Al-Risala · August 1986

ملاقات خداوندی

Al-Risala, August 1986, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

حج کے بہت سے پہلو ہیں۔ مگر اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ سفر کر کے مقامات حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”اپنی دنیا“ سے نکل کر ”خدا کی دنیا“ میں پہنچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو چھوڑ رہا ہے وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ وہ اس کی خاطر ادھر سے ادھر جا رہا ہے۔ اس کے حضور قربانی پیش کر رہا ہے۔ وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ اس سے مانگنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ وہ اس سے پانا چاہتا ہے۔ عرفات کا میدان اس سلسلہ میں بڑا عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے چلے آ رہے ہیں، سب کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس ہے۔ ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی کلام جاری ہے : لبیّک اللّھمّ لبیّک، لبیّک لَا شريکَ لَكَ لبيّک (حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں، حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں) یہ منظر دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اچانک تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے (و نفخ في الصور فاذَا ھم من الاجداث الى ربھم ينسلون ) حقیقت یہ ہے کہ عرفات کا اجتماع حشر کے اجتماع کی پیشگی خبر یہ آج کی دنیا میں آئندہ آنے والی دنیا کی تصویر دکھاتا ہے ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ الحج عرفة (عرفات کے میدان میں قیام ہی حج ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا اہم ترین مقصد وہ یہ ہے کہ آدمی میدان حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے۔ جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے اس کو آج ہی ذہنی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے ۔

کعبہ خدائے واحد کا گھر ہے۔ اس کو دو جلیل القدر پیغمبروں (حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل) نے مل کر بنایا ۔ ان پیغمبروں کی اعلیٰ زندگی اور خدا کے لیے ان کی قربانی کے حیرت انگیز واقعات اس گھر سے وابستہ ہیں۔ پھر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پاک اصحاب کی زندگیاں اور ان کی خدا پرستانہ سرگرمیاں اس کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہیں۔

خدا پرستی اور خدا کے لیے قربانی کی اس بے مثال تاریخ کو آدمی کتابوں میں پڑھتا ہے۔

اور محبت کی تاریخ، خدا کے لیے قربان ہو جانے کی تاریخ، خدا کو اپنا سب کچھ بنانے کی تاریخ، خدا کو قادر مطلق کی حیثیت سے پالینے کی تاریخ، خدا کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے کی تاریخ۔ اس قسم کی ابیک عظیم ربانی تاریخ آدمی کے سامنے کعبہ کی صورت میں مجسم ہو جاتی ہے۔ حروف میں لکھی ہوئی اس کو نظر آنے لگتی ہے۔ یہ تجربہ اس کے دماغ کو ہلاتا ہے وہ اس کے سینہ کو پگھلا دیتا ہے۔ وہ اس کو بدل کر نیا انسان بنا دیتا ہے۔

راقم الحروف نے اپنے حج (۱۹۸۲) کے سفر نامہ میں لکھا تھا:

"ہماری قیام گاہ حرم سے بہت قریب شارع ابراہیم الخلیل پر تھی۔ چنانچہ کھانے اور مختصر سونے کے علاوہ میرا بیشتر وقت حرم میں گزرتا تھا۔ میرا روزانہ کا معمول تھا کہ میں باب الہجرہ کے پاس زمزم کے پانی سے وضو کرتا، اس کے بعد سیر ہو کر زمزم کو پیتا اور پھر حرم میں داخل ہو جاتا۔ اکثر میں حرم کے اوپر کے حصہ میں جاتا تھا۔ کیوں کہ اوپر کے حصہ میں نسبتاً بھیڑ کم ہونے کی وجہ سے سکون رہتا تھا۔ میں نماز پڑھتا، تلاوت کرتا، کعبہ کو دیکھتا، اللہ کو یاد کرتا ۔ روزانہ گھنٹوں اس طرح گزر جاتے کہ مجھے وقت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا۔ خواہ کتنی ہی زیادہ دیر ہو چکی ہو، جب میں حرم سے لوٹتا تو محسوس ہوتا کہ ابھی طبیعت سیر نہیں ہوئی۔ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

Printed page