نفاذ شریعت
Al-Risala, January 1986, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کتاب ہدایت بھی ہے اور کتاب دعوت بھی۔ ہدایت ہونے کے اعتبار سے قرآن میں وہ سب باتیں اپنی کامل صورت میں درج ہیں جو انسان کی حقیقی صلاح و فلاح کے لیے ضروری ہیں۔ اعتبار سے قرآن نے کسی چیز کو ادھورا نہیں چھوڑا ہے۔ بلکہ ہر چیز کو کامل طور پر بیان کر دیا ہے۔ مگر دعوت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ دعوت میں مدعو کے حالات کی رعایت بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ یہی دوسرا پہلو ہے جس نے قرآن میں "نسخ" کا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ کے پہلو سے قرآن معیار اعلیٰ کو سامنے رکھتا ہے۔ مگر دعوت واصلاح کے پہلو سے اس میں یہ ابدی رہنمائی بھی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ لوگوں کے مزاج کی رعایت سے کس طرح تدریجی اصلاح کا طریقہ اختیار کیا جائے اور حالات کے فرق سے کس طرح احکام کے نفاذ میں فرق کیا جائے۔
موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں یہ مہم چل رہی ہے کہ شریعت کے قوانین کو حکومت کی طاقت سے جاری و نافذ کیا جائے۔ مگر اس قسم کی تمام کوششیں اب تک سراسر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ یہ تمام تحریکیں "نسخ" کی حکمت کو ملحوظ رکھے بغیر چلائی جا رہی ہیں۔ اسلامی قانون کو نافذ کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے حق میں ذہنی فضا تیار کی جب معاشرہ کی قابل لحاظ تعداد ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو جائے تو قانون کو جزئی طور پر نافذ کیا جائے ۔ پھر جیسے جیسے استعداد میں اضافہ ہو قانون کے مزید اجزار نافذ کیے جائیں۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے پورا قانون اپنی آخری شکل میں نافذ کر دیا جائے ۔ شریعت کی یہی خاص حکمت ہے جس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لفظوں میں بیان
انما نزل اول ما نزل سورۃ من المفصل قرآن میں پہلے وہ مفصل سورتیں اتاری گئیں جن میں
فيها ذكر الجنة والنار، حتى اذا تاب جنت اور جہنم کا بیان ہے۔ یہاں تک کہ جب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام۔ لوگ اسلام کے لیے ہموار ہوگئے تو حلال و حرام کے ولو نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو لقالوا لا ندع الخمر ابداً ولو نزل تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً ۔ اگر یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا (بخاری باب تالیف القرآن) نہ چھوڑیں گے۔
شریعت کی یہ حکمت قرآن سے اور سیرت رسول سے انتہائی واضح ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے پرجوش اسلامی قائدین اس شرعی حکمت کو ملحوظ نہ رکھ سکے اور اسی لیے وہ ناکام رہے۔ ستمبر ۱۹۸۳ میں سوڈان میں سابق صدر نمَیری اور الاخوان المسلمون نے ملک میں کامل شراب بندی کا اعلان کیا۔ انھوں نے بعض دکانوں پر چھاپہ مار کر شراب کی کچھ بوتلیں حاصل کیں ۔ اور ان کو توڑ کر ان کی شراب دریائے نیل میں بہادی۔ مگر اس کے بعد یہ منظر دیکھنے میں نہیں آیا کہ دورِ نبوت کے مدینہ کی طرح سوڈان کی سڑکوں اور گلیوں میں بھی شراب بہائی جانے لگے۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر اسلام نے تدریج کے اصول پر شراب کو بند کیا تھا۔ جب کہ سوڈان کے اسلامی لیڈروں نے اچانک شراب کو بند کرنا چاہا۔ چنانچہ وقتی تالیوں کی گونج اور چند دن کی اخباری سرخیوں کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہو سکا۔ صرف ایک سال بعد سوڈان کی " اسلامی حکومت " ختم ہوگئی۔ اور اسی کے ساتھ اس کے اسلامی احکام بھی ۔
یہی حال موجودہ زمانہ میں ان تمام مسلم ملکوں کا ہوا ہے جہاں انقلابی مسلم لیڈروں نے اسلامی قوانین کو نافذ کرنا چاہا۔ اسلام کی حکمت نسخ کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں صد فی صد ناکام ہو کر رہ گئیں۔ لفظی ہنگاموں کے سوا ان کے حصہ میں اور کچھ نہ آیا۔ سید احمد شہید کی مثال مسلمان پچھلے تقریباً ڈیڑھ سو سال سے اسی ناکام کہانی کو دہرارہے ہیں۔ وہ "نسخ" کے قرآنی اصول پر عمل کیے بغیر اقدام کرتے ہیں اور پھر سراسر ناکام رہتے ہیں ۔
اس سلسلہ کا پہلا نمایاں واقعہ سید احمد شہید بریلوی (۱۸۳۱ - ۱۸۰۵) کی وہ تحریک تھی جس کو
عام طور پر تحریکِ مجاہدین کہا جاتا ہے ۔ وہ یو پی، بہار اور بنگال سے اپنے معتقدین کو لے کر پنجاب پہنچے۔ وہاں انھوں نے پشاور کو "فتح" کیا اور اس میں اسلامی قانون کی حکومت قائم کر دی۔ مگر یہ اسلامی حکومت بہت تھوڑے عرصہ میں ختم ہو گئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں کے اوپر اسلامی قانون کی حکومت قائم کی گئی وہ اگرچہ نسلی طور پر مسلمان تھے مگر اسلامی قانون کو قبول کرنے کا مزاج ان کے اندر بالکل پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ مقامی مسلم آبادی سید صاحب کے عمّال کی باغی ہو گئی۔ کے قبائلی سرداروں نے سید صاحب کے آدمیوں کو قتل کر ڈالا ، اور خود سید صاحب کا یہ حال ہوا کہ انھوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے انتہائی غیر حکیمانہ جنگ چھیڑ دی اور اس میں لڑتے ہوئے ۶ مئی ۱۸۳۱ء کو قتل کر دیئے گیے۔ اسلامی حکومت بننے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔
ایک مورّخ نے سید احمد شہید بریلوی کے حالات لکھتے ہوئے آخر میں حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں: " مجاہدین کی اکثریت صرف نعرۂ جہاد پر جمع ہو گئی تھی ۔ ان کی تربیت نہ ہو سکی تھی ۔ اس لیے اسلامی حکومت کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالنا ان کے بس کا روگ نہ تھا۔ انھوں نے جس علاقہ میں اسلامی حکومت قائم کی وہاں کے عوام کے ذہن کو پہلے اس کے لیے تیار نہ کیا۔ سید صاحب کی حکومت نے اسلامی قانون کو نافذ کرتے ہوئے تدریج کا خیال نہ رکھا اور سارا اسلامی قانون فوراً نافذ کر دیا۔ اس سے عوام کے اندر اضطراب اور بے چینی پھیل گئی "
تاریخ پاکستان و ہند، از شیخ محمد رفیق ایم اے، لاہور ۱۹۷۲ء، صفحہ ۳۵۳ مسلمانوں کے پرجوش لیڈروں کو نہ قرآن و سنت سے ہدایت ملی اور نہ ماضی اور حال کے واقعات ان کی آنکھ کھولنے والے ثابت ہوئے۔ وہ ایک ہی ناکام کہانی کو ڈیڑھ سو سال سے مسلسل دہرائے چلے جا رہے ہیں۔