Al-Risala · August 1986

شعائر اللہ

Al-Risala, August 1986, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا حقیقی مشاہدہ صرف آخرت میں ہوگا ۔ مگر آخرت کے خدائی مشاہدہ پر یقین رکھتے ہوئے بھی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو پائے ۔ وہ کل کے آنے سے پہلے آج کے دن خدا کی قربت حاصل کرے ۔ یہ انسان کی فطرت ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ طلب موجودہ دنیا میں کس طرح پوری ہو ۔

اس کا جواب شعائر اللہ ( البقره ١٥٨ ) کی صورت میں فراہم کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی نے کچھ چیزوں کو ان کی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اپنا شعیرہ (علامت) قرار دیا ہے ۔ ان علامتوں یا یادگاروں کے گرد ایسے حالات جمع کیے گیے ہیں کہ ان کو دیکھنا خدا کو دیکھنا بن جائے ۔ جس خدا کو انسان براہ راست نہیں پا سکتا اس کو وہ بالواسطہ انداز میں پالے ۔ انسان موجودہ دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھ سکتا البتہ وہ شعائر اللہ کو دیکھ سکتا ہے ۔ وہ موجودہ دنیا میں اللہ کو اس طرح نہیں پا سکتا کہ وہ اس کو چھوئے اور اس سے محسوس قربت حاصل کرے ۔ البتہ وہ شعائر اللہ کو چھو سکتا ہے اور اس کے ذریعہ سے قربت خداوندی کا محسوس تجربہ کر سکتا ہے ۔

شعیرہ ( جمع شعائر ) سے معنیٰ ہیں نشان ، علامت ، یادگار ۔ یعنی وہ چیز جو خود اصل نہ ہو

البتہ ہ کسی نسبت کی بنا پر اصل کی یاد دلائے۔ اس کی ایک مثال صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں جن کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے۔ ( ان الصفا والمروة من شعائر الله ، البقره ۱۵۸ )

صفا اور مروہ مکہ میں بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً 500 قدم کا فاصلہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کو لاکر یہاں بسایا تو یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ حضرت ہاجرہ کی مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ صفا اور مروہ کے درمیان پانی کی تلاش میں سات بار دوڑیں ۔ اسی کی یاد میں آج بھی تمام حاجی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی کرتے ہیں ۔

یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور اس نے صفا اور مروہ کو اپنا شعیرہ قرار دیدیا۔ یعنی خدا پرستی کی مستند یادگار ۔ صفا اور مروہ کو دیکھ کر وہ پوری تاریخ یاد آ جاتی ہے جب کہ اللہ کے ایک بندہ نے صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنے سر سبز وطن (عراق) کو چھوڑا اور اپنے بیوی اور بچہ کو بے آب و گیاہ علاقہ میں لا کر بسا دیا۔ یہ اللہ پر یقین اور اس کے اوپر اعتماد کی ایک کامل مثال ہے۔ اسی طرح کعبہ ، حجر اسود اور حج سے متعلق دوسری چیزیں سب کی سب شعائر اللہ ہیں۔ کامل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی خدا پرستانہ زندگی کی نشانیاں ہیں۔ ان کو دیکھ کر حضرت ابراہیم کی موحدانہ تاریخ یاد آتی ہے ۔ ان کو دیکھ کر خدا کی عظمت و جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ ان شعائر کے ماحول میں پہونچ کر آدمی اپنے آپ کو خدا کے ماحول میں محسوس کرنے لگتا ہے ۔ حجر اسود کو حدیث میں ید اللہ علی الارض ( زمین پر اللہ کا ہاتھ ) کہا گیا ہے۔ معنوں میں نہیں بلکہ تمثیلی معنوں میں ہے۔ آدمی کے اندر اٹھنے والے ربانی جذبات اپنی محسوس تسکین کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ اللہ کے ہاتھ کو چھوئیں اور اس کو چھو کر اپنے جذبے کو مطمئن کریں، حجر اسود کو چوم کر آدمی اپنے اسی جذبہ کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کو پا کر اس کے گرد گھومے ، کعبہ کے مقدس گھر کا طواف کر کے وہ اپنے اسی جذبہ کو تسکین دیتا ہے ۔ آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے دوڑے، وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے تو اس کو یہی تسکین حاصل ہوتی اسی طرح حج کے تمام مراسم کسی نہ کسی اعتبار سے انسان کے چھپے ہوئے جذبات کی تسکین ہیں۔ رب سے محسوس تعلق و قائم کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

