غیر معمولی سفر
Al-Risala, August 1986, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کے مذکورہ سفر نامہ (۱۹۸۲) میں تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے :
"۱۹۸۲ میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں حج کا پروگرام شامل نہ تھا۔ حتی کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا کہ میں حجاز پہونچ کر حج کا فریضہ ادا کروں۔ افریقہ پہونچا تو وہاں ایک بزرگ دوست مل گئے اور ان کے ساتھ اچانک سفر حج کے اسباب پیدا ہو گئے ۔ اس معاملہ میں میرے ساتھ بالکل وہ صورت حال پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے: خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے یہ میری محرومی تھی کہ میں نے ابھی تک حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا ۔ وطن سے میں ایک اور سفر
کے لیے نکلا ۔ مگر اللہ نے عجیب و غریب طور پر ایشیا اور یورپ اور افریقہ کا سفر کراتے ہوئے مجھ کو ارض حرم میں پہنچا دیا تا میں حج کی سعادت حاصل کر سکوں ۔ حج کرنے والا اگرچہ میں تھا مگر حج کرانے والا صرف خدا تھا کر اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہ تھا۔ آخر کار جب میں حرم میں پہنچا اور کعبہ پر نظر پڑی تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبہ کو دیکھنا اور کعبہ کے پڑوس میں اپنے آپ کو پانا اتنا پر کیف ربانی تجربہ ہے جس کے اظہار سے میرا قلم عاجز ہے۔ اس غیر متوقع نعمت کو پا کہ دل کی عجیب کیفیت ہوئی کہ بے اختیار میری زبان سے نکلا : خدایا، میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا گویا کہ میں حج کیے بغیر مر جانے پر راضی تھا۔ یہ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے مجھ کو اس نا قابلِ بیان محرومی سے بچالیا۔ یہ بظاہر ایک حاجی کے وہ تاثرات ہیں جو مخصوص حالات میں اس پر طاری ہوئے۔ یہ ہے کہ یہی تاثر ہر حاجی پر طاری ہونا چاہیے۔ ہر حاجی پر یہ کیفیات طاری ہونی چاہئیں کہ وہ اپنے حج کو خدا کی طرف سے کرایا جانے والا حج سمجھے۔ وہ جب ارض حرم میں پہنچے تو وہ محسوس کرے کہ یہ در اصل خدا ہے جس نے اس کو اس نوبت تک پہنچایا ہے۔ وہ ایک عام مسافر کی حیثیت سے اپنے وطن سے نکلا مگر جب وہ منزل پر پہنچا تو وہ خدا کا مہمان تھا۔ اس نے صرف ایک زمینی راستہ طے کیا تھا مگر اللہ نے اس کو ایک ایسے ماحول میں پہنچا دیا جہاں ہر طرف آسمانی برکتیں بکھری ہوئی ہیں۔ اس کے پاس صرف محرومی کا اثاثہ تھا مگر اللہ نے اپنی رحمتِ خاص سے اس کے کھونے کو پانا بنا دیا۔ فیض بقدر استعداد کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالی نے تاریکی طور پر یہاں ایسے اسباب فراہم کیے ہیں کہ جو شخص وہاں جائے وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم اس دنیا میں ”فیض بقدر استعداد“ کا اصول رائج ہے۔ بیت اللہ کا فیض صرف اس کو ملتا ہے جو اس کی استعداد لے کر بے استعداد لوگوں کے لیے حج کا سفر بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گیے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔
مذکورہ سفر نامہ حج (۱۹۸۲) میں حسب ذیل سطریں درج ہیں :
" وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے ، جس طرح وہ ناقابل بیان ہیں ، اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابل بیان ہیں جو وہاں مجھ کو دیکھنے کو ملے ۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خرید نے میں ۔ کچھ لوگ دوسروں کو دھکا لے کر اپنی پر جوش مذہبیت کا اظہار کر رہے حالاں کہ اس قسم کی چیزیں مقامات حج میں جائز نہیں ۔
جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تاکہ آدمی ان میں محو ہو جائے وہاں لوگ انسانی جلوؤں میں گم تھے ۔ جہاں خدا کے فرشتے اترے ہوئے تھے تاکہ لوگ ان سے باتیں کریں وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے ۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خرید نے کے سوا کسی اور چیز سے دل چسپی نہ تھی ۔ جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انھیں پیچھے کر دے وہاں لوگ دوسروں کو دھکا دے کر آگے بڑھ جانے کی مہارت دکھا ر ہے تھے ۔