حج اور اتحاد
Al-Risala, August 1986, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کا ایک پہلو اسلامی اتحاد ہے۔ حج کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہوتے ہیں اور ایک ساتھ حج کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ حج مسلمانوں کا عالمی دینی اجتماع ہے ۔ اس سلسلہ میں ہیں اور ایک ساتھ حج کے تمام ارام ادا ہوتے ہیں۔ قرآن کی چند آیتوں پر غور کیجیے : واذ جعلنا البيت مثابة للناس و آمنا (البقرہ ۱۳۵)
ان اول بيت وضع للناس للذى ببكة مباركاً وهدى للعالمين ۔
(آل عمران ۹۶)
جعل الله الكعبة البيت الحرام قياما
فاجعل افئدة من الناس تهوى اليهم (ابراهيم ۳۷)
واذن في الناس بالحج يأتوك رجالاً وعلى كل ضامر يأتين من كل فج عميق
یوں کا شاہد اور تدریبی اجتماع ہے۔ اس سلسلے میں اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن کا مقام بنا دیا ۔
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے ، برکت والا اور سارے جہاں کے لیے ہدایت کا مرکز ۔
اللہ نے کعبہ، حرمت والے گھر، کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔
پس اے اللہ، تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے ۔
اور تم لوگوں میں حج کے لیے پکار دو کہ وہ تمہاری طرف آئیں پیدل چل کر اور سوار ہو کر، وہ دُبلے اونٹوں پر چلے آئیں دور کی راہوں سے ۔ توحید کا عالمی مرکز قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے ذریعہ حجاز میں کعبہ کی تعمیر خاص طور پر پروین شاکر کی شاعری میں منفرد اسلوب کے علاوہ
اس لیے کی گئی تھی کہ وہ اہلِ توحید کا مرکز بنے۔ قریب کے لوگ بھی آئیں اور دور کے لوگ بھی سواریوں کے ذریعہ وہاں پہنچیں۔ کعبہ کے گرد ایسے تاریخی اسباب پیدا کیے گئے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف کھنچیں، اور ہر طرف سے لوگ امنڈ کر وہاں پہنچیں۔ بیٹھے اللہ قیامت تک کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا عالمی اسلامی مرکز ہے۔ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع گاہ ہے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں سے پکار کر کہو کہ وہ سفر کر کے اس گھر کے حج کے لیے آئیں :
قال يا رب كيف ابلغ الناس وصوتي لا ينفذهم حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب کیسے میں فقال ناد وعلينا البلاغ ۔ فقام علی الحجر لوگوں کو پکاروں اور میری آواز ان تک نہیں وقال يا ايها الناس ان ربكم قد اتخذ پہنچنے گی۔ اللہ نے کہا تم پکارو اور ہمارے اوپر بيتا فحجوه ـ فيقال ان الجبال تواضعت ہے پہونچانا۔ پس حضرت ابراہیم پتھر پر کھڑے حتى بلغ الصوت ارجاء الارض وسمع ہوئے اور کہا کہ اے لوگو، تمہارے رب نے ایک من فى الارحام والاصلاب واجابه گھر مقرر کیا ہے، تم اس کا حج کرو۔ پس کہا جاتا ہے كل شي سمعة من حجر ومدر وشجر کہ پہاڑ جھک گئے یہاں تک کہ آواز زمین کے ومن كتب الله انه يحج الى يوم کناروں تک پہونچ گئی اور انھوں نے بھی سن لیا القيامة ، ببيك اللهم لبيتك ۔ جو رحم میں تھے۔ اور پتھر اور خیمہ اور درخت اور (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث، صفحه ۲۱۶) جس پر قیامت تک اللہ نے لکھ دیا تھا کہ وہ حج کرے گا سب نے سنا اور یہ کہا : ہم حاضر ہیں خدایا ہم حاضر ہیں ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم نے جس وقت پکارا عین اسی وقت حال اور مستقبل کے تمام لوگوں نے آپ کی آواز کو سن لیا۔ حضرت ابراہیم کی پکار علامتی پکار تھی۔ بے شک تمام لوگوں نے اس کو سنا۔ مگر یہ سننا اس وقت بالقوہ طور پر تھا نہ کہ بالفعل طور پر۔ حضرت ابراہیم کی پکار در اصل ایک مسلسل واقعہ کا آغاز تھا۔ آپ نے اپنے وقت میں پکارا۔ آپ کے بعد دوسرے لوگوں نے آپ کی آواز کو لے کر اسے دوسروں کو سنایا۔ پھر اسی طرح لوگ نسل در نسل پکارتے رہے۔ پریس اور ریڈیو کا دور
آوازہ بلند کیا کہ تم نے میرے نام کا شوہڑا بنایا ہے اس لئے میں تمہیں قتل کرنا چاہتادوں اُسے زمانے کی غفلتوں سے آگاہ کیا آیا تو پریس اور ریڈیو کے ذریعہ یہ پکار مزید تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہوئی ۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں کو پار کر کے دور دور تک پہونچ گئی ۔ یہاں تک کہ اس کا اندیشہ ہو گیا کہ کوئی شخص بھی اس پیغمبرانہ پکار پر پر پھ پھ کو سننے سے خالی رہ جائے ۔
حج اجتماعی امور کے اعلان کا فطری مقام ہے۔ چنانچہ اسلام کے اہم ترین امور کا اعلان حج کے موقع پر کیا گیا ۔ اس کی ایک مثال برات ہے جو سورہ توبہ کے اترنے کے بعد کیا گیا۔ مکہ رمضان 8ھمیں فتح ہوا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں تین حج ابتدائی دو حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے ۔ آپ نے صرف ہ میں حج ادا فرمایا جو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آپ کی وفات ہوگئی ۔ ۹ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق کو امیر الحجاج مقرر فرمایا اور ان کے ساتھ دوسرے صحابہ حج کے ارادے سے مکہ روانہ ہوئے ۔ حضرت ابو بکر کی روانگی کے بعد سورہ توبہ کا ابتدائی حصہ نازل ہوا جس میں یہ حکم تھا کہ اس بات کا اعلان کر دو کہ اللہ اور رسول مشرکین سے اور اب آخری فیصلے کے لیے انھیں صرف چار مہینے کی مہلت دی جاتی ہے ۔ میں روایات میں آتا ہے :
لما نزلت براءة على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد كان بعث ابا بكر ليقيم الحج للناس فقيل يا رسول الله ، لو بعثت الى ابي بكر فقال : لا يؤدى عنى الا رجل من اهل بيتي ۔ ثم دعا عليا فقال : اذهب بهذه القصة من سورة براءة و اذن فى الناس يوم النحر اذا اجتمعوا بمنى انه لا يدخل الجنة كافر ولا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر برأت اتری ، اور آپ حضرت ابوبکر کو بھیج چکے تھے کہ وہ لوگوں کو حج ادا کرائیں ، اس وقت کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، آپ اس کو ابو بکر کے پاس بھیج دیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے گھر کا کوئی آدمی اس کو انجام دے سکتا ہے ۔ آپ نے حضرت علی کو بلایا اور کہا کہ سورہ برأت کے اس معاملہ کو لے کر جاؤ اور یوم النحر کو جب لوگ منی میں جمع ہوں تو ان کے درمیان اعلان