چند تاثرات
Al-Risala, August 1986, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ سفر نامہ میں حج کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے :
" ۴ اکتوبر ۱۹۸۲ کی شام کو ہم نے طواف وداع کیا ، اور رات کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ کعبہ کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی ۔ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا۔ قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطن اصلی سے نکل کر وطن غیر کی طرف جا رہا ہوں ۔ اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجد حرام سے رخصت ہو کر4 اکتوبر کی شب کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے ۔
حرم مدینہ میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا ۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی ۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا ، میں تیرے رسول پر صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہوں ۔ اپنے رسول کی امت میں شامل کرے ۔ مجھ کو ان لوگوں میں لکھ دے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے ۔ اور جن کی شفاعت کو قبول کر کے آپ انھیں جہنم سے بچائیں گے اور جنت میں داخل کریں گے ۔ کیا تعجب ہے وہ دن جو آ چکا اور کیسا تعجب ہے وہ دن
مدینہ میں ہمارا قیام مسجد نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں تھا۔ اذان اور تکبیر تک کی آواز ہمارے کمرے میں پہنچتی تھی۔ کئی دن تک مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ یہاں نمازیوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ بہ مشکل کسی کو سکون اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع مکہ کے قیام کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی۔ اس کے بعد میں مسجد حرام کی اوپر کی منزل پر نماز پڑھنے لگا۔ وہاں مجھے کافی سکون رہتا تھا۔ مسجد نبوی کو معلوم نہیں کس مصلحت کی بنا پر دو منزلہ نہیں بنایا گیا کہ میرے جیسا کوئی آدمی وہاں پناہ لے سکے۔ مسجد نبوی غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار ہے۔ مگر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تمام وسعتوں کے باوجود اس کو ناکافی بنا دیا ہے۔ تاہم میرے جیسے آدمی کے لیے یہ منظر کوئی خوش گوار منظر نہ تھا کہ مسجد نبوی کے اطراف کو دکانوں اور ہوٹلوں نے گھیر رکھا ہے۔ صرف ایک طرف کا حصہ دکانوں اور ہوٹلوں سے خالی ہے جس کے اوپر خیمہ نما تعمیرات نمازیوں کے لیے کھڑی ہوئی ہیں۔ کاش مسجد کے چاروں طرف کھلا ہوا میدان ہوتا تو مسجد کی عظمت زیادہ نمایاں ہوتی۔ تقریباً یہی صورت حال حرم مکہ کی بھی ہے۔
۳۰ ستمبر ۱۹۸۲ء کو حج کے مناسک کی تکمیل ہوئی۔ اور ہم دوبارہ مکہ واپس آئے۔ دار الثقافہ (مکہ) کی طرف سے ہر سال حاجیوں کے اعداد و شمار شائع کیے جاتے ہیں۔ کے اعلان کے مطابق اس سال (1402ھ) ) سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے تمام ممالک سے آنے والے حاجیوں کی کل تعداد ۸۵۳۵۵۵ تھی۔ زیادہ تعداد والے چند ملکوں کے نام یہ ہیں:۔ ۱- مصر ۹۸۲۰۸ ۲- ایران ۸۹۵۰۳ ۳- نائجیریا ۸۱۱۲۸ ۴- پاکستان ۷۴۸۴۴۳ ۵- انڈونیشیا ۵۷۴۷۸ ۶- ترکی ۵۳۷۸۸ ۷- الجزائر ۴۰۴۷۰۰
سعودی حکومت نے بے شمار اعلیٰ انتظامات کیے ہیں۔ ان انتظامات نے موجودہ زمانہ میں حج کو بہت آسان بنا دیا ہے ۔ تاہم ایک چیز ایسی ہے جس کا اس کے پاس شاید کوئی حل نہیں۔ حاجیوں کا ہجوم ہے۔ خاص طور پر شیطان کو پتھر مارنے کے موقع پر لوگ جس طرح ایک دوسرے کے اوپر ٹوٹتے ہیں وہ انتہائی حد تک افسوس ناک ہے۔ بے شمار انسان بیک وقت شیطان کو مارنے کے لیے اس طرح ہجوم کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامتی شیطان کو کنکری مارنے کا انھیں اتنا جوش ہے کہ اس کی خاطر وہ حقیقی انسان کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ خدا کے ایک حکم کی تعمیل کے شوق میں خدا کے دوسرے حکم کو نظر انداز کرنے کی اس سے زیادہ بڑی مثال اب تک میں نے اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھی تھی ۔ کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ ایک منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے وہ حج جس میں انسان دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے ۔