مصیبت میں راحت
Al-Risala, August 1986, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کے موقع پر یک وقت ساری دنیا کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس بنا پر حج میں بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جو آدمی کی طبیعت پر بے حد شاق معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر آدمی اگر اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کر لے تو اس کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ اس کے بعد تلخ تجربہ بھی شیریں تجربہ بن جائے گا۔ اس کے بعد وہی چیز اس کے لیے رزق ربانی کا سبب بن جائے گی جو عام حالات میں صرف رزق نفسانی کا ذریعہ بنتی ہے۔
مثلاً آپ مسجد حرام میں نماز کے لیے کھڑے ہیں کہ انسانوں کا ہجوم اندر داخل ہوا اور کشادہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے عین آپ کے سامنے صف باندھ کر کھڑا ہوگیا۔ آپ کے سامنے اتنی جگہ باقی نہ رہی کہ آپ درست طور پر رکوع کریں یا درست طور پر سجدہ کریں۔ ایسے موقع پر اگر آپ صرف سامنے کے انسانوں کو دیکھیں تو آپ کے اندر غصہ اور نفرت پیدا ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ خود اپنا احتساب کرنے لگیں تو آپ کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ آپ کہہ اٹھیں گے کہ خدایا، تو میری اس ٹوٹی پھوٹی نماز کو قبول کیوں کہ میری بظاہر صحیح نماز بھی حقیقتاً اتنی ہی ٹوٹی پھوٹی نماز ہے جتنی کہ میری یہ نماز۔ جو شخص اپنے ذہن کو اس طرح موڑے اس کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ جس واقعہ سے اکثر لوگ صرف انسان بیزاری کی غذا لیتے ہیں اس واقعہ سے اس کو خدا کی قربت کا رزق ملنے لگا۔ اسی طرح حج کے سفر میں طرح طرح کے ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ رمی اور دوسرے مواقع پر انسانوں کی بھیڑ، منی اور عرفات میں گرمی کی شدت، پانی لینے کے لیے ایک کا دوسرے پر ٹوٹنا اس قسم کی جو مختلف صورتیں حج کے سفر میں پیش آتی ہیں۔ ان میں اگر آپ صرف سامنے کے واقعہ کو دیکھیں تو آپ کے اندر غصہ اور جھنجھلاہٹ کا جذبہ بھڑک اٹھے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ اس وقت یہ سوچنے لگیں کہ جب دنیا کی چھوٹی مصیبت کا یہ حال ہے تو آخرت کی بڑی مصیبت کا کیا حال ہوگا، تو اچانک آپ یہ محسوس کریں گے کہ جو چیز بظاہر مصیبت نظر آ رہی تھی وہ عین راحت بن گئی۔ خدا کی رحمت بن کر آپ کے اوپر سایہ کر لیا۔