تجدید ایمان
Al-Risala, August 1986, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
حج ایک قسم کا تجدید ایمان ہے ۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقت ایمان ہے۔ بعد مومن جب کہ پہونچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے ۔ وہ براہ راست خدا سے ”بیعت“ ہوتا ہے۔
حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیت اسلام سے متعلق ہے۔ اسلام قبول کرنے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کے ساتھ یہ معاملہ ایمان اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایمان ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمان اول اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمان ثانی براہ راست ایمان ہے ۔ معذوری کی حالت میں ایمان اول ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر صاحب استطاعت کے لیے ایمان ثانی ذکر
بھی حج ادا کیے بغیر مر جائے تو خدا کو اس کی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مراد (من ملك زاداً وراحلة تبلغه حج بيت الله الحرام ولم يحج فلا عليه ان يموت يهوديا او نصرانيا، رواه الترمذی والبيهقی)
اسلام کا خلاصہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ حج میں یہ جو انگلی پوری طرح عمل میں عرفات کے میدان میں جب تمام حاجی " حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں کہتے ہوئے جمع ہوتے ہیں تو یہ اسی بات کا ایک اجتماعی مظاہرہ ہوتا ہے ۔ حج گویا خدا کے سامنے حاضری ہے۔ قیامت میں ہر شخص گرفتار کر کے خدا کے یہاں حاضر کیا جائے گا ، حج کے موقع پر عرفات کے میدان میں ہو پہنچنا گویا خود اپنی مرضی سے خدا کے یہاں حاضر ہو جانا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ۔