معبود کی پرستش کا جذبہ فطری طور پر انسان کے اندر چھپا ہوا ہے ۔ شرک اور بت پرستی اسی فطری جذبہ کا غلط استعمال ہے ۔ توحید کا عقیدہ اس فطری جذبہ کو صحیح رخ عطا کرتا ہے ۔ یہی معاملہ حج کے مراسم کا ہے ۔ ایک اعتبار سے ایک انسانی غلطی کی اصلاح ہے ۔ وہ انسان کی طلب کو غلط رخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس کو صحیح رخ پر لگا دیتا ہے ۔ حج اسی جذبہ کی تسکین کی صحیح صورت ہے جس کو انسان غلط طریقے سے تسکین دینا چاہتا ہے ۔

انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھے ، وہ محسوس طور پر اس کو پاکر اس کے آگے مراسم عبودیت ادا کرے ۔ انسان نے اپنے اس جذبہ کی تسکین کے لیے یہ کیا کہ اس نے غیر مرئی خدا کی مرئی تصویر (Image) اور اس خود ساختہ تصویر کو خدا کی تصویر سمجھ کر اس کو پوجنا شروع کر دیا۔ مگر یہ قرآن کے الفاظ میں الحاد (انحراف) ہے ۔ انسان اپنے جس فطری جذبہ کا جواب خدائی بتوں میں تلاش کر رہا ہے اس کا جواب زیادہ صحیح طور پر خدائی یادگاروں (شعائر اللہ) میں موجود ہے ۔

خدا کا بت بنانا ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کا مجسمہ بنانا ۔ مجسمہ وہ شخص بناتا ہے جس نے صاحب مجسمہ کو یا اس کی تصویر کو دیکھا ہو۔ مگر خدا کے بارے میں کوئی مجسمہ ساز یہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ایک شخص جب خدا کا بت بناتا ہے تو وہ لا محدود کو محدود کرتا ہے ۔ وہ ایک برتر ہستی کو غیر برتر چیزوں میں ڈھالتا ہے ۔ اس قسم کا ہر فعل واقعہ کے خلاف ہے۔ اور وہ بلا شبہ سرکشی کے ہم معنی ہے ۔

حج ایک اعتبار سے اس انسانی ذہن کی اصلاح ہے ۔ حج کا پیغام یہ ہے کہ خدا کو " مجسمہ " کی سطح پر اتارنے کی کوشش نہ کرو ۔ خدا کو اس کے " شعائر " کی سطح پر دیکھو ۔ موجودہ دنیا میں تم خدا کو اس کی ذات کی سطح پر نہیں پا سکتے۔ البتہ تم اس کو آثار ذات کی سطح پر پا سکتے ہو۔ یہ شعائر وہ ہیں جو خدا کے معیاری پرستاروں کے عمل سے قائم ہوئے ہیں۔ یہ تاریخ کے ان لمحات کی مادی یادگاریں ہیں جب کہ خدا اور بندے کے درمیان براہ راست اتصال قائم ہوا۔ جب بندہ نے خدا کو پایا اور خدا نے اپنے کو بندہ کے لیے بے نقاب کیا۔

تاریخ کے وہ قیمتی افراد جنہوں نے خدا پرستی کو اس کی اعلیٰ اور معیاری شکل میں اختیار کیا۔ آثار ہی کا نام شعائر اللہ (خدا کی یادگاریں) ہے ۔ انھیں شعائر کے درمیان تمام مراسم حج ادا کیے جاتے ہیں۔ ان سے دوری خدا سے دوری ہے اور ان سے وابستگی خدا سے وابستگی ۔

Printed page