنوعی تسکین کے لیے غیر خداؤں کو خدا فرض کر کے ان کو پوجنے لگے لگا ۔

انسان کا مقصود اصلی صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جو اس کا خالق و مالک ہے۔ اس کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ شامل ہے ۔ انسان یکسو ہو کر اپنی فطرت پر کان لگائے تو وہ خود اپنے اندر خدا کو پالے گا ۔ وہ اس کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرے گا ۔ یہ فطرت گویا انسان کا " لاشعور " ہے ۔ پیغمبر اسی لاشعور کو شعور کا درجہ عطا کرتا ہے ۔ تا ہم انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے صرف یہ غیبی معرفت کافی نہیں ۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ خدا کو محسوس طور پر بھی پائے ۔ وہ خدا کا محسوس ادراک کر سکے ۔ مگر یہاں یہ رکاوٹ ہے کہ خدا کا

محسوس اور اک حقیقی معنوں میں آخرت سے پہلے ممکن نہیں ۔

آخرت میں بلا شبہ انسان خدا کو دیکھے گا ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے ، وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے ( القیامہ ) حدیث سے بھی یہ بات تواتر کی حد تک ثابت ہے صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم عنقریب اپنے رب کو کھلے طور پر دیکھو گے ( انکم سترون ربکم عیانا )

وفی الصحيحين عن جرير قال نظر | بخاری و مسلم میں حضرت جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الى القمر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی رات میں چاند کی ليلة البدر فقال : انكم ترون ربكم | طرف دیکھا ، پھر فرمایا کہ تم ( آخرت میں ) اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ | رہے ہو ۔

Printed